Home / اردو ادب / افسانے / برف کے قیدی

برف کے قیدی

“آپ دن میں کتنے گھنٹے سوتے ہیں؟” سر عاصم نے کلاس میں داخل ہوتے ہی وائٹ بورڈ پر سوال لکھا تو کلاس کے اکثر بچوں نے ہاتھ کھڑا کر دیا۔ یہ آٹھویں جماعت کی سائنس کی کلاس تھی۔ کلاسیں شروع ہوئے ابھی چند دن ہی ہوئے تھے۔ ابھی تک سب بچے اور اساتذہ ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کر رہے تھے۔

“میں تو رات کو 8 بجے ہی سو جاتا ہوں۔ اس کے بعد امی فجر پر ہی اٹھاتی ہیں۔” اس سے پہلے کہ سر عاصم کسی سے پوچھتے، سامنے والی قطار میں بیٹھا ایک گول مول سا بچا خود ہی بول پڑا۔ “لیکن میری امی تو کہتی ہیں: جو سوتا ہے، وہ کھوتا ہے۔۔۔ انسان کو آرام کم اور کام زیادہ کرنا چاہیے۔” اس کے ساتھ والے لڑکے نے جھٹ سے جواب دیا۔ سر عاصم نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف لڑکوں سے یہی سوال پوچھا ، اور ہر کسی نے اپنے حساب سے جواب دیا۔

” آپ بتائیں بیٹا آپ کتنی دیر سوتے ہیں؟” اچانک انہوں نے تیسری قطار میں بیٹھے ایک لڑکے سے سوال کیا جس نے ہاتھ بھی کھڑا نہیں کیا تھا۔۔۔ یہ سعد تھا، کلاس کا سب سے شرارتی لڑکا۔۔۔ سکول کے اکثر اساتذہ اس کی شرارتوں سے تنگ تھے۔ وہ ذہین تھا، لیکن اسے پڑھائی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اس کی ساری ذہانت اس کی شرارتوں پر صرف ہوتی تھی۔

“سر جب تک کلاس چلتی رہے”سعد کے جواب پر ساری کلاس قہقہوں سے گونج اٹھی ۔ سر عاصم کے چہرے پر مسکان بتا رہی تھی کہ انہوں نے بھی اس لطیفے کو سراہا تھا۔ وہ باقی تمام ٹیچرز سے الگ تھے۔۔۔ کم از کم سعد کو ایسا لگتا تھا۔ وہ سعد کی شرارتوں پر ڈانٹنے یا مارنے کی بجائےخوش ہوتے تھے۔

“چلیں آج میں آپ کو کچھ ایسے جانداروں کے بارے میں بتاتا ہوں جو 42000 سال سونے کے بعد ابھی ابھی جاگے ہیں۔” سر عاصم نے کہا تو سارے لڑکے حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگے۔ “ہزاروں سال پہلے دنیا میں برف ہی برف تھی۔ اس دور کو سائنس کی زبان میں “وسط حیاتی دور” (Pleistocene) کہا جاتا ہے، لیکن یہ “برفانی دور” (Ice Age) کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ تب کی بات ہے کہ کچھ نیماٹوڈز(Nematodes) یا “خیطے” برف کے کچھ ٹکروں کے درمیان آگئے، اور وہیں جم گئے۔” سر عاصم بات کرتے کرتے چند لمحوں کے لئے رکے۔بچوں کی حیرت اب دلچسپی میں تبدیل ہو چکی تھی۔

“نیما ٹوڈز چھوٹے چھوٹے کینچوا نما کیڑے ہوتے ہیں۔ جسامت میں ایک ملی میٹر (Millimeter) یا اس سے بھی کم ہونے کی وجہ سے یہ عام آنکھ سے نظر بھی نہیں آتے، بلکہ ان کو دیکھنے کے لئے مائکروسکوپ (Microscope) یا عدسے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔” کلاس کو خاموش دیکھ سر عاصم نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔ “یہ نیماٹوڈز مٹی میں موجود ہوتے ہیں، اور ان کی کچھ قسمیں انسانوں، جانوروں اور پودوں میں مختلف بیماریاں بھی پھیلاتی ہیں۔ خاص طور پر 50 فیصد سے زیادہ لوگوں میں پیٹ کی بیماریاں ان ہی نظر نہ آنے والے کیڑوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس لئے مٹی میں کھیلنے کے بعد اور کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا بہت ضروری ہے۔ ” یہ سن کر کچھ بچے اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھنے لگے۔

“جسامت میں بہت چھوٹے ہونے کے باوجود یہ کیڑے بہت سخت جان ہوتے ہیں۔ ان کی کچھ قسمیں زمیں کے 1.3 کلومیٹر نیچے بھی زندہ رہ لیتی ہیں، جہاں کوئی جانور یا پودا زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہی نہیں، بلکہ ان کی کچھ قسموں کے 5 مختلف منہ ہوتے ہیں۔یعنی وہ اپنے منہ کی ساخت تبدیل کر سکتے ہیں، تاکہ جس قسم کی بھی خوراک ملے، اس سے گزارا کر سکیں۔” سر عاصم بولتے چلے گئے۔

” سر، وہ جمے ہوئے کیڑوں کا کیا ہوا؟” سر عاصم خاموش ہوئے تو ایک لڑکے نے سوال کیا۔

“ہاں، میں اسی طرف جا رہا تھا۔” سر عاصم نے پھر بولنا شروع کیا۔ “حال ہی میں سائیبریا میں برف کے کچھ ایسے تودے پگل گئے، جو ہزاروں سالوں سے اپنی جگہ موجود تھے۔ وہاں سے سائنسدانوں کو بہت سے جانور اور پودے جمی ہوئی حالت میں ملے۔لیکن سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ کچھ نیماٹوڈز ہزاروں سال تک جمے رہنے کے باوجود زندہ تھے، اور نہ صرف زندہ تھے بلکہ کچھ ہی دیر میں چل پھر اور کھا پی رہے تھے۔ ان کی عمر کا اندازہ 32000 سال سے 42000 سال کے درمیان لگایا گیا ہے۔” بچے حیرت سے منہ کھولے سر عاصم کی طرف دیکھتے ہوئے یہ دیومالائی داستان سن رہے تھے۔

“لیکن سر، وہ اتنے سال تک زندہ کیسے رہے؟” حیرت انگیز طور پر یہ سوال سعد کی طرف سے آیا تھا۔
سائنسدان ابھی تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ دراصل ممکن کیسے ہوا۔۔۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس میں ایک بڑا ہاتھ برف کا تھا۔برف اورٹھنڈک کے ذریعے زندہ خلیوں (Cells) کو لمبے عرصے کے لئے محفوظ کیا جا سکتا ہے، اور اس عمل کو کرائیوپریزرویشن (Cryopreservation) کا نام دیا گیا ہے۔لیکن اس عمل کے دوران ان خلیوں کو کچھ نہ کچھ خوراک بھی فراہم کرنی پڑتی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شائد یہ واقع قدرتی کرائیوپریزرویشن کا سب سے پرانا ثبوت ہے۔ اگر ہم اس کو اچھی طرح سمجھ لیں، تو شائد ایک دن اس طریقے سے زندہ انسانوں اور جانوروں کو بھی محفوط کیا جا سکے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس سے مختلف بیماریوں کے علاج اور نئی ادویات کی تیاری میں بھی مدد ملے گی۔ ” سر عاصم نے اس بار پوری تقریر ہی کر دی۔ لیکن سبھی بچے پوری توجہ سے ان کی بات سن رہے تھے۔

“ویسے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان نیماٹوڈز کو ابھی کیسا محسوس ہو رہا ہو گا۔ کیسا ہو اگر آپ آج سوئیں اور ہزاروں سال بعد اٹھیں ، جب ساری دنیا بدل چکی ہو؟” سر عاصم نے بچوں کی سوچ کا رخ ایک اور طرف موڑتے ہوئےبات ختم کی۔ ان کی کلاس کا وقت ختم ہو چکا تھا۔
لیکن اس دن بچوں کا ہوم ورک چیک کرتے ہوئے ایک خوشگوار حیرت ان کی منتظر تھی۔۔۔ “میں سائنسدان بننا چاہتا ہوں” سعد کی کاپی پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا۔ سر عاصم کی مسکراہٹ گہری ہوتی گئی۔ آج انہیں اپنی محنت کے معاوضے کا ایک اور چیک مل گیا تھا۔

About مصعب

مصعب ابھی طالب علم ہیں۔زیادہ تر ادب اور تاریخ پر لکھتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں گہری سوچ کے مالک ہیں۔ان کی تحریریں انسان کی سوچ کو ایک الگ سمت دیکھاتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.