Home / Tag Archives: سائنس

Tag Archives: سائنس

تصاویر میں زمین اور چاند کا سائز مختلف کیوں ہوتا ہے؟

زمین اور چاند کی تصاویر کو لے کر اکثر لوگ اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ ان تصاویر میں چاند اور زمین جب اکھٹے نظر آتے ہیں تو ان کے سائز میں فرق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اس نیچے دی گئی تین تصاویر کو لے کر زیادہ تر اعتراض کیا جاتا ہے کہ تصویر نمبر 1اور تصویر نمبر2 میں چاند کی نسبت زمین کافی چھوٹی نظر آتی ہے جبکہ تصویر نمبر 3  میں چاند کے پیچھے زمین کافی …

Read More »

انسانی آنکھ کیسے کام کرتی ہے

انسانی آنکھوں کو اردو ادب میں بھی موضوع سخن بنایا گیا کسی نے اپنے محبوب کی آنکھوں کو سمندر سے تشبہ دی تو کسی نے اپنی آنکھوں کو برسات کا منبع قرار دیا کوئی تو اپنے محبوب کی آنکھوں میں اتر کر عشق کی گہرائیوں تک پہنچنا چاہتا تھا تو کوئی محبوب کی آنکھوں میں ڈوبنا چاہتا تھا ۔ بقول عدیم ہاشمی :- ؎ کیا خبر تھی تری آنکھوں میں بھی دل ڈوبے گا میں تو سمجھا تھا کہ پڑتے …

Read More »

پہلے ایٹم بم کی تیاری

گیتا میں لکھا گیا ہے کہ وشنو نے اپنے شہزادے کو کہا کہ میں اب موت ہوں جو دنیا کو لے ڈوبتی ہے   معروف ترین طبیعات دان رابرٹ اوپن ہائمر نے جب پہلا نیوکلیئر دھماکہ دیکھا تو اسے ہندو مذہب کی کتاب کا یہی فقرہ یاد آ گیا جس کا اس نے برملا اظہار بھی کیا۔ جرمنی میں نیوکلیئر فشن کا تجربہ ہو چکا تھا اور اب ہٹلر نیوکلیئر بم حاصل کر لینے کے نزدیک تھا۔ امریکہ نے فوری …

Read More »

ہائیپرون: نوزائیدہ کہکشاؤں کا سب سے بڑا سُپر کلسٹر 

ابتدائی کائینات میں کہکشائیں کیسے بنیں تھیں؟ اس سوال کے جواب کی تلاش میں فلکیات دانوں نے آسمان کے ایک تاریک حصے کا سروے کیا جس کے لئے انہوں نے ساؤتھ امریکی مُلک چیلے میں موجود بہت بڑی دربینوں کے ایک سلسلے کو استعمال کیا اور دور دارز کی اُن کہکشاؤں کو گنا جو کائینات کے آغاز میں وجود میں آئیں تھیں۔ اس تصویر میں پھیلی دور دراز کی (لگ بھگ اڑھائی ریڈشفٹ کی دوری پر) کہکشاؤں کے تجزئیے سے …

Read More »

گریوٹی کا تبسم

البرٹ آئین شٹائین کا نظریہء جنرل اضافیت جو آج سےایک سو سال پہلے شائع ہوا تھا، اس نظریے نے ثقلی عدسوں (Gravitational Lens) کے مظہر کی پیش گوئی کی تھی، دور دراز کی ان کہکشاؤں کی یہ بہ ظاہر شرارتی ہنسی والے چہرے کی شکل کی وجہ بھی یہی ثقلی عدسے ہیں، جن کا مُشاہدہ ھبل اور چندرا (دوربینوں) کے ذریعے ایکسرے اور عام روشنی کو ملا کے کیا گیا ھے۔ ان کہکشاؤں کو عرف عام میں چیشیرز کی بلی …

Read More »

ٹرے پیزیم اورائین کے مرکز میں

اورائین نیبولا کے بیچ و بیچ اس خوبصورت تصویر کے مرکز میں جو چار عدد شدید گرم اور بہت بڑے ستارے آپ کو نظر آرہے ہیں ان کو ٹریپیزیم (Trapezium) کہتے ہیں۔ ان کے بارے میں عجیب سی بات یہ ہے کہ یہ چاروں ستارے ایک دوسرے سے ڈیڑھ نوری سال کے رداس میں پھیلے ہوئے ہیں یہ ستارے اس نیوبلا کے کثیف مرکز کے سب سے نُمایاں اور پُراثر اجسام ہیں۔ یہ یاد رہے کہ ہماری کہکشاں میں ستاروں …

Read More »

سُپرنوا 1994 ڈی اور غیرمتوقع کائینات

زمانوں پہلے بہت ہی دور ایک ستارہ تباہ ہوا، اس کو سُپر نوا 1994ڈی کہتے ہیں یہ تباہی اس تصویر میں کہکشاں این-جی-سی 4526 سے قدرے باہر کی طرف بائیں جانب نیچے کی طرف ایک روشن نشان کی صورت میں نظر آرہی ہے۔ سُپر نوا 1994ڈی کی سب سے دلچسپ بات یہ نہیں تھی کہ یہ دوسرے سُپر نووں سے کتنا مُختلف ھے بلکہ اس میں دلچسپی کا پہلو یہ تھا کہ یہ دوسرے سُپر نووں سے کسقدر مُشابہ تھا۔ …

Read More »

کریب نیبولا

کریب نیبولا چارلس میسئیے کی فہرست میں ایم-1 کے طور پر آتا ھے، یہ وہ فہرست ھے جس کو اٹھارہویں صدی عیسوی میں “چارلس میسئیے” نے ترتیب دیا اس فہرست کو مرتب کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آسمان پر ایسے اجسام جو کامٹ نہیں ہیں لیکن لگتے وہ روئی کے گالوں کی طرح ہیں کو شناخت کیا جائے تاکہ لوگ ان کو کامٹ نہ سمجھ بیٹھیں۔ اس دور میں فلکیات کا اہم ترین مسئلہ ایسے کامٹس کی نشاندہی تھا …

Read More »

چشمِ گرُبہ نیبولا(بلی کی آنکھ والا نیبولا)

بعضوں کو یہ شاید بلی کی آنکھ لگے، فلکیات میں اس نیبولا کو چشمِ گرُبہ یعنی “بلی کی آنکھ والا نیبولا” کہتے ھیں۔ یہ نیبولا زمین سے تین ہزار نوری سال کے فاصلے پر ھے اور یہ ایک عام سا سیاروی نیبولا (planetary nebula) ھے۔   سیاروی نیبولا: یاد رہے سیاروی نیبولا کو سیاروی کہنے کی وجہ تاریخی طور پر یہ تھی کہ اگر آپ کسی سیارے کو دوربین سے دیکھیں تو وہ ایک روئی کے گالے کی طرح نظر …

Read More »

کائنات کے حیرت کدہ سے ایک عکس

مجھے ہمیشہ سے کائینات کی شاعری نے اپنے حصار میں لئے رکھا ہے، مجھے آج بھی جیمس کلارل میکسول کی برقناطیسیت کی ریاضیاتی مُساوات کسی بھی اعلیٰ ترین شعری مجموعے کے پائے کی ہی لگتی ہیں۔ میں آج بھی بے دھیانی میں یہ مساوتیں لکھ کر اور پہروں ڈسپلیسمینٹ کرنٹ(Displacement Current) کے حُسن میں ویسے ہی ڈوبا رہتا ہوں جیسے غالب یا میر کی کوئی بھولی ہوئی غزل یاد آگئی ہو. اور یہی حال فلکیاتی مظاہر کا ہے، میں زحل …

Read More »