Home / مستقل سلسلے / انگلش سے کیا رنجش / انگلش سے کیا رنجش ۔ بائیسویں قسط

انگلش سے کیا رنجش ۔ بائیسویں قسط

فعل بلحاظ زمانہ(Tense)

“جب کوئی فعل(Verb) زمانے(Time) کے لحاظ سے انجام پائے، اسے فعل بلحاظ زمانہ(Tense) کہتے ہیں۔”

٭ گویا ٹیسن کے سنٹینس کی پہچان یہ ہے کہ اس میں وَرب اور ٹائم دونوں پائے جاتے ہیں۔

 

زمانے(Periods of Time) تین ہوتے ہیں۔

(1) زمانہ حال یعنی موجودہ زمانہ (Present)

(2) زمانہ ماضی یعنی گزرا ہوا زمانہ (Past)

(3) زمانہ مستقبل یعنی آنے والا زمانہ (Future)

 

٭ جس طرح زمانہ حال(Present) کا ایک پچھلا زمانہ ہے یعنی زمانہ ماضی(Past) اور ایک اگلا زمانہ ہے یعنی زمانہ مستقبل(Future) اسی طرح ماضی و مستقبل کے بھی اگلے اور پچھلے زمانے ہیں۔ ماضی کا پچھلا زمانہ ماضی بعید جبکہ اگلا زمانہ ماضی قریب کہلاتا ہے۔ اسی طرح مستقبل کا پچھلا زمانہ مستقبل قریب جبکہ اگلا زمانہ مستقبل بعید کہلاتا ہے۔

 

جب فعل، زمانے کے لحاظ سے وقوع پذیر ہوتا ہے تو ہر زمانے کی چار حالتیں ممکن ہو سکتی ہیں۔

(i) مُطلق یا سادہ (Indefinite or Simple)

(ii) جاری (Continuous)

(iii) مکمل (Perfect)

(iv) مکمل جاری (Perfect Continuous)

 

اِن حالتوں کو سمجھنے سے پہلے یہ بات جان لیں کہ ہر فعل کا ایک نقطہءِ وقوع(Point of Occurance) اور ایک نقطہءِ تکمیل(Point of Completion) ہوتا ہے۔ ان دونوں نقاط کے حوالے سے حالت کا تعین کیا جاتا ہے۔ اگر یہ دونوں نقاط ایک ہی زمانے میں پائے جائیں تو زمانہ مطلق یا سادہ حالت یعنی خالص حالت میں ہوتا ہے۔ اگر نقطہءِتکمیل، نقطہءِ وقوع سے اگلے زمانے یا پچھلے زمانے یا اگلے پچھلے دونوں میں موجود ہو جائے تو زمانہ خالص حالت میں نہیں رہتا بلکہ جاری، مکمل یا مکمل جاری ہو جاتا ہے۔ حالتوں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

 

مطلق یا سادہ (Indefinite or Simple):

مطلق(Indefinite) کا مطلب ہے خالصتاً یعنی بغیر ملاوٹ کے اور سادہ(Simple) کا بھی یہی مطلب ہے، بغیر ملاوٹ کے۔

اگر کسی فعل کا نقطہءِ وقوع زمانہ حال(Present)، ماضی(Past) یا مستقبل(Future) میں ہو اور اس کا نقطہءِ تکمیل بھی اسی زمانے میں ہی رہے تو وہ فعل خالصتاً اسی زمانے کا ہوتا ہے جس میں اس کا نقطہءِ وقوع ہوتا ہے۔ یعنی اس فعل کا نقطہءِ تکمیل پچھلے یا اگلے زمانے میں نہیں جاتا اسی لیے اس فعل کا زمانہ بالکل خالص یا دوسرے زمانے کی ملاوٹ کے بغیر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی حالت کو مطلق(Indefinite) یا سادہ(Simple) کہا جاتا ہے۔ ہم آئندہ اسے سادہ(Simple) ہی پکاریں گے اور (S) سے ظاہر کریں گے۔

 

مثالیں(Examples):

٭ طالب علم سکول جاتا ہے۔

وضاحت: طالب علم کے فعل کا نقطہءِ وقوع اور نقطہءِ تکمیل دونوں زمانہ حال میں ہیں۔ یعنی یہ فعل، زمانہ حال میں وقوع پذیر ہو کر حال میں ہی مکمل ہوتا ہے اس لیے یہ خالصتاً زمانہ حال کا فعل ہے یعنی فعل حال سادہ(Present Simple)

٭ طالب علم سکول جاتا تھا۔

وضاحت: طالب علم کے فعل کا نقطہءِ وقوع اور نقطہءِ تکمیل دونوں زمانہ ماضی میں ہیں۔ یعنی یہ فعل، زمانہ ماضی میں وقوع پذیر ہو کر ماضی میں ہی مکمل ہوتا ہے اس لیے یہ خالصتاً زمانہ ماضی کا فعل ہے یعنی فعل ماضی سادہ(Past Simple)

٭ طالب علم سکول جائے گا۔

وضاحت: طالب علم کے فعل کا نقطہءِ وقوع اور نقطہءِ تکمیل دونوں زمانہ مستقبل میں ہیں۔ یعنی یہ فعل، زمانہ مستقبل میں وقوع پذیر ہو کر مستقبل میں ہی مکمل ہوتا ہے اس لیے یہ خالصتاً زمانہ مستقبل کا فعل ہے یعنی فعل مستقبل سادہ(Future Simple)

 

جاری(Continuous):

جاری کا مطلب ہے نامکمل(Incomplete) یعنی جس فعل کے متعلق بتایا جائے تو ابھی نامکمل ہو۔

اگر کسی فعل کا نقطہءِ وقوع زمانہ حال(Present)، ماضی(Past) یا مستقبل(Future) میں ہو اور اس کا نقطہءِ تکمیل اس سے اگلے زمانے میں چلا جائے تو وہ فعل خالصتاً اسی زمانے کا نہیں رہتا بلکہ اس کی تکمیل اگلے زمانے میں ہوتی ہے اس لیے اس کی حالت نامکمل ہوتی ہے۔ اسی لیے اس کی حالت کو جاری(Continuous) کہا جاتا ہے۔ اسے (C) سے ظاہر کیا جائے گا۔

 

مثالیں(Examples):

٭ طالب علم سکول جا رہا ہے۔

وضاحت: طالب علم کے فعل کا نقطہءِ وقوع زمانہ حال میں ہے جبکہ یہ ابھی نامکمل ہے یعنی اس کا نقطہءِ تکمیل اگلے زمانے یعنی مستقبل میں ہے اس لیے یہ فعل ہے تو زمانہ حال کا مگرخالصتاً زمانہ حال کا نہیں۔ چنانچہ یہ فعل حال جاری ہے(Present Continuous)

٭ طالب علم سکول جا رہا تھا۔

وضاحت: طالب علم کے فعل کا نقطہءِ وقوع زمانہ ماضی میں ہے جبکہ یہ ابھی نامکمل ہے یعنی اس کا نقطہءِ تکمیل اگلے زمانے یعنی ماضی قریب میں ہے اس لیے یہ فعل ہے تو زمانہ ماضی کا مگرخالصتاً زمانہ ماضی کا نہیں۔ چنانچہ یہ فعل ماضی جاری ہے(Past Continuous)

٭ طالب علم سکول جا رہا ہوگا۔

وضاحت: طالب علم کے فعل کا نقطہءِ وقوع زمانہ مستقبل میں ہے جبکہ یہ ابھی نامکمل ہے یعنی اس کا نقطہءِ تکمیل اگلے زمانے یعنی مستقبل بعید میں ہے اس لیے یہ فعل ہے تو زمانہ مستقبل کا مگرخالصتاً زمانہ مستقبل کا نہیں۔ چنانچہ یہ فعل حال جاری ہے(Future Continuous)

 

٭ سیکھنے کے لیے سوال یا سوالات کیے جا سکتے ہیں۔

٭ اہلِ علم بہتری کی تجاویز دے سکتے ہیں۔

About انعام الحق

انعام الحق صاحب کا تعلق پاکستان کے مشہور صنعتی شہر فیصل آباد سے ہے۔ آپ درس و تدریس اور تحقیق کے شعبہ سے وابسطہ ہیں۔ ریاضی اور فزکس سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.