Home / Tag Archives: space science

Tag Archives: space science

زمین کی فل ڈسک تصاویر لینے والے سیٹلائٹس

انڈیا  کا  چندریان۲ مشن چاند کی طرف رواں دواں ہے۔3اگست کو اس نے زمین کی بہت ہی خوبصورت تصاویر سینڈ کی تھی۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ زمین کی پہلی فل ڈسک تصویر11دسمبر 1966 کو ATS-1  سیٹلائٹ نے لی تھی۔  اس سیٹلائٹ کو یہ اعزار بھی حاصل ہے کہ یہ پہلی جیوسٹیشنری سیٹلائٹ تھی۔ پہلی فل ڈسک تصویر درج ذیل ہے۔ اس وقت بھی زمین کے گرد بہت سی سیٹلائٹس ہر وقت زمین کی تصاویر بنا نے میں مصروف …

Read More »

کسی چاند کا اپنا چاند کیوں نہیں ہوتا؟

یہ بڑا دلچسپ سوال ہے کہ کسی چاند کا اپنا چاند ہو سکتا ہے کہ نہیں۔ اگر ہم تھیوریٹیکلی دیکھیں تو اس کا جواب ہاں میں ہے مگر پھر بھی کیا وجہ ہے کہ ہمیں اپنے پورے سولر سسٹم میں ایک بھی ایسا چاند نظر نہیں آتا کہ جس کا اپنا چاند بھی ساتھ ہو۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں مگر ان کو سمجھنے سے پہلے ہمیں فلکیات کی ایک ٹرم کو سمجھنا ہو گا جس کو Hill Sphere کہتے …

Read More »

سورج یا چاند گرہن ہر ماہ کیوں نہیں ہوتا؟

یہ سوال اکثر گروپس میں پوچھا جاتا ہے، خاص کر حالیہ چاند گرہن کے بعد ایک بار پھر سے یہ سوال گروپس کے کومنٹس میں نظر آ رہا ہے۔ چاند اور سورج گرہن کو سمجھنے کیلئے آپ کو زمین کی سورج کے گرد اور چاند کی زمین کے گرد حرکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔  زمین سورج کے گرد گھومتی ہے، جبکہ چاند زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے۔  چاندکا پلین زمین کے گرد بالکل وہی نہیں ہے جو …

Read More »

تصاویر میں زمین اور چاند کا سائز مختلف کیوں ہوتا ہے؟

زمین اور چاند کی تصاویر کو لے کر اکثر لوگ اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ ان تصاویر میں چاند اور زمین جب اکھٹے نظر آتے ہیں تو ان کے سائز میں فرق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اس نیچے دی گئی تین تصاویر کو لے کر زیادہ تر اعتراض کیا جاتا ہے کہ تصویر نمبر 1اور تصویر نمبر2 میں چاند کی نسبت زمین کافی چھوٹی نظر آتی ہے جبکہ تصویر نمبر 3  میں چاند کے پیچھے زمین کافی …

Read More »

سٹار لنک پروجیکٹ

اسپیس ایکس (Space X)نے اپنے ایک میگا پروجیکٹ ’’سٹار لنک‘‘ پر باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا ہے سٹار لنک پروجیکٹ کے تحت اسپیس ایکس لو ارتھ اربٹ میں بارہ ہزار سیٹلائٹس لانچ کرئے گا۔ابتدائی طور پر 62 سیٹلائٹس لانچ کر دی گئی ہیں جبکہ 2020 کے آخر تک مزید سیٹلائٹس تین اربٹ پلین میں لانچ کی جائیں گی جن میں7500 سیٹلائٹس340 کلومیٹرز کی بلندی پر ،1600 سیٹلائٹس 550کلو میٹر پر جبکہ 2800سیٹلائٹس 1150 کلو میٹرز کی بلندی پر ایک …

Read More »

گوگل کروم ٹیم کا 100,000سٹارز پروجیکٹ

اگر آپ کو فلکیات سے دلچسپی ہے اور آپ نے گوگل کا ‘‘ 100,000 سٹارز’’  پروجیکٹ ابھی تک ایکسپلور نہیں کیا تو آپ نے ایک نہایت شاندار چیز چھوڑ دی ہے۔ گوگل  ‘‘ 100,000 سٹارز’’ کو آپ اس لنک سے دیکھ سکتے ہیں  https://stars.chromeexperiments.com/   یہ پروجیکٹ گوگل کی کروم ٹیم نے 2012 میں THREE.js   ، WebGL   اور   CSS3D کی مدد سے بنایا تھا۔  اس میں ہمارے سورج کے ارد گرد موجود 100,000ستاروں کی سورج سے اصل پوزیشن(سمت) اور فاصلے …

Read More »

کائناتی بارشیں

پچھلے سال یہ تصویر ہزاروں بار سوشل میڈیا پر شئیر کی گئ تھی، آج کل ایک بار پھر اس کو میں مختلف گروپس میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا واقعی ہی مختلف دنیاوں میں ایسی بارشیں ہوتی ہیں؟ کیا نیپچون پر ہیروں کی بارش ہوتی ہے یا وینس پر تیزاب کی؟ ان سوالوں کے جوابات کیلئے آپ کو پوری پوسٹ پڑھنی ہوگی۔   تیزاب کی بارش: زمین پر بارش کا تصور بہت خوبصورت ہے، ایک انجانی خوشی کا احساس اور مٹی …

Read More »

این جی سی (NGC) کیٹلاگ

آپ نے اکثرفلکیاتی اجسام کے ناموں کے ساتھ NGCاور ایک نمبر لکھا دیکھا ہوگا۔ جیسے کہ انڈرومیڈا گلیکسی کے ساتھ NGC224 لکھا نظر آتا ہے۔ یہ این جی سی کیا ہے؟ NGCایک کیٹلاگ ہے جس کا پورا نام The New General Catalogue of Nebulae and Clusters of Starsہے۔ اس کیٹلا گ کو ’’جان لوئس ایمیل ڈریر‘‘ نے1888میں بنایا تھا۔ ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے John Louis Emil Dreyerنے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ آئرلینڈ میں گذارا اور وہی پر …

Read More »

بلیک ہول ۔ تاریخی پسِ منظر

آج ہم سائینس کی تاریخ میں بلیک ہول کی دریافت کی تاریخ کیا ہے؟اس پر کچھ روشنی ڈالیں گے۔   جان میچل اٹھارویں صدی عیسویں میں نیوٹن کے نظریات وضع ہوچُکے تھے اور ان کی ریاضیاتی تعبیر پر کام کرنا بڑا کام سمجھا جاتا تھا اس دور میں ایک نامعلوم انگریز سائینسدان جان میچل (1724-1793) نے نیوٹن کے اس تصور کو کہ روشنی دراصل ذرات پر مُشتمل ہے تو اس پر گریوٹی کا اثر ضرور ہوگا جس سے روشنی کی …

Read More »

اسپائیرل کہکشاں (D-100) کی لمبوتری دُم

اس کہکشاں کے ساتھ یہ سُرخ رنگت والی ایک دُم کیا ہے؟ یہ سُرخ رنگ کی دُم نُما چیز زیادہ تر اُس کے دہکتی ہوئی ہائڈروجن کے بادلوں سے بنی ہے جو اس کہکشاں کے ایک جھرمٹ کے بیچ میں موجود وسیع و عریض اور گرم گیس کے بادلوں میں سے گُزرتے ہوئے الگ ہوگئے تھے۔ یہ اسپائیرل کہکشاں “D-100” ہے اور یہ کہکشاؤں کا جھرمٹ کوما کلسٹر ہے۔ یہ سُرخ شاہراہ سی جو ہے یہ اس کہکشاں کے مرکز …

Read More »