Home / عمومی / دنیا پر منڈلاتا گلوبل وارمنگ کا خطرہ اور ہمارہ کردار

دنیا پر منڈلاتا گلوبل وارمنگ کا خطرہ اور ہمارہ کردار

دوستوں جیسا کہ آپ میں بہت سے لوگ جانتے ہیں کے اس وقت پوری دُنیا گلوبل وارمنگ جیسے خطرے سے دوچار ہے پھر چاہے وہ اوزون کی تہہ کا کمزور ہونا ہو یا پھر انٹارکٹیکا میں برف کا تیزی سے پگھل کر سمندروں کی سطح بلند کرنے کی وجہ بننا موسموں میں شدید تبدیلی ہو یا پھر تیزی سے درجہء حرارت میں اُتار چڑھاؤ فیکٹریوں کے زہریلے دھویں سے سانس کی بیماریوں کا عام ہونے سے لے کر آکسجین کی کمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار کہنے کا مطلب یہ کے ہم انسانوں سمیت اس زمین پر موجود تمام حیات شدید خطرات کا سامنا کررہی ہیں چونکہ انسان اس وقت اس گولے کی سب سے اشرف امخلوقات ہونے کے ساتھ باشعور اور عقلمند بھی ہیں اور ساتھ ہی دُنیا کے بگڑتے ماحول کے ذمہ دار کافی حد تک ہم انسان ہی ہیں تو فرض بھی ہمارا بنتا ہے کے اس کو پھر سے صاف ستھرا بنائیں اور خود سمیت دوسری حیاتیات کو بھی بچائیں جس طرح وہ ہمیں بچاتے آرہے ہیں خیر اس پر اقوام متحدہ نے بھی بہت سے اقدام کیے ہیں اور پوری دنیا گلوبل وارمنگ سے نپٹنے میں لگی ہے وہی ہم پاکستانیوں کا اس کام میں تقریباً نا کے برابر حصہ ہے دوستو جہاں دُنیا بھر میں نئے درخت لگائے جارہے ہیں وہیں ہم اُلٹا درخت لگانے کی بجائے درختوں اور جنگلوں کی تیزی سے کٹائی میں سب سے آگے ہیں اور وہیں دوسری جانب عمران خان کا کے پی کے میں درخت لگانے کا عمل قابلِ داد ہے دوستوں آج جب میں لیاقت پور سے واپس.گھر آرہا تھا تو مجھے ایک چیز دیکھ کر بہت دُکھ ہوا کے شہرِ لیاقت پور سے ایک کلومیٹر دُور تقریباً پانچ چھ ایکڑ میں پھیلے ذخیرے کو مکمل طور پر صاف کردیا گیا تھا اور کسی نے بھی اس خلاف کچھ ایک لفظ تک نا بولا نا لکھا نا ہی اظہارِ افسوس کیا

دوستوں ہم سب نے ہی سکول میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا پر منڈلاتے خطرے کے بارے ضرور پڑھا ہے لیکن کس نے عمل کیا؟ سو میں سے شاید کوئی ایک وجہ ایک ہی کے ہمیں گلوبل وارمنگ والے ٹاپک کو سمجھایا نہیں گیا بلکہ رٹایا گیا یہاں ہر کوئی رٹے مار کر بس نمبرز لینے کے چکر میں ہے اور اس سب میں سب سے بڑا کردار ہمارے تعلیمی نظام اور استادوں کا ہے خیر ہمارا موضوع گلوبل وارمنگ ہے تو اس پر ہی بات کرتے ہیں ہم میں سے اکثر لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کے یار چھوڑو دُنیا تو اتنے سو سالوں بعد ختم ہوگی ہم نے ویسی ہی مرجانا ہے پھر کیا فائدہ تو دوستوں یہ سب سے بڑی غلظ فہمی ہے ذرا سوچیے آج آپ اپنی کمائی زمین جائداد کیوں بچاکر رکھے ہوئے ہیں کیوں مزید اضافہ کرنا چاہتے ہیں آپ تو اس وقت بھی سب کچھ فروخت کرکے ایک پُرسکون زندگی گزار سکتے ہیں نا پھر یہ سب کیوں اس لیے نا کہ آپکی آئیندہ آنے والی نسلیں بھی اس طرح سے سکون اور عیش کی زندگی جی سکیں تو بلکل یہی چیز آپ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے اور درخت لگاتے وقت بھی سوچیں تو امید ہے کافی فائدہ ہوگا تو دوستوں آج سے سب لوگ عہد کریں کے کم ازکم ہفتے میں ایک درخت ضرور لگائیں گے اور ہمیشہ ماحول کو صاف رکھیں گے جتنا ہوسکے زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اپنے لیے نہیں تو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اس خوبصورت گولے(زمین) پر موجود دوسری حیات کے لیے اب جو درخت کٹ گئے ہیں ہم اُن کو تو واپس نہیں لاسکتے لیکن اپنا کردار ادا کرکے دوبارہ سے نئے درخت ضرور لگاسکتے😊
شکریہ –

(رائے سعود کی وال سے)

About مصعب

مصعب ابھی طالب علم ہیں۔زیادہ تر ادب اور تاریخ پر لکھتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں گہری سوچ کے مالک ہیں۔ان کی تحریریں انسان کی سوچ کو ایک الگ سمت دیکھاتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.