Home / مستقل سلسلے / انگلش سے کیا رنجش / انگلش سے کیا رنجش ۔ اٹھارھویں قسط

انگلش سے کیا رنجش ۔ اٹھارھویں قسط

اب ہم ایکٹیویٹی سنٹینسز کی بناوٹ سیکھیں گے۔ ان سنٹینسز کی بناوٹ سیکھنے سے پہلے فعل معروف(Active Voice) اور فعل مجہول(Passive Voice) کے بارے میں جاننا نہایت ضروری ہے۔

 

فعل معروف(Active Voice):

“ایسا وَرب جس کا سبجیکٹ معلوم(Known) اور نمایاں(Prominent) ہو، اَیکٹِو وائس کہلاتا ہے۔”

ایکٹووائس اور پیسووائس کا ہماری روزمرہ زندگی میں بہت عمل دخل ہے، حتیٰ کہ بچے بھی اتنی سینس رکھتے ہیں اور ان کا استعمال کرتے ہیں۔ ایکٹووائس کی تعریف سے ظاہر ہے کہ سبجیکٹ کا صرف معلوم ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس کو نمایاں بھی ہونا چاہیئے اور سبجیکٹ کو نمایاں کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے سنٹینس کے شروع میں رکھا جائے۔ فرض کریں کہ آپ نے کسی مقابلے حصہ لیا اور فرسٹ پرائز جیت لیا۔ اب آپ یہ خبر جب اپنے گھروالوں یا دوستوں کو دیں گے تو ان دو جملوں سے کس جملے کا انتخاب کریں گے؟

٭ میں نے فرسٹ پرائز جیت لیا ہے۔

٭ فرسٹ پرائز مجھ سے جیتا گیا ہے۔

یقیناً آپ کا انتخاب پہلا جملہ ہو گا، “میں نے فرسٹ پرائز جیت لیا ہے”۔ وجہ ظاہر ہے کہ آپ نے قابلِ تعریف کام کیا ہے اور پہلا جملہ آپ کو نمایاں کرتا ہے جبکہ دوسرے جملے میں ایسا لگتا ہے کہ فرسٹ پرائز جیتنے میں آپ کا کمال نہیں بلکہ فرسٹ پرائز کا کمال ہے۔ لہٰذا سنٹینس میں سبجیکٹ کو نمایاں کرنا ہی “ایکٹووائس” ہے۔ ہم اسی طرح موقع کی مناسبت سے ایکٹووائس یا پیسووائس کا انتخاب کرتے ہیں۔ اب مزید دو سنٹینسز پر غور کریں۔

٭ محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا۔

٭ سندھ، محمد بن قاسم سے فتح ہو گیا۔

محمد بن قاسم کا کارنامہ بیان کرتے ہوئے ان میں سے کون سا سنٹینس مناسب ہے؟ یقیناً “محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا۔”گویا کہ

٭ سبجیکٹ کا کوئی قابلِ تعریف کام بیان کرنے کے لیے ایکٹووائس استعمال کیا جاتا ہے۔

 

فعل مجہول(Passive Voice):

“ایسا وَرب جس کا سبجیکٹ معلوم نہ ہو یا نمایاں نہ ہو، پَیسِو وائس کہلاتا ہے۔”

پیسووائس کی تعریف سے ظاہر ہے کہ جب کسی سنٹینس کا سبجیکٹ نامعلوم ہو یا معلوم ہونے کے باوجود نمایاں نہ ہو تو مقصد ایک ہی ہوتا ہے، سبجیکٹ کو چھپانا اس لیے ضروری ہے کہ سنٹینس میں سبجیکٹ کا ذکر ہی نہ ہو یا پھر اوبجیکٹ کا پہلے ذکر ہو تا کہ سارا فوکس اوبجیکٹ پر ہو جائے۔ اب فرض کریں کہ آپ کمرے میں داخل ہوئے اور غلطی سے آپ کے ہاتھوں ایک نہایت قیمت موبائل فون ٹوٹ گیا۔ اب آپ ان دو جملوں میں سے کس سنٹینس کا انتخاب کریں گے؟

٭ میں نے موبائل فون توڑ دیا۔

٭ موبائل فون ٹوٹ گیا۔ یا موبائل فون، مجھ سے ٹوٹ گیا۔

یقیناً دوسرے دو سنٹینسز میں سے کوئی سنٹینس آپ کا انتخاب ہو گا۔ وجہ بھی صاف ظاہر ہے کہ آپ نے کوئی قابلِ تعریف کام نہیں کیا بلکہ غلطی کی ہے اس صورت میں پہلے سنٹینس “میں نے موبائل فون توڑ دیا۔” استعمال کرنے کا مطلب ہے کہ آپ نے یہ کام جان بوجھ کر کیا لہٰذا آپ سرزنش یا سزا کے قابل ہیں۔ لیکن دوسرے سنٹینس، “موبائل فون ٹوٹ گیا۔” یا “موبائل فون مجھ سے ٹوٹ گیا۔” میں آپ موبائل فون کو نمایاں کر کے اپنا قصور ختم کرنے یا کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح

٭ طالب علم سبق بھول جاتا ہے۔ اور

٭ سبق طالب علم کوبھول جاتا ہے۔

میں سے دوسرا سنٹینس “سبق طالب علم کو بھول جاتا ہے۔” استعمال کرنا بہتر ہے کہ اس سے طالب علم کے سر سے غلطی کا بوجھ کچھ کم ہوتا محسوس ہوتا ہے۔گویا کہ

٭ سبجیکٹ کا کوئی ناقابلِ تعریف کام بیان کرنے کے لیے پیسووائس استعمال ہوتا ہے۔

ایکٹیویٹی سنٹینسز میں ہم سب سے پہلے “امر و نہی کے جملوں(Imperative Sentences)” کی بناوٹ سیکھتے ہیں۔

 

امر و نہی کے جملے(Imperative Sentences):

“ایسے سنٹینسز جن میں کوئی کام کرنے کو کہا جائے(امر) یا کوئی کام کرنے سے روکا جائے(نہی)، اِمپیریٹو سنٹیسز کہلاتے ہیں۔”

٭ یہ سنٹینسز “و” پر ختم ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک اللہ کی عبادت کرو۔ ہر روز سکول جاؤ۔ جھوٹ مت بولو۔ کسی کا دل ہرگز نہ دکھاؤ۔ وغیرہ

ان جملوں میں دو قسم کے وَربز پائے جاتے ہیں۔

 

1۔ فعل امر(Bidding Verb) 2۔ فعل نہی(Forbidding verb)

فعل امر(Bidding Verb):

“ایسا وَرب جو کوئی کام کرنے کو کہے، بِڈنگ وَرب کہلاتا ہے۔”

مثلاً ایک اللہ کی عبادت کرو۔ ہر روز سکول جاؤ۔ اپنا کام وقت پر کرو۔ بزرگوں کا ادب کرو۔

بِڈنگ وَربز کے لیے مندرجہ ذیل ایکٹووائس فارمولا استعمال ہوتا ہے۔

اِمپوکس Imp O X.

فارمولا میں (Imp) سے مراد اِمپیریٹو فارم آف وَرب، (O) سے مراد اوبجیکٹ جبکہ (X) سے مراد ایکسٹینشن ہے۔

٭ ان سنٹینسز میں سبجیکٹ “انڈرسٹوڈ(Understood)” ہوتا ہے۔ یعنی موجود ہوتا ہے لیکن ظاہر نہیں کیا گیا ہوتا۔ ان سنٹینسز کا سبجیکٹ وہی ہوتا ہے جسے سنٹینس کے ذریعے مخاطب(Address) کیا گیا ہو جو عموماً “تو، تم یا آپ(You)” ہوتا ہے۔ مثلاً جب ہم کہتے ہیں، “اپنا کام کرو۔” تو اس سنٹینس کا سبجیکٹ وہی ہے جسے مخاطب کر کے ہم نے یہ سنٹینس بولا ہے۔

ان سنٹینسز میں سبجیکٹ چونکہ انڈرسٹوڈ ہوتا ہے لہٰذا اس کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ وَرب تلاش کرنے کے لیے سوال، “کیا (کرو)” جبکہ اوبجیکٹ تلاش کرنے کے لیے سوالات، “کیا (فعل)؟ ، کسے (فعل)؟ یا کس کا/کی/کے (فعل)؟” استعمال کریں۔ طریقہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ تاہم پھر بھی کوئی پرابلم محسوس ہو تو کمنٹ کر کے پوچھ سکتے ہیں۔

مثالیں(Examples):

٭ ایک خدا کی(O) عبادت کرو(Imp)۔

Worship(Imp) one God(O).

٭ اپنا سبق(O) یاد کرو(Imp)۔

Learn(Imp) your lesson(O).

٭ میرے لئے(X) چائے(O) بناؤ(Imp)۔

Make(Imp) tea(O) for me(X).

٭ ہرروز صبح سویرے(X) اُٹھو(Imp)۔

Get up(Imp) early in the morning every day(X).

٭ ہو سکتا ہے بعض سنٹینسز میں اوبجیکٹ موجود نہ ہو اور ہو سکتا ہے بعض سنٹینسز میں ایکسٹینشن موجود نہ ہو تو فارمولے میں ان کو چھوڑ دیں جیسا کہ دی گئی مثالوں میں نوٹ کیا جا سکتا ہے۔

بعض ورڈز جیسا کہ (Please, Always, Often, Now) وغیرہ سنٹینس بطور ایکسٹینشن ہونے کے باوجود شروع میں بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ جیسا کہ

٭ ہمیشہ(X) ایک خدا کی(O) عبادت کرو(Imp)۔

Always(X) worship(Imp) one God(O).

٭ اب(X) اپنا سبق(O) یاد کرو(Imp)۔

Now(X) learn(Imp) your lesson(O).

٭ براہِ مہربانی(X) میرے لئے(X) چائے(O) بناؤ(Imp)۔

Please(X) make(Imp) tea(O) for me(X).

 

٭ سیکھنے کے لیے سوال یا سوالات کیے جا سکتے ہیں۔

٭ اہلِ علم بہتری کی تجاویز دے سکتے ہیں۔

About انعام الحق

انعام الحق صاحب کا تعلق پاکستان کے مشہور صنعتی شہر فیصل آباد سے ہے۔ آپ درس و تدریس اور تحقیق کے شعبہ سے وابسطہ ہیں۔ ریاضی اور فزکس سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.