Home / Tag Archives: جون ایلیا

Tag Archives: جون ایلیا

اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں (جون ایلیا)

اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں سب کے دل سے اُتر گیا ہوں میں کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں سُن رہا ہوں کہ گھر گیا ہوں میں کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا جیتے جی جب سے مر گیا ہوں میں اب ہے اپنا سامنا درپیش ہر کسی سے گزر گیا ہوں میں وہی ناز و ادا ، وہی غمزے سر بہ سر آپ پر گیا ہوں میں عجب الزام ہوں زمانے کا کہ یہاں سب کے …

Read More »

مرمٹا ہوں خیال پر اپنے (جون ایلیا)

مرمٹا ہوں خیال پر اپنے وجد آتا ہے حال پر اپنے ابھی مت دیجیو جواب کہ میں جھوم تو لوں سوال پر اپنے عمر بھر اپنی آرزو کی ہے مر نہ جاؤں وصال پر اپنے اک عطا ہے مری ہوس نگہی ناز کر خدو خال پر اپنے اپنا شوق ایک، حیلہ ساز آؤ شک ہے اس کو جمال پر اپنے جانے اس دم وہ کس کا ممکن ہو بحث مت کر محال پر اپنے تُو بھی آخر کمال کو پہنچا …

Read More »

میں سہوں کربِ زندگی کب تک (جون ایلیا)

میں سہوں کربِ زندگی کب تک رہے آخر تری کمی کب تک کیا میں آنگن میں چھوڑ دوں سونا جی جلائے گی چاندنی کب تک اب فقط یاد رہ گئی ہے تری اب فقط تری یاد بھی کب تک میں بھلا اپنے ہوش میں کب تھا مجھ کو دنیا پُکارتی کب تک خیمہ گاہِ شمال میں، آخر اس کی خوشبو رچی بسی کب تک اب تو بس آپ سے گلہ ہے یہی یاد آئیں گے آپ ہی کب تک مرنے …

Read More »

اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار ، آ نکلو (جون ایلیا)

اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار ، آ نکلو شروعِ شب کی محفل ہے مری سرکار ! آ نکلو تمہیں معلوم ہے ہم تو نہ آنے کے ، نہ جانے کے تڑپتا ہے تمہیں جی دیکھنے کو یار ، آ نکلو بھروسہ ہی نہیں تم کو کسی پر اور یہاں سب ہیں تمہارے ساتھ آنے کے لئے تیار ، آ نکلو خرابے میں ، سرِ شامِ تمنا ، اے شہِ خوباں ! لگا خانہ خرابوں کا ہے اک دربار …

Read More »

لمحے لمحے کی نارسائی ہے

لمحے لمحے کی نارسائی ہے زندگی حالتِ جدائی ہے مردِ میداں ہوں اپنی ذات کا مَیں میں نے سب سے شکست کھائی ہے اِک عجب حال ہے  کہ اَب اُس کو یاد کرنا بھی بے وفائی ہے اَب یہ صُورت ہے جانِ جاں کہ تجھے بُھولنے میں میری بَھلائی ہے خُود کو بُھولا ہوں اُس کو بُھولا ہوں عُمر بھر کی یہی کمائی ہے میں ہنر مندِ رنگ ہُوں مَیں نے خُون تھوکا ہے داد پائی ہے جانے یہ تیرے …

Read More »

بے قراری سی بے قراری ہے (جون ایلیا)

بے قراری سی بے قراری ہے وصل ہے اور فراق طاری ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے بن تمہارے کبھی نہیں آئی کیا مری نیند بھی تمہاری ہے آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بن سانس جو چل رہی ہے آری ہے اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں رات دن تیری انتظاری ہے ہجر ہو یا وصال …

Read More »

مجھ کو آپ اپنا آپ دیجیے گا (جون ایلیا)

مجھ کو آپ اپنا آپ دیجیے گا اور کچھ بھی نہ مجھ سے لیجیے گا آپ بے مثل، بے مثال ہوں میں مجھ سوا، آپ کس پر یجھیے گا آپ جو ہیں ازل سے ہی بے نام نام میرا کبھی تو لیجیے گا آپ بس مجھ میں ہی تو ہیں، سو آپ میرا بے حد خیال کیجیے گا ہے اگر واقعی شراب حرام آپ ہونٹوں سے میرے پیجیے گا انتظاری ہوں اپنا میں دن رات اب مجھ آپ بھیج دیجیے …

Read More »

مژہ خونین تو چہرہ زرد نکلا (جون ایلیا)

مژہ خونین تو چہرہ زرد نکلا دل اس کرتب میں اپنے فرد نکلا سبھی ویران تھے گھر اور گلیاں کہیں سے اک سگ ولگرد نکلا ندا آئی کہ یہ شہر بلا سے پھر انبوہ سگان زرد نکلا میں نکلا تھا سراغ شہر دل کو مگر واں دل ہی خود پے گرد نکلا حضور موے زیر ناف یہ دل عجب کم بخت تھا، نا مرد نکلا ہوس کس مجھ میں اک دوزخ تھا لیکن شب اول میں بالکل سرد نکلا بھلایا …

Read More »