Home / فلکیات / یہاں تو سارے کا سارا جمال حیرت ہے

یہاں تو سارے کا سارا جمال حیرت ہے

(جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے لی گئی میری پسندیدہ تصویر)

آج صُبح سے مصروفیت کی وجہ سے جیمز ویب کی تصاویر پر کچھ لکھ نہیں سکا، لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ میں ان تصاویر سے آگاہ ہی نہیں تھا۔ کائینات کے حیرت کدے سے عکس لئے جائیں اور مجھ سا دیوانہ ان کے حُسن میں کھو نہ جائے یہ کیسے ممکن ہے۔

میں نے اس سلسلے میں بہت سارے حضرات کی پوسٹس دیکھی ہیں جس میں جنوبی رِنگ نیبولا

 

(Southern Ring Nebula)

کی تصویر دکھائی گئی اور تقریباً سبھی نے یہ کہا ہے کہ اس کی اہمیت یہ ہے کہ جیمز ویب کی لی گئی تصویر بہت صاف ہے جوکہ ایک درست بیان ہے۔ لیکن اس میں ابھی تک کسی نے جو اس تصویر کی سب سے اہم ترین بات ہے وہ نہیں بتائی۔ اس پوسٹ میں اس اہم پہلو کو زیرِ بحث لایا جائیگا۔

 

جنوبی رِنگ نیبولا

اس کا نام این جی سی 3132 بھی ہے اور یہ زمین سے کوئی دو ہزار نوری برس کی دوری پر ہے اور صرف جنوبی کُرے سے نظر آتا ہے۔ اس کی بیشتر خوبصورت تصاویر ہبل ٹیلی اسکوپ نے بھی لی تھیں (تصویر نمبر: 1). ہبل ٹیلی اسکوپ کی لی گئی تصاویر میں اس نیبولا کے مرکز میں ہم ہمیشہ ایک ہی ستارہ دیکھا کرتے تھے۔

اسی نیبولا کی جو تصویر اب جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے لی ہے (تصویر نمبر: 2) یہ زیادہ شارپ ہونے کی وجہ سے ہمیں بہت سی نئی چیزیں بھی دکھا رہی ہے۔ اس نئی تصویر میں آپ واضح طور پر اس نیبولا کے مرکز میں ایک اور ستارہ بھی دیکھ سکتے ہیں یعنی اب ہمیں واضح طور پر دو ستارے نظر آرہے ہیں۔ اس میں جو ستارہ مدھم سا ہے یہ دراصل وہ ستارہ ہے جو تباہ ہوچُکا ہے اور پہلی دفعہ اتنی صفائی سے دیکھا گیا ہے زیادہ روشن ستارہ اور تباہ ہونے والا مدھم ستارہ آپس میں ایک قدرے چھوٹے سے مدار میں محوِ گردش ہیں۔

ان رِنگز میں سے ہر ایک رِنگ مدھم ستارے کے اُن تمام مراحل کا حافظہ لئے ہوئے ہے جس میں اس نے اپنا بہت سارا ماس خلاء کھو دیا تھا مرکز کے قریب والے رِنگز نسبتاً حالیہ ہیں اور مرکز سے دور والے اول اول میں ہونے والی اس کی تباہی کی داستانوں کے امین ہیں۔ اور یہ روشن ستارہ اس نیبولا کی انفرادی ظاہری حالت کو کسی ماہر کمہار کی طرح اپنے چاک پر یوں ترتیب دیتا ہے کہ یہ دونوں جب ایک دوسرے کے گرد گردش کرتے ہیں تو ارد گرد کے مواد کو مُختلف طور پر بکھیرتے ہیں جس سے عجیب عجیب پیٹرن بنتے ہیں۔

اس قسم کے نیبولا کو سیاروی نیبولا کہتے ہیں اس لئے کہ یہ دوربین کے ابتدائی ادورا میں دوربینوں میں سیارے کی طرح ایک روئی کا گالہ سا لگتا تھا اس لئے شروع شروع میں ان کو سیاروی نیبولا کہا گیا۔ ان کا مُشاہدہ یوں ہے کہ گویا آپ کسی ستارے کی تباہی کی فلم نہایت ہی سُست رفتار سلو موشن میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ دھول جو یہ ستارے خلاء میں بکھیر رہے ہیں یہ انٹر سٹیلر میڈیم میں کئی بلئین سال تک سفر کرتی کرتی ممکن ہے کسی نئے ستارے کی تخلیق اور اس کے سیاروں کا حصہ بن جائے اور اس میں بننے والے عناصر کسی آنے والی نئی تہذیب میں کسی کے کے گھر کے برتن یا کسی عاشق کی معشوق کے ماتھے کا جھومر بنیں۔ اسی لئے کارل سیگان نے کہا تھا کہ “ھم ستاروں کی راکھ سے بنے ہوئے ہیں”

ہزروں سال بعد اس نیبولا کی یہ تہیں مِٹ جائیں گی اور اس حسین تباہی کا یہ حافظہ سرد خلاؤں میں کھو جائیگا

 

حرفِ آخر

اس تصویر کا اصل حُسن اس میں پنہاں مدھم ستارے کا پہلی دفعہ دیکھا جانا ہے اس حقیقت سے لطف اندوز ہوں

۔ اس مُختصر سے مضمون کا ٹاٹیل پاکستان کی شاندار شاعرہ اور ہمارے گروپ کی ممبر محترمہ تسنیم عابدی کے اس شعر کے دوسرے مصرعے سے لیا گیا ہے۔

؎

ہوئی طلسم زدہ جب یہ آئنے نے کہا

یہاں تو سارے کا سارا جمال حیرت ہے

 

حوالہ جات۔

ناسا کی ویب سائیٹ پر یہ تمام تفاصیل اس لنک سے لی جاسکتی ہیں

https://tinyurl.com/3ann4fk5

 

نوٹ:

اگر آپ کو جیمز ویب دوربین کی تصاویر میں ڈیٹیل دیکھنا ہے تو ناسا کی وہب سائٹ پر جا کر ہائی ریزولوشن پکچرز ڈاؤن لوڈ کیجیے اور پھر اسے زوم کر کے اس میں ڈیٹیل دیکھیے۔ فیس نک پر تصاویر کی ریزولوشن بہت کم ہوتی. ہے

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published.