Home / سائنس / ہم اپنے دماغ کا ساری زندگی کتنے فی صد حصہ استعمال کرتے ہیں

ہم اپنے دماغ کا ساری زندگی کتنے فی صد حصہ استعمال کرتے ہیں

سوال : ہم اپنے دماغ کا ساری زندگی کتنے فی صد حصہ استعمال کرتے ہیں ؟؟؟

جواب : اکثر لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ہم پوری زندگی اپنے دماغ کا کتنے فی صد حصہ استعمال کرتے ہیں جو کہ بلکل ایک بے تکا سوال ہے میرے خیال میں ان لوگوں نے دماغ کو ایک کیک کی مانند سمجھ رکھا ہے کہ اس کیک کا تھوڑا سا حصہ کھایا اور باقی بچا کر رکھ لیا
دماغ ایسا ہرگز نہیں ہے ایک انسان ایک وقت میں اپنے دماغ کے کئی حصے استعمال کر رہا ہوتا ہے پہلے میں دماغ کے حصوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
انسان کے دماغ کے تین بڑے حصے ہیں
١ – فور برین (forebrain)
٢ – مڈ برین ( midbrain)
٣ – ہائینڈ برین ( hindbrain)

 

فوربرین : 
یہ دماغ کا سب سے بڑا حصہ ہے اس کے مزید اہم حصے ہیں
١ – تھیلے مس( thalamus ) : یہ دماغ اور سپائنل کارڈ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ کا مرکز ہے – یہ درد کے احساس اور سونے جاگنے کی حس کا ذمہ دار ہے
٢ – ہائپو تھیلے مس (hypothalamus): یہ نروس سسٹم اور اینڈوکرائن سسٹم کے درمیان تعلق بناتا ہے یہ غصہ ، درد ، خوشی اور غم جیسے احساسات کو کنڑول کرتا ہے
٣ – سیریبرم (cerebrum) :یہ سکیلٹل مسلز ، سوچنے اور جزبات کو کنڑول کرتا ہے نیز جلد اور بصری معلومات کو بھی وصول کرتا ہے اور سننے اور سونگھنے کی حسوں سے بھی تعلق رکھتا ہے

مڈ برین : 
یہ فور برین اور ہائینڈ برین کے درمیان رابطہ کا کام کرتا ہے نیز سماعت کے چند فوری ریفلیکسز کو اور جسم کی مجموعی پوزیشن کو بھی کنڑول کرتا ہے

ہائینڈ برین : 
یہ بھی تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے
١ – میڈولا اوبلا نگیٹا ( medulla oblangata)
یہ سانس لینے ، دل کی ڈھڑکن کی رفتار اور بلڈ پریشر کو کنڑول کرتا ہے اس کے علاوہ مختلف ریفلیکسز مثلا قے، کھانسی، چھینک وغیرہ کو بھی کنڑول کرتا ہے
٢ – سیریبلم (cerebellum) :
یہ مسلز کی حرکات میں ہم آہنگی رکھتا ہے
٣ – پانز ( pons) :
یہ سانس کو کنٹرول کرنے میں میڈولا کی مدد کرتا ہے اور سیریبلم اور سپائنل کارڈ میں رابطہ کا کام بھی کرتا ہے

 

ان سب حصوں کے کام کا بتانے کا مقصد یہ تھا کہ دماغ کا ہر حصہ مختلف کام سر انجام دیتا ہے اگر آپ سو بھی رہے ہوں تو یہ حصے اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور ان کاموں میں پورا دماغ حصہ لے رہا ہوتا ہے اس لیے یہ کہنا بلکل بے جا ہے کہ ہم اپنے دماغ کا صرف 10 % یا 20 یا 40 فی صد حصہ استعمال کرتے ہیں ہم ایک کام کو سر انجام دینے کے لیے اپنے دماغ کے مختلف حصوں کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں لہذا یہ بات سرے سے ہی غلط ہے کہ ہم اپنا سارا دماغ استعمال نہیں کر سکتے

About رضوان سلیم

رضوان سلیم پنجاب کے تاریخی شہر بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابھی سٹوڈنٹ ہیں مگر وسیع مطالعہ کے حامل ہیں۔ سائنس سےگہری دلچسپی ہے اور سائنسی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ ان کے لکھے گئیے مضامین ان کی فیس بک وال پر بھی شئیر ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *