Home / اردو ادب / شاعری / یہیں کہیں میں کسی گوشہ ء جمال میں تھا (میثم علی آغا)

یہیں کہیں میں کسی گوشہ ء جمال میں تھا (میثم علی آغا)

یہیں کہیں میں کسی گوشہ ء جمال میں تھا
میں عشق ہونے سے پہلے بھی ایسے حال میں تھا

مِری زبان پہ جاری تھی آیتِ وحشت
میں ہجر آنے سے پہلے یہ کس خیال میں تھا

یہ جسم و روح بہت بعد میں بنے، پہلے
میں ایک اِسم کے اندر تھا اور وصال میں تھا

بُجھے چراغ کی جانب سِرک رہی تھی ہوا
سسکتا ڈوبتا سورج کسی ملال میں تھا

عجب گُھٹن تھی کسی کے اُداس لہجے میں
عجیب کرب اذّیت ذدہ سوال میں تھا

بچھڑتے وقت اُسے ساتھ لے گئے ہوتے
وہ ایک دُکھ جو مِری چشمِ برشگال میں تھا

دُعائیں دے کے میں تُجھ سے بچھڑ گیا لیکن
یہ میری آنکھ کا دریا بڑے اُچھال میں تھا

نہ جانے ہاتھ سے کیسے پھسل گیا میثم
وہ ایک شخص ازل سے جو دیکھ بھال میں تھا

 

میثم علی آغا

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *