Home / فلکیات / گریوٹیشینل ویووز

گریوٹیشینل ویووز

گریوٹیشنل ویوز بلیک ہول سے فرار کیسے ہوتی ہیں ؟

تعارف

ہم اکثر سُنتے ہیں کہ بلیک ہول سے کُچھ بھی فرار نہیں ہوسکتا اور اس کو اکثر و بیشتر توجہ حاصل کرنے کے لئے بڑی سنسی خیزیت پھیلاتے ہوئے یوں بھی کہا جاتا ہے کہ “حتیٰ کہ روشنی بھی یہاں سے فرار نہیں ہوسکتی” پھر دوسرے کُچھ حضرات ہاتھ گھُما گھُما کے واضح بھی کرتے ہیں کہ دیکھیں جب اسپیس۔ٹائیم کی چادر میں خم پڑتا ہے تو امواج پیدا ہوتی ہیں اور سوائے گریوٹی کے وہاں سے کُچھ فرار نہیں ہوسکتا۔ اس میں کیا حقیقت ہے اس مضمون میں ہم ایسے غلط تصورات کا جائیزہ لیں گے اور سائنس کی دُرست تفہیم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، اس مضمون میں کسی اسپیس۔ٹائیم کی چادر میں کوئی خم نہیں ڈالا جائیگا گے۔

 

گریوٹیشنل ویوز آخر ہیں کیا ؟

کسی بھی نظریہ کا ایک اہم پہلو اس میں کسی نئے مظہرِ فطرت کی پیشین گوئی کرنا بھی ہوتا ہے کیونکہ کوئی نیا سائنسی نظریہ کائینات کے مظاہر کی ایک قدرے مُکمل اور نئی تعبیر پیش کرتا ہے اس لئے یہ ہمیں حقیقت کے کُچھ ایسے پہلوؤں سے بھی روشناس کرتا ہے جس کا ہمیں پہلے سے علم ہی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ نیوٹن کے نظریات سے ہمیں نیپچون سیارے کی موجودگی کا علم ہوا جیسے جیمز کلارک میکسول کی الیکٹرومیگنیٹک مساواتوں سے ہمیں روشنی کی رفتار اور اس کی امواجی فطرت کا علم ہوا ایسے ہی آئین شٹائین کے عمومی نظریہ اضافیت سے ہمیں جہاں بلیک ہولز کے ہونے کے امکان کا علم ہوا وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ جس مظہرِ فطرت کو ہم گریوٹی کہتے ہیں وہ دراصل کسی مادی جسم کی نواح میں اسپیس۔ٹائیم کی مُنفرد جیومیٹری میں ہونے والی حرکت ہی کا نتیجہ ہے۔ اس کا ایک لازمی نتیجہ یہ تھا کہ اگر کوئی سے بھی دو اجسام باہم مدار میں ہیں تو یہ اسپیس۔ٹائیم میں امواج پیدا کریں گے ان امواج کو گریوٹیشینل ویوز کہتے ہیں۔ اس کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ یہ امواج کائینات میں ممکنہ حدِ رفتار پر سفر کرتی ہیں، اس ممکنہ حدِ رفتار کو بعض لوگ “روشنی کی رفتار” بھی کہہ دیتے ہیں۔ یہ امواج دو ہزار پندرہ میں انسانیت نے دریافت بھی کرلیں جو دور دراز کی ایک کہکشاں میں دو نیوٹران ستاروں کے باہم ٹکرانے سے پیداہوئیں تھیں اور جن کو ہم نے یہاں زمیں پر نہایت حساس آلات سے محسوس کرکے دریافت کیا یہی نہیں اس کے بعد بھی بہت دفعہ ایسی امواج کا مُشاہدہ کیا جا چُکا ہے۔

 

کیا گریوٹیشنل ویوز صرف بلیک ہول اور نیو ٹران سٹارز کے مدار میں ہی پیدا ہوتی ہے ؟

جب کبھی بھی گریوٹیشنل وویوز کی بات ہوتی ہے تو اس تناظر میں ہمیشہ نیوٹران سٹارز ، بلیک ہولز کا ہی ذکر ہوتا ہے تو اکثر لوگ اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ گریوٹیشنل وویوز پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نیوٹران سٹارز یا بلیک ہولز کا تصادم ہو حالانکہ درست یوں ہے کہ ہر ماس رکھنے والا جسم جو ایکسلریٹ ہورہا ہوتا ہے تو وہ گریوٹیشنل وویوز پیدا کرتا ہے یعنی سائلینسر نکال کے زور سے گلی میں سے موٹر سائیکل چلا کے لیکر جانے والاچھچھورا نوجوان بھی یہ ویوز پیدا کرتا ہے، اور زمین سورج کے گرد اپنے مدار میں بھی یہ ویوز پیدا کرتی ہے۔

گریوٹیشینل ویوز کی اقسام

عمومی طور پر گریوٹیشنل ویوز کی دو اقسام ہوتی ہیں

مسلسل گریوٹیشنل ویوز؛ یہ قسم ابھی تک دریافت نہیں ہوئیں لیکن خیال کیا جاتا ہے جب کوئی ایک بہت بڑا ستارہ (نیوٹران سٹار) وغیرہ اپنے محور میں گھومتا ہے تو اس قسم کی ویوز پیدا ہوتی ہیں

دو نہایت کثیف اجسام کے ایک دوسرے میں ضم ہونے سے پیدا ہونے والی گریوٹیشنل ویوز؛ یہ دریافت ہوچُکی ہیں اور یہ تب پیدا ہوتی ہیں جب دو نہایت کثیف اجسام ایک دوسرے میں ضم ہوتے ہیں تو اس کے لئے ممکنہ امکان ہے کہ دو نیوٹران سٹارز باہم ضم ہوں یا دو بلیک ہولز ضم ہوجائیں یا پھر ایک بلیک ہول اور ایک نیوٹران سٹار آپس میں ضم ہوجائیں۔

جب کسی چیز (میڈئیم) میں امواج پیدا ہوتی ہیں تو اس ارتعاش میں کُچھ اینرجی صرف ہوتی ہے کیونکہ نیوٹران سٹارز اور بلیک ہولز بہت زیادہ کثیف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ارد گرد گریوٹی بہت زیادہ اسٹرانگ ہوجاتی ہے اس اسٹرانگ گریوٹیشینل فیلڈ میں ان تعاملات سے پیدا ہونے والی امواج ایسی ہوتی ہیں کہ وہ کائینات کے کناروں تک نہایت حساس آلات سے محسوس کی جاسکتی ہیں اور ساتھ ساتھ یہ اینرجی بھی لے کے جاتی ہیں اس اینرجی کے خرچ کی وجہ سے اس قسم کے گردش کرتے ہوئے نیوٹران سٹارز اپنا مدار کھوتے جاتے ہیں اور بالآخر ایک دوسرے میں ضم ہوجاتے ہیں۔

 

کیا گریوٹیشنل ویوز بلیک ہول سے فرار ہوسکتی ہیں؟

اس سوال کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ کیا گریوٹی بلیک ہول سے فرار ہوسکتی ہے؟ یعنی اگر دور دراز کی گیس کے بادل، ستارے وغیرہ بلیک ہول کی گریوٹی سے کھچے چل آتے ہیں تو یہ گریوٹی وہاں سے نکل کیسے آتی ہے ؟ یہ تو پیراڈاکس ہوگئی۔ جب بھی کبھی آپ کو کسی پیراڈاکس کا سامنا ہو تو ایک بات ذہن میں رکھئے کہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی بات صحیح طرح سے سمجھ نہیں آرہی۔ یہاں بھی یہی مسئلہ ہے۔

یہاں جو چیز ابہام پیدا کررہی ہے وہ خود گرویٹی کا تصور ہے، گریوٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو سورج سے نکل کے آن کر زمین پر گرتی ہے بلکہ سورج کی موجودگی اسپیس۔ٹائیم پر یوں اثر ڈالتی ہے کہ اجسام اس کے گرد ایک خمدار خطِ حرکت میں حرکت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اب ہم ساری تاریخ میں خمدار حرکت کو کسی فورس سے تعبیر کرتے رہے ہیں اس لئے ہم گریوٹی کو ہمیشہ اس تناظر میں ایک فورس سمجھتے ہیں جو کسی دوسرے جسم سے نکل کے دوسرے کسی جسم تک پہنچتی ہے لیکن ان معنوں میں گریوٹی فورس نہیں بلکہ کسی مادی جسم کے گرد اسپیس۔ٹائیم کی ایک مُنفرد جیومیٹری کی وجہ سے ہونے والی حرکت کو ہم گریوٹی کہتے ہیں۔

گریوٹی یا گریوٹیشینل ویوز بلیک ہول سے فرار نہیں ہوتیں بلکہ اس کی موجودگی سے اسپیس۔ٹائیم پر پڑنے والے اثرات میں سے ایک یہ اثر بھی ہوتاہے جس کے لئے اس کو بلیک ہول سے فرار ہونے کی ضرورت نہیں۔

زمین کے مدار میں پیدا ہونے والی گریوٹیشینل ویوز

اب تھوڑا سا ریاضی استعمال کریں گے اگر ریاضی کے فارمولے دیکھ کے آپ کو ٹھنڈے پسینے آنے لگتے ہیں تو آپ آسانی یہ فارمولا نظر انداز کرسکتے ہیں اور اس نکلنے والے نتائیج پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاور فی سیکینڈ اینرجی کے استعمال ہونے کو کہتے ہیں اور اگر کوئی سے دو اجسام ہوں جن کا ماس m₁ اور m₂ ہو اور یہ ایک دوسرے سے r فاصلے پر محوِ گردش ہوں تو اس صورت میں گریوٹیشینل ویوز کی صورت میں صرف ہونے والی پاور کا فارمولا یہ بنتا ہے

P = – 32G⁵(m₁m₂)²(m₁ + m₂)/5c⁵r⁵

یہ فارمولا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس طرح سے صرف ہونے والی پاور کی حساسیت اجسام کے باہمی فاصلے پر بہت زیادہ ہے یعنی فاصلہ کم ہوتے ہوتے یہ پاور r⁻⁵ کے تناسب سے بڑہتی جائیگی یعنی قریب آنے سے پاور کا زیاں بہت زیادہ ہوتا جائیگا اور ایسے ہی اگر دو اجسام کا ماس زیادہ ہوتو بھی اس پاور کا زیاں بہت زیادہ ہوگا۔ اس میں جب ہم زمین اور سورج کا ماس ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زمین اپنے مدار میں ہر سیکنڈ میں کوئی دو سو واٹ کی پاور گریوٹیشینل ویوز کی وجہ سے کھو دیتی ہے۔ سال بھر کا یہ سب زیاں مِلا کے بھی یہ اس قدر کم ہے کہ ایک پورے سال میں اس کی وجہ سے زمین کے سورج کے گرد مدار میں صرف 0.00000000000001 سینٹی میٹر کمی آتی ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر ہم باقی کے تمام فیکٹرز کو بھول جائیں تو صرف اور صرف اس وجہ سے زمین کو سورج میں جاگرنے کے لئے ایک سو بلئین ٹرلئین سال لگیں گے یہ کائینات کی موجودہ عمر (کوئی چودہ بلئین سال) سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ یعنی زمین کے مدار میں اس گردش سے پیدا ہونے والی گریوٹیشینل ویوز اس قدر نحیف و ناتواں ہوتی ہیں کہ فی الوقت ان کے دریافت ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

 

حرفِ آخر

گریوٹیشنل ویوز بلیک ہول سے فرار ہوکے نہیں آتیں ، بلکہ بلیک ہول کی موجودگی سے اس کے باہر اسپیس۔ٹائیم میں پیدا ہونے والے بگاڑ سے پیدا ہوتی ہیں

گریوٹیشنل ویوز ہر اکسیلیرٹڈ جسم پیدا کرسکتا ہے لیکن ان کو حساس آلات سے محسوس کرنے کے لئے ان اجسام کو بہت زیادہ ماس کا حامل ہونا چاہئے جو نیوٹران سٹارز اور بلیک ہولز میں ممکن ہے۔

 

آرٹیکل کے دیگر لنکس

پی ڈی ایف کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے

https://tinyurl.com/4949tezk

گوگل ڈاکس کا لنک

https://tinyurl.com/bdesxej8

حوالہ جات

https://www.ligo.caltech.edu/page/gw-sources

https://tinyurl.com/2p832wcv

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published.