Home / Tag Archives: space science

Tag Archives: space science

تصاویر میں زمین اور چاند کا سائز مختلف کیوں ہوتا ہے؟

زمین اور چاند کی تصاویر کو لے کر اکثر لوگ اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ ان تصاویر میں چاند اور زمین جب اکھٹے نظر آتے ہیں تو ان کے سائز میں فرق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اس نیچے دی گئی تین تصاویر کو لے کر زیادہ تر اعتراض کیا جاتا ہے کہ تصویر نمبر 1اور تصویر نمبر2 میں چاند کی نسبت زمین کافی چھوٹی نظر آتی ہے جبکہ تصویر نمبر 3  میں چاند کے پیچھے زمین کافی …

Read More »

سٹار لنک پروجیکٹ

اسپیس ایکس (Space X)نے اپنے ایک میگا پروجیکٹ ’’سٹار لنک‘‘ پر باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا ہے سٹار لنک پروجیکٹ کے تحت اسپیس ایکس لو ارتھ اربٹ میں بارہ ہزار سیٹلائٹس لانچ کرئے گا۔ابتدائی طور پر 62 سیٹلائٹس لانچ کر دی گئی ہیں جبکہ 2020 کے آخر تک مزید سیٹلائٹس تین اربٹ پلین میں لانچ کی جائیں گی جن میں7500 سیٹلائٹس340 کلومیٹرز کی بلندی پر ،1600 سیٹلائٹس 550کلو میٹر پر جبکہ 2800سیٹلائٹس 1150 کلو میٹرز کی بلندی پر ایک …

Read More »

گوگل کروم ٹیم کا 100,000سٹارز پروجیکٹ

اگر آپ کو فلکیات سے دلچسپی ہے اور آپ نے گوگل کا ‘‘ 100,000 سٹارز’’  پروجیکٹ ابھی تک ایکسپلور نہیں کیا تو آپ نے ایک نہایت شاندار چیز چھوڑ دی ہے۔ گوگل  ‘‘ 100,000 سٹارز’’ کو آپ اس لنک سے دیکھ سکتے ہیں  https://stars.chromeexperiments.com/   یہ پروجیکٹ گوگل کی کروم ٹیم نے 2012 میں THREE.js   ، WebGL   اور   CSS3D کی مدد سے بنایا تھا۔  اس میں ہمارے سورج کے ارد گرد موجود 100,000ستاروں کی سورج سے اصل پوزیشن(سمت) اور فاصلے …

Read More »

کائناتی بارشیں

پچھلے سال یہ تصویر ہزاروں بار سوشل میڈیا پر شئیر کی گئ تھی، آج کل ایک بار پھر اس کو میں مختلف گروپس میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا واقعی ہی مختلف دنیاوں میں ایسی بارشیں ہوتی ہیں؟ کیا نیپچون پر ہیروں کی بارش ہوتی ہے یا وینس پر تیزاب کی؟ ان سوالوں کے جوابات کیلئے آپ کو پوری پوسٹ پڑھنی ہوگی۔   تیزاب کی بارش: زمین پر بارش کا تصور بہت خوبصورت ہے، ایک انجانی خوشی کا احساس اور مٹی …

Read More »

این جی سی (NGC) کیٹلاگ

آپ نے اکثرفلکیاتی اجسام کے ناموں کے ساتھ NGCاور ایک نمبر لکھا دیکھا ہوگا۔ جیسے کہ انڈرومیڈا گلیکسی کے ساتھ NGC224 لکھا نظر آتا ہے۔ یہ این جی سی کیا ہے؟ NGCایک کیٹلاگ ہے جس کا پورا نام The New General Catalogue of Nebulae and Clusters of Starsہے۔ اس کیٹلا گ کو ’’جان لوئس ایمیل ڈریر‘‘ نے1888میں بنایا تھا۔ ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے John Louis Emil Dreyerنے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ آئرلینڈ میں گذارا اور وہی پر …

Read More »

بلیک ہول ۔ تاریخی پسِ منظر

آج ہم سائینس کی تاریخ میں بلیک ہول کی دریافت کی تاریخ کیا ہے؟اس پر کچھ روشنی ڈالیں گے۔   جان میچل اٹھارویں صدی عیسویں میں نیوٹن کے نظریات وضع ہوچُکے تھے اور ان کی ریاضیاتی تعبیر پر کام کرنا بڑا کام سمجھا جاتا تھا اس دور میں ایک نامعلوم انگریز سائینسدان جان میچل (1724-1793) نے نیوٹن کے اس تصور کو کہ روشنی دراصل ذرات پر مُشتمل ہے تو اس پر گریوٹی کا اثر ضرور ہوگا جس سے روشنی کی …

Read More »

اسپائیرل کہکشاں (D-100) کی لمبوتری دُم

اس کہکشاں کے ساتھ یہ سُرخ رنگت والی ایک دُم کیا ہے؟ یہ سُرخ رنگ کی دُم نُما چیز زیادہ تر اُس کے دہکتی ہوئی ہائڈروجن کے بادلوں سے بنی ہے جو اس کہکشاں کے ایک جھرمٹ کے بیچ میں موجود وسیع و عریض اور گرم گیس کے بادلوں میں سے گُزرتے ہوئے الگ ہوگئے تھے۔ یہ اسپائیرل کہکشاں “D-100” ہے اور یہ کہکشاؤں کا جھرمٹ کوما کلسٹر ہے۔ یہ سُرخ شاہراہ سی جو ہے یہ اس کہکشاں کے مرکز …

Read More »

انفرا ریڈ میں سیمبریرو کہکشاں

لفظوں کی وضاحت سیمبریرو (Sombrero) یہ ایک ہسپانوی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے چھاؤں کرنے والا۔ لیکن یہ لفظ ایک خاص قسم کے بڑے سارے چھاتے والے ہیٹ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو لوگ مکیسیکو اور امریکہ کے بعض علاقوں میں عموماً دھوپ کی شدت سے بچنے کے لئے استعمال کرتے ہیں, نیچے اس کی تصویر دی گئی ہے۔ تصویر کی وضاحت یہ لہراتا ہوا چھلا پوری کہکشاں کے سائیز کا ہے، در حقیقت …

Read More »

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

بعض اوقات یوں لگتا ھے کہ گویا ہمارے سورج کی سطح محوِ رقص ہو۔ مثال کے طور پر 2012 کے وسط میں ناسا کی سورج کے گرد گردش کرتی سولر ڈائینامک آبزرویٹوری (ایک اسپیس کرافٹ کا نام ہے) نے ایک اہم منظر دیکھا جس میں ایک اُبھار کسی مشاق رقاص کی طرح سطح سورج پر قلابازی سی لگا رہا تھا یہ ڈرامائی منظر الٹرا وائولٹ روشنی میں خصوصی کیمروں نے تین گھنٹوں میں قید کیا۔ یہ ایک مقناطیسی لوپ تھا …

Read More »

ہائیپرون: نوزائیدہ کہکشاؤں کا سب سے بڑا سُپر کلسٹر 

ابتدائی کائینات میں کہکشائیں کیسے بنیں تھیں؟ اس سوال کے جواب کی تلاش میں فلکیات دانوں نے آسمان کے ایک تاریک حصے کا سروے کیا جس کے لئے انہوں نے ساؤتھ امریکی مُلک چیلے میں موجود بہت بڑی دربینوں کے ایک سلسلے کو استعمال کیا اور دور دارز کی اُن کہکشاؤں کو گنا جو کائینات کے آغاز میں وجود میں آئیں تھیں۔ اس تصویر میں پھیلی دور دراز کی (لگ بھگ اڑھائی ریڈشفٹ کی دوری پر) کہکشاؤں کے تجزئیے سے …

Read More »