Home / محمد سلیم

محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

تصاویر میں زمین اور چاند کا سائز مختلف کیوں ہوتا ہے؟

زمین اور چاند کی تصاویر کو لے کر اکثر لوگ اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ ان تصاویر میں چاند اور زمین جب اکھٹے نظر آتے ہیں تو ان کے سائز میں فرق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اس نیچے دی گئی تین تصاویر کو لے کر زیادہ تر اعتراض کیا جاتا ہے کہ تصویر نمبر 1اور تصویر نمبر2 میں چاند کی نسبت زمین کافی چھوٹی نظر آتی ہے جبکہ تصویر نمبر 3  میں چاند کے پیچھے زمین کافی …

Read More »

سٹار لنک پروجیکٹ

اسپیس ایکس (Space X)نے اپنے ایک میگا پروجیکٹ ’’سٹار لنک‘‘ پر باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا ہے سٹار لنک پروجیکٹ کے تحت اسپیس ایکس لو ارتھ اربٹ میں بارہ ہزار سیٹلائٹس لانچ کرئے گا۔ابتدائی طور پر 62 سیٹلائٹس لانچ کر دی گئی ہیں جبکہ 2020 کے آخر تک مزید سیٹلائٹس تین اربٹ پلین میں لانچ کی جائیں گی جن میں7500 سیٹلائٹس340 کلومیٹرز کی بلندی پر ،1600 سیٹلائٹس 550کلو میٹر پر جبکہ 2800سیٹلائٹس 1150 کلو میٹرز کی بلندی پر ایک …

Read More »

گوگل کروم ٹیم کا 100,000سٹارز پروجیکٹ

اگر آپ کو فلکیات سے دلچسپی ہے اور آپ نے گوگل کا ‘‘ 100,000 سٹارز’’  پروجیکٹ ابھی تک ایکسپلور نہیں کیا تو آپ نے ایک نہایت شاندار چیز چھوڑ دی ہے۔ گوگل  ‘‘ 100,000 سٹارز’’ کو آپ اس لنک سے دیکھ سکتے ہیں  https://stars.chromeexperiments.com/   یہ پروجیکٹ گوگل کی کروم ٹیم نے 2012 میں THREE.js   ، WebGL   اور   CSS3D کی مدد سے بنایا تھا۔  اس میں ہمارے سورج کے ارد گرد موجود 100,000ستاروں کی سورج سے اصل پوزیشن(سمت) اور فاصلے …

Read More »

پاک فو ج نے آج تک کیا کیا ہے؟

پہاڑ کی چوٹی پر بنی اس پوسٹ(سیاچن) پر مسلسل وقت گزارنا واقعی جان جوکھم کا  کام تھا۔ سردی کی شدت ، تیز ہوا، پانی کی کمی، گھر سے دوری ، تازہ خوراک کی عدم دستیابی، رہائش کا ناقص انتظام، گھر سے رابطے میں مشکلات اور ان جیسے درجنوں مسائل کے ہوتے ہوئے پاک آرمی کے جوانوں کا وہاں وقت گزارنا ہمت و جرات کا ایک نمونہ ہی ہے۔ رہائش کے لیے پتھروں سے بنے ہوئے بینکر جنھیں سیمنٹ اور مٹی …

Read More »

منیر نیازی ۔ کچھ یادیں کچھ باتیں

منیر نیازی 09 اپریل 1928ءکو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اردو کے 13 اور پنجابی کے 3 شعری مجموعے یادگار چھوڑے جن میں اس بے وفا کا شہر‘ تیز ہوا اور تنہا پھول‘ جنگل میں دھنک‘ دشمنوں کے درمیان شام‘ سفید دن کی ہوا‘آغاز زمستاں میں دوبارہ، سیاہ شب کا سمندر‘ ماہ منیر‘ چھ رنگین دروازے‘ ساعت سیار، پہلی بات ہی آخری تھی، ایک دعا جو میں بھول گیا تھا، محبت اب نہیں …

Read More »

صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے (محسن نقوی)

صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے اب اہلِ جُنوں شہر سے باہر نہیں آتے وہ کال پڑا ہے تجارت گاہِ دل میں دستاریں تو میسر ہیں مگر سَر نہیں آتے وہ لوگ ہی قدموں سے زمیں چھین رہے ہیں جو لوگ میرے قد کے بھی برابر نہیں آتے اِک تم کہ تمہارے لیے میں بھی ؛ میری جان بھی اِک میں کہ مجھے تم بھی میسر نہیں آتے اِس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و …

Read More »

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (احمد فراز)

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ اک عمر سے ہوں لذت گریہ …

Read More »

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا (عدم)

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا ہم اس کے ہو گئے ہمیں جسکا بنا دیا تقدیر نے، فلک نے،محبت نے عشق نے جس نے بھی چاہا میرا تماشہ بنا دیا ویرانیاں سمیٹ کر سارے جہان کی جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا اب تم مرے بنو نہ بنو تم کو ہے اختیار تقدیر نے تو مجھ کو تماشہ بنا دیا ہوتا خدا کا عشق تو بن جاتا اور کچھ بندے کے عشق نے مجھے بندہ …

Read More »

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری (نصیر ترابی)

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری دن جو گزرا تو کسی یاد کی رَو میں گزرا شام آئی، تو کوئی خواب دکھا تے گزری اچھے وقتوں کی تمنا میں رہی عمرِ رواں وقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گزری زندگی جس کے مقدر میں ہو خوشیاں تیری اُس کو آتا ہے نبھانا، سو نبھاتے گزری زندگی نام اُدھر ہے، کسی سرشاری کا اور اِدھر دُور سے اک آس لگاتے …

Read More »

جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں (علی زریون)

جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں میں ایسے عشق پہ ایمان لانے والا نہیں میں پاؤں دھو کے پئیوں یار بن کے جو آئے منافقوں کو تو میں منہ لگا نے والا نہیں نزول کر مرے سینے پہ اے جمال ِ شدید تری قسم میں ترا خوف کھانے والا نہیں بس اِتنا جان لے اے پُر کشش کے دل تجھ سے بہل تو سکتا ہے پر تجھ پہ آنے والا نہیں یہ میری آنکھ میں بھڑکے تو …

Read More »