Home / فلکیات / سورج کا ملکی وے کے گرد مدار

سورج کا ملکی وے کے گرد مدار

تعارف

حال ہی میں ہماری کہکشاں کے مرکز میں موجود دیو ہیکل بلیک ہول کی تصویر کا چرچا رہا ہے جس سے ہر طرف سے سائنس کی تشہیر میں مشغول یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا پر لکھنے والوں نے ایک تہلکہ مچارکھا ہے کہ دیکھیں سورج ملکی وے کے مرکز میں موجود بلیک ہول کے گرد گردش کرتا ہے وغیرہ وغیرہ جہاں موجودہ دور میں سائنس کی خبریں آن کی آن میں دُنیا بھر کی طرح پاکستان کے بھی ہر علاقے میں پہنچ جاتی ہیں وہیں اس کا ایک نُقصان یہ بھی ہے کہ لوگ خبر دینے اور اپنے ممبران بڑھانے کی دوڑ میں درست سائنس پر توجہ دینے کی بجائے اپنی گنجی کانی سمجھ کی بُنیاد پر جو مُبہم سی تصویر بنتی ہے اُس کو سائنس سیکھنے والے قاری کے ذہن پر نقش کرتے جاتے ہیں حالانکہ اگر ایسی خبر جلد بازی میں نہ دی جائے تو وہ غلط ویڈیو بنانے سے کہیں بہتر ہے۔ ایسے تمام شعبدہ بازوں سے آپ ہُشیار رہیں، یہ یاد رہے سائنس ہی انسانیت کی بقا کی ضامن ہے اس کی درست تفہیم ہی ہمیں اس قابل بنائے گی کہ ہم سائنس کی ترقی میں اپنا کرادر ادا کرسکیں۔

اس مضمون میں اس غلط تصور کے حوالے سے بات کی جائیگی کہ سورج ملکی وے کے مرکزی بلیک ہول کے گرد محوِ گردش ہے۔ یاد رہے کہ یہ بات عین درست ہے کہ سورج ملکی وے کے مرکز کے گرد محوِ گردش ہے اور یہ بھی کہ اس مرکز میں ایک دیو ہیکل بلیک ہول بھی موجود ہے لیکن سورج کی اس گردش کی وجہ وہ دیو ہیکل بلیک ہول ہرگز نہیں بلکہ اگر یہ بلیک ہول نہ بھی ہو تو سورج کی ملکی وے کے گردش پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

یہ ایک عمومی غلط فہمی ہے کہ سورج مرکزی بلیک ہول کے گرد ویسے حرکت کرتا ہے جیسے زمین سورج کے گرِد محوِ گردش ہے. زمین اور دیگر سیاروں کی سورج کے گرد حرکت کی وجہ سورج کا بے پناہ ماس ہے یاد رہے پورے نظامِ شمسی کے ماس کا 98 فیصد ماس صرف سورج کی سطح کے نیچے چھُپا ہوا ہے۔ اس لئے یہ ایک قدرتی امر ہے کہ ہم کائینات میں جہاں بھی مداروی گردش دیکھیں وہاں یہ فرض کرلیں کہ ہو نہ ہو اس گردش کی وجہ بھی وہی ہوگی جو زمین کی سورج کے گرد گردش کی ہے۔

لیکن یہ حقیقت سے بہت دور ہے حقیقت کُچھ یوں ہے کہ اگر ہماری گیلیکسی کامرکزی بلیک ہول نہ بھی ہوتا اور بالفرض کل کلاں کو غائیب ہوجائے تو سورج کی گردش پر اس کا رتی برابر بھی فرق نہیں پڑے گا ( ہم یہاں کُلیتاً موجودہ گریوٹیشینل اثرات کی بات کررہے ہیں، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ملکی وے کے ارتقاء پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑے گا) یہ سب ہم تھوڑے بہت حساب کتاب سے بھی طے کرسکتے اس کے لئے ہمیں پیچیدہ اضافیاتی مارمولوں کی ضرورت نہیں ہم صرف نیوٹنی فارمولا سے بھی کام چلاسکتے ہیں۔

 

معلوم حقائیق

اب یہاں دئے گئے تمام حقائیق آپ بہ آسانی ابتدائی فزکس کی کُتب یا وکی پیڈیا سے حاصل کرسکتے ہیں اس لئے میں آپ سب کو کہوں گا کہ آپ یہ تمام حقائیق اپنے طور پر چیک بھی کیجئے اور یہ حساب کتاب خود سے کر بھی لیں۔ یہاں میں ضرب تقسیم عین درست نہیں کروں گا بلکہ کیونکہ نمبرز بہت بڑے ہیں اس لئے ہمارا کام صرف 10 کی پاورز سے ہی ہے اس لئے آسانی کے لئے میں 4.8 کو 4 کہیں 2.6 کو 2 کردوں گا اس کو میں “تقریباً حساب کتاب” کہتا ہوں آپ سارے درست نمبر ڈال کے جو حل نکالیں گے اُس سے عمومی جواب پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

 

سورج کا ماس

Mₒ = 2 × 10³⁰ Kg

ملکی وی کے مرکزی بلیک ہول بھائی جان کا ماس چار ملئین شمسی ماس کے برابر ہے اس کو ہم یو ں لِکھ لیتے ہیں

Mᵦ = 4 × 10⁶ Mₒ = 8 × 10³⁶Kg

G = 6.67 × 10⁻¹¹ m³/kgs²

اب اس مرکزی بلیک ہول بھائی صاحب سے سورج کا فاصلہ ہے چھبیس ہزار نوری برس اس کو ہم میٹرز میں کنورٹ کرلیتے ہیں

R=26000 Ly = 26000 × 9.5 × 10¹⁵m = 2.6 × 10²⁰m

اب نیوٹن صاحب بہادر کے دئے گئے گریوٹی کے فارمولے

F=G Mₒ Mᵦ/R²

سے ہم سورج کے فاصلے پر کسی بھی جسم پر ہونے والے اسراع ایکسلریشین کا یوں معلوم کرتے ہیں

F/Mₒ = GMᵦ/R²

اس میں یہ ویلیوز لگائیں اور کُچھ آسانی کے لئے ہم

4.8 = 4

اور

2.6 = 2

مان لیتے ہیں اس کیلولیشین کی آسانی سے اصل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اس لیے زیادہ جذباتی نہ ہوں کہ 4.8 کو تو 5 ہونا چاہئے تھا۔

F/Mₒ = 4.8 × 10²⁶/(2.6 × 10²⁰)² ≃ 4 × 10²⁶/(2 × 10²⁰)²

یعنی کہ مرکزی بلیک ہول سے سورج پر لگنے والی فورس سے جو ایکسلریشین ہے وہ

تو ہمارے پاس نظامِ شمسی میں جو مرکزی بلیک ہول کی وجہ سے ہونے والے ایکسلریشن کی ویلو آتی ہے وہ کم و بیش

²⁶/10⁴⁰ = 10⁻¹⁴m/s²

0.00000000000001m/s²

ہے جو بہت ہی کم اور خفیف سا ہے یعنی یہ آپ سے ایک میٹر دور پڑے آپ کے بستر کے تکئے کی گریوٹیشنل فورس سے بھی ہزار گُنا کم ہے یہ ذہن میں رکھیں کہ زمین کی سطح کے قریب یہ قیمت کم و بیش 10 میٹر فی سیکنڈ فی سیکنڈ ہوتی ہے یعنی اس بلیک ہول کے فیلڈ کی نسبت بہت ہی زیادہ سٹرانگ۔

اب اس سے جو ہمارے سورج کے اوپر اس بلیک ہول کی فورس بنتی ہے وہ اس طرح سے کیلکولیٹ کی جائیگی

F = 10⁻¹⁴ × 2 × 10³⁰ = 2 × 10¹⁶N

بنتی ہے جو ایک نظر میں آپ کو بہت زیادہ لگ رہی ہے لیکن یہ کم و بیش تین ماؤنٹ ایورسٹ کے وزن کے برابر بنتی ہے یعنی مرکزی بلیک ہول صاحب ہمارے سورج پر تین ماؤنٹ ایورسٹ کے برابر فورس لگارہے ہیں جو کہ سورج کے ماس کے تناظر میں نہ ہونے کے برابر ایک فورس ہے۔

 

نتیجہ

یہ کہنا درست نہیں کہ سورج ہماری گیلیکسی کے مرکزی بلیک ہول کے گرد محوِ گردش ہے سورج کی گیلکیسی کے مرکز کے گرد گردش کی وجہ سورج کے مدار اور مرکز کے درمیان میں موجود ستاروں کی کُل گریوٹی اور ایک ہنوز نامعلوم مادے کی قسم غیرمرئی مادے (جس کو بعض اوقات ہم ڈارک میٹر بھی کہتے ہیں) ہے۔ سورج کے مدار پر مرکزی بلیک ہول کا کوئی اثر نہیں ہے۔

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published.