Home / Tag Archives: احمد فراز

Tag Archives: احمد فراز

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (احمد فراز)

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ اک عمر سے ہوں لذت گریہ …

Read More »

یوسف نہ تھے مـــگر سرِ بازار آ گئے (احمد فراز)

یوسف نہ تھے ــ مـــگر سرِ بازار آ گئے خوش فہمیاں یہ تھیں ــ کہ خریدار آ گئے ھم کج ادا چراغ ـ ـ کہ جب بھی ہوا چلی تاقوں کو چھوڑ کر ــ سرِ دیوار آ گئے پھر اس طرح ہُوا ـ ـ مجھے مقتل میں چھوڑ کر سب چارہ ساز ــ جانبِ دربار آ گئے اَب دل میں حوصلہ ـ ـ نہ سکت بازوں میں ہے اب کے مقابلے پہ ــ میرے یار آ گئے آواز دے کے …

Read More »

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا (احمد فراز)

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا وقت کا کیا ہے گذرتا ہے گذر جائے گا اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائیگا تم سرِ راہِ وفا دیکھتے رہ جاؤ گے اور وہ بامِ رفاقت سے اتر جائے گا زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا تیری بخشش تیری دہلیز پہ دھر جائے گا ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں میں نہیں، کوئی تو …

Read More »

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی (احمد فراز)

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی فراز تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی کوئی خدا ہو کے پتھر جسے بھی ہم چاہیں تمام عمر اسی کی عبادتیں کرنی سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی ہم اپنے دل سے ہیں مجبور اور لوگوں کو ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی …

Read More »

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں (احمد فراز)

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہے فسردہ تو بھی دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب …

Read More »

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (احمد فراز )

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا …

Read More »

ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻝ ﮐﯽ ہتھیلی ﭘﮧ ﮨﮯ ﺻﺤﺮﺍ ﺭﮐﮭﮯ (احمد فراز)

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا اے میری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تیرا کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے یہ قناعت ہے قطاعت ہے کہ چاہت ہے بھلا …

Read More »