Home / Tag Archives: science

Tag Archives: science

انسانی آنکھ کیسے کام کرتی ہے

انسانی آنکھوں کو اردو ادب میں بھی موضوع سخن بنایا گیا کسی نے اپنے محبوب کی آنکھوں کو سمندر سے تشبہ دی تو کسی نے اپنی آنکھوں کو برسات کا منبع قرار دیا کوئی تو اپنے محبوب کی آنکھوں میں اتر کر عشق کی گہرائیوں تک پہنچنا چاہتا تھا تو کوئی محبوب کی آنکھوں میں ڈوبنا چاہتا تھا ۔ بقول عدیم ہاشمی :- ؎ کیا خبر تھی تری آنکھوں میں بھی دل ڈوبے گا میں تو سمجھا تھا کہ پڑتے …

Read More »

پہلے ایٹم بم کی تیاری

گیتا میں لکھا گیا ہے کہ وشنو نے اپنے شہزادے کو کہا کہ میں اب موت ہوں جو دنیا کو لے ڈوبتی ہے   معروف ترین طبیعات دان رابرٹ اوپن ہائمر نے جب پہلا نیوکلیئر دھماکہ دیکھا تو اسے ہندو مذہب کی کتاب کا یہی فقرہ یاد آ گیا جس کا اس نے برملا اظہار بھی کیا۔ جرمنی میں نیوکلیئر فشن کا تجربہ ہو چکا تھا اور اب ہٹلر نیوکلیئر بم حاصل کر لینے کے نزدیک تھا۔ امریکہ نے فوری …

Read More »

این جی سی (NGC) کیٹلاگ

آپ نے اکثرفلکیاتی اجسام کے ناموں کے ساتھ NGCاور ایک نمبر لکھا دیکھا ہوگا۔ جیسے کہ انڈرومیڈا گلیکسی کے ساتھ NGC224 لکھا نظر آتا ہے۔ یہ این جی سی کیا ہے؟ NGCایک کیٹلاگ ہے جس کا پورا نام The New General Catalogue of Nebulae and Clusters of Starsہے۔ اس کیٹلا گ کو ’’جان لوئس ایمیل ڈریر‘‘ نے1888میں بنایا تھا۔ ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے John Louis Emil Dreyerنے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ آئرلینڈ میں گذارا اور وہی پر …

Read More »

گریوٹی کا تبسم

البرٹ آئین شٹائین کا نظریہء جنرل اضافیت جو آج سےایک سو سال پہلے شائع ہوا تھا، اس نظریے نے ثقلی عدسوں (Gravitational Lens) کے مظہر کی پیش گوئی کی تھی، دور دراز کی ان کہکشاؤں کی یہ بہ ظاہر شرارتی ہنسی والے چہرے کی شکل کی وجہ بھی یہی ثقلی عدسے ہیں، جن کا مُشاہدہ ھبل اور چندرا (دوربینوں) کے ذریعے ایکسرے اور عام روشنی کو ملا کے کیا گیا ھے۔ ان کہکشاؤں کو عرف عام میں چیشیرز کی بلی …

Read More »

ٹرے پیزیم اورائین کے مرکز میں

اورائین نیبولا کے بیچ و بیچ اس خوبصورت تصویر کے مرکز میں جو چار عدد شدید گرم اور بہت بڑے ستارے آپ کو نظر آرہے ہیں ان کو ٹریپیزیم (Trapezium) کہتے ہیں۔ ان کے بارے میں عجیب سی بات یہ ہے کہ یہ چاروں ستارے ایک دوسرے سے ڈیڑھ نوری سال کے رداس میں پھیلے ہوئے ہیں یہ ستارے اس نیوبلا کے کثیف مرکز کے سب سے نُمایاں اور پُراثر اجسام ہیں۔ یہ یاد رہے کہ ہماری کہکشاں میں ستاروں …

Read More »

سُپرنوا 1994 ڈی اور غیرمتوقع کائینات

زمانوں پہلے بہت ہی دور ایک ستارہ تباہ ہوا، اس کو سُپر نوا 1994ڈی کہتے ہیں یہ تباہی اس تصویر میں کہکشاں این-جی-سی 4526 سے قدرے باہر کی طرف بائیں جانب نیچے کی طرف ایک روشن نشان کی صورت میں نظر آرہی ہے۔ سُپر نوا 1994ڈی کی سب سے دلچسپ بات یہ نہیں تھی کہ یہ دوسرے سُپر نووں سے کتنا مُختلف ھے بلکہ اس میں دلچسپی کا پہلو یہ تھا کہ یہ دوسرے سُپر نووں سے کسقدر مُشابہ تھا۔ …

Read More »

ناسا پھر سے چاند پر جائے گا

کیا پچاس سال پہلے واقعی انسان چاند پر گیا تھا؟ یہ وہ سوال ہے جس نے کئی عشروں سے انسانوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیئے رکھا ہے۔ انسان کے چاند پر جانے کے جتنے شوائد موجود ہیں اتنے ہی اس کے ردمیں ثبوت پیش کئے جاتے ہیں۔ بہر حال اب حالات کچھ تبدیل ہونے جا رہے ہیں کیونکہ ناسا نے انسان کو چاند پر دوبارہ بھیجنے کے پروگرام پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر Jim …

Read More »

مصنوعی ذہانت سے انسانوں کو درپیش خطرات

کچھ قابل توجہ اور اہم لوگ جیسا کہ عظیم سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ اور ایلون مسک نے تجویز کیا کہ مصنوعی ذہانت ممکنہ طور پر بہت خطرناک ہو سکتی ہے حتی ٰ  کہ ایک دفعہ ایلون مسک نےمصنوعی ذہانت کےخطرات کو شمالی کوریا کےجابر حکمران کے ساتھ موازنہ کر دیا۔ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کا بھی ماننا ہے کہ اس سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے لیکن اگر برائی کا اچھی طرح سے سامنا کیا جائے تو اس پر غالب آیا …

Read More »

کیا ڈی این اے کے اندر معلومات کو محفوظ کیا جا سکتا ہے؟

جینیٹکس انجنئیرنگ اور جین ایڈٹنگ ٹیکنالوجی اب دنیا بھر کی کلاسیفائڈ لیبارٹریز میں مقبولیت اختیار کرتی جا رہی ہے اور اس پہ زیادہ سے زیادہ کام ہو رہا ہے مگر اس میدان میں عجیب ترین کام ایک سولہ سالہ فرانسیسی لڑکے نے کر دکھایا جو کہ ہائی سکول کا طالب علم ہے اس نے بائبل اور قرآن کے اوراق کو کسی طرح ڈی این میں تبدیل کیا اور اپنی دونوں رانوں میں انجیکٹ کر لیا ۔ جی ہاں ، اس …

Read More »

آئین سٹائن کا دماغ

اس صدی کے سب سے معروف سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے 17 اپریل 1955ء کو نیو جرسی کے پریسٹن ہسپتال میں وفات پائی۔ اپنی موت سے پہلے آئن سٹائن کی واضح ہدایات تھیں کہ اس کے دماغ اور جسم کو ریسرچ کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔ وہ اپنی آخری تدفین تو چاہتا تھا مگر وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ لوگ اس کو پوجنے لگیں  اس لئے اس نے کہا کہ اس کی راکھ کو خاموشی سے بہا دیا جائے۔ …

Read More »