Home / مستقل سلسلے / انگلش سے کیا رنجش / انگلش سے کیا رنجش ۔ سترھویں قسط

انگلش سے کیا رنجش ۔ سترھویں قسط

سوالیہ و منفی جملے(Interro-negative Sentences):

“ایسے سنٹینسز جو سوالیہ ہونے کے ساتھ ساتھ منفی بھی ہوں، منفی سوالیہ(Interro-negative Sentences) جملے کہلاتے ہیں۔”

مثلاً کیا وہ ایک طالب علم نہیں ہے؟ کیا کھلاڑی میدان میں نہیں تھے؟ کیا کوئی سوال نہیں ہے؟ کیا جگ میں پانی نہیں تھا؟ کیا کل جمعہ کا دن نہیں ہو گا؟ وغیرہ۔ ان کے لیے فارمولے اس طرح ہوں گے۔

(1) H S not X?

(2) H S not Ph?

(3) H There not S?

(4) H There not S Ph?

(5) H It not S X?

مثالیں(Examples):

کیا وہ(S) ایک طالب علم(X) نہیں ہے(H)؟

Is(H) he(S) not a student(X)?

کیا کھلاڑی(S) میدان میں(Ph) نہیں تھے(H)؟

Were(H) players(S) not in the ground(Ph)?

کیا کوئی سوال(S) نہیں ہے(H)؟

Is(H) there not any question(S)? or Is(H) there no question(S)?

Not any = No

کیا جگ میں(Ph) پانی(S) نہیں تھا(H)؟

Was(H) there not water(S) in the jug(Ph)?

کیا کل(X) جمعہ کا دن(S) نہیں ہو گا(H)؟

Will(H) it not be(H) Friday(S) tomorrow(X)?

 

ایکٹیویٹی سنٹینسز(Activity Sentences):

ان سنٹینسز کی تعریف اور مثالیں پہلے بیان کی جا چکی ہیں۔ اب ہم ایکٹیویٹی سنٹینسز کی بناوٹ سیکھیں گے۔ ان سنٹینسز میں چونکہ فعل(Verb)، فاعل(Subject) اور مفعول(Object) سے واسطہ پڑتا ہے اس لیے پہلے ان کے بارے میں کچھ جاننا اور ان کی پہچان کرنا ضروری ہے۔

 

فعل(Verb):

وَرب کی تعریف، اقسام اور مثالیں بھی پہلے بیان کی جا چکی ہیں، ایکٹیویٹی سنٹینسز میں چونکہ ایکٹیویٹی وَرب مختلف حالتوں(Forms) میں استعمال ہوتے ہیں لہٰذا اب وَرب کی پانچ فارمز بیان کرتے ہیں۔

 

وَرب کی حالتیں(Forms of Verb):

وَرب پانچ حالتوں(Forms) میں استعمال ہوتا ہے۔ اِن پانچ فارمز کے لیے دی گئی تصویر ملاحظہ کریں۔

تصویر کے مطابق وَرب کی پانچ فارمز کے نام اور ان کی شارٹ فارمز(بریکٹس میں) اس طرح ہیں

Infinitive(Inf)

Imperative(Imp)

Present Participle(PreP)

Past(Past)

Past Participle(PasP)

نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ اِمپیریٹو فارم کے ساتھ (ing) لگانے سے پریذنٹ پارٹی سپل فارم حاصل ہوتی ہے۔ اگر کسی وَرب کے آخر میں (e) ہو تو (ing) لگانے سے پہلے (e) کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ جیسے (come) سے (coming)۔

 

وَرب کی پہچان(Recognizing Verb):

ایکٹیویٹی سنٹینس میں وَرب کو پہچاننا اگرچہ کوئی خاص مشکل کام نہیں تاہم پھر بھی بعض سٹوڈنٹس کو پتہ نہیں چل پاتا۔ اس مسئلے کو دیکھتے ہوئے وَرب کی پہچان کا طریقہ بتایا جاتا ہے جو کہ ایک سوال کی شکل میں ہے۔ اور وہ سوال یوں ہے:

 

کیا(کرنا)؟

یہاں “کرنا” کو بریکٹ میں لیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ “کرنا” کی حالت سنٹینس میں موجود ایکٹیویٹی وَرب کے مطابق تبدیل کر لی جائے۔ جیسا کہ امرونہی(Imperative) کے سنٹینسز میں ایکٹیویٹی وَرب “و” ختم ہوتے ہیں اس لیے ان سنٹینسز میں سے وَرب کی پہچان کرنے کے لیے “کیا(کرنا)؟” کو “کیا(کرو)؟ میں تبدیل کر لیا جائے گا۔ اور باقی سنٹینسز میں بھی اسی طرح۔

 

مثالوں سے وضاحت:

٭ کتاب پڑھو۔

کیا کرو؟ پڑھو۔ لہٰذا اس سنٹینس کا وَرب “پڑھو” ہے۔

٭ ہر روز سکول جاؤ۔

کیا کرو؟ جاؤ۔ لہٰذا اس سنٹینس کا وَرب “جاؤ” ہے۔

٭ بچہ دودھ پیتا ہے۔

کیا کرتا ہے؟ پیتا ہے۔ لہٰذا اس سنٹینس کا وَرب “پیتا ہے” ہے۔

٭ اُس نے مجھے دھکا دیا۔

کیا کِیا؟ دھکا دیا۔ لہٰذا اس سنٹینس کا وَرب “دھکا دیا” ہے۔

٭ وَرب کو سنٹینسز کے فارمولوں میں (V) سے ظاہر کیا جائے گا۔

 

فاعل(Subject):

“ایکٹیویٹی سرانجام دینے والے کو سبجیکٹ کہتے ہیں۔”

سبجیکٹ کی پہچان کے لیے مندرجہ ذیل دو سوالات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

 

کون(وَرب)؟ کس نے(وَرب)؟

بریکٹ میں “فعل” کا مطلب ہے کہ سنٹینس کا جو بھی وَرب ہو گا اس سے پہلے “کون” یا “کس نے” کے الفاظ استعمال کر کے سنٹینس میں سے سبجیکٹ کو آسانی سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔

 

مثالوں سے وضاحت:

٭ بچہ دودھ پیتا ہے۔

اس سنٹینس کا وَرب ہم اوپر معلوم کر چکے ہیں، “پیتا ہے” اب سے پہلے “کون” استعمال کرنے سے، “کون(پیتا ہے)؟” بچہ۔ لہٰذا اس سنٹینس کا سبجیکٹ “بچہ” ہے۔

٭ اُس نے مجھے دھکا دیا۔

اس سنٹینس میں پہلا سوال مناسب نہیں لہٰذا دوسرا سوال استعمال ہو گا، “کس نے(دھکا دیا)؟”، “اُس نے” لہٰذا اس سنٹینس کا سبجیکٹ “اُس نے” ہے۔

٭ سبجیکٹ کو سنٹینسز کے فارمولوں میں (S) سے ظاہر کیا جائے گا۔

 

مفعول(Object):

“سبجیکٹ کی ایکٹیویٹی جسے متاثر کرتی ہے یا جس کا احاطہ کرتی ہے، اسے اوبجیکٹ کہتے ہیں۔”

اوبجیکٹ کی پہچان کے لیے مندرجہ ذیل تین سوالات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

(سبجیکٹ) کیا (وَرب)؟ (سبجیکٹ نے) کسے (وَرب)؟ (سبجیکٹ) کس کا/کی/کے (وَرب)؟

 

مثالوں سے وضاحت:

٭ بچہ دودھ پیتا ہے۔

اس سنٹینس کا وَرب اور سبجیکٹ دونوں معلوم کیے جا چکے ہیں۔ “(بچہ) کیا (پیتا ہے)؟” دودھ۔ لہٰذا اس سنٹینس کا اوبجیکٹ “دودھ” ہے۔

٭ اُس نے مجھے دھکا دیا۔

“(اُس نے) کسے (دھکا دیا)؟ مجھے۔ لہٰذا اس سنٹینس کا اوبجیکٹ “مجھے” ہے۔

٭ ہم مہمانوں کا استقبال کریں گے۔

کیا (کریں گے)، “استقبال کریں گے”۔ (ورب)

کون (استقبال کریں گے)؟ “ہم”۔ (سبجیکٹ)

ہم (کس کا) استقبال کریں گے؟ “مہمانوں کا” (اوبجیکٹ)۔ لہٰذا اس سنٹینس کا اوبجیکٹ “مہمان” ہے۔

٭ کسی بھی ایکٹیویٹی سنٹینس میں سے وَرب، سبجیکٹ اور اوبجیکٹ تلاش کرنے کی ترتیب اسی طرح ہونی چاہیئے جس ترتیب سے یہ بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی سب سے پہلے وَرب، پھر سبجیکٹ اور آخر میں اوبجیکٹ

 

٭ سیکھنے کے لیے سوال یا سوالات کیے جا سکتے ہیں۔

٭ اہلِ علم بہتری کی تجاویز دے سکتے ہیں۔

About انعام الحق

انعام الحق صاحب کا تعلق پاکستان کے مشہور صنعتی شہر فیصل آباد سے ہے۔ آپ درس و تدریس اور تحقیق کے شعبہ سے وابسطہ ہیں۔ ریاضی اور فزکس سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.