Home / سائنس / کیا ڈی این اے کے اندر معلومات کو محفوظ کیا جا سکتا ہے؟

کیا ڈی این اے کے اندر معلومات کو محفوظ کیا جا سکتا ہے؟

جینیٹکس انجنئیرنگ اور جین ایڈٹنگ ٹیکنالوجی اب دنیا بھر کی کلاسیفائڈ لیبارٹریز میں مقبولیت اختیار کرتی جا رہی ہے اور اس پہ زیادہ سے زیادہ کام ہو رہا ہے مگر اس میدان میں عجیب ترین کام ایک سولہ سالہ فرانسیسی لڑکے نے کر دکھایا جو کہ ہائی سکول کا طالب علم ہے اس نے بائبل اور قرآن کے اوراق کو کسی طرح ڈی این میں تبدیل کیا اور اپنی دونوں رانوں میں انجیکٹ کر لیا ۔

جی ہاں ، اس خبر نے آپ میں سنسنی کی لہر دوڑا کر آپ کو ششدر کر دیا ہو گا ۔ ایڈرین لوکیتیلی نے خود کو کسی مذہبی متن والے میکرومالیکیولز انجیکٹ کرنے والا تاریخ کا پہلا شخص ہونے کا دعوی کر دیا ۔ اس نے عبرانی اور عربی زبان کے ہر ہجے کو نیوکلیو ٹائیڈ میں تبدیل کیا ۔ اس بچے نے قرآن اور بائبل کو اپنی مرضی کی ڈی این اے کی ڈور میں تبدیل کیا ۔ اس کام میں اس کی مدد ویکٹربلڈر اور پروٹوجینکس نامی دو کمپنیوں نے کی ( جو کہ وائرس اور سنتھیٹک جین بنانے کا کام کرتی ہیں ) ۔ اس نئے اور انوکھے سائنسدان نے بذریعہ ڈاک اپنے ان مقدس میکرو مالیکیولز کو وصول کیا اس نے لائیو سائنس کو بتایا کہ اس کو صرف سیلائن سلوشن اور ایک سرنج خریدنے کی ضرورت تھی کیونکہ ویکٹر بلڈر نے اسکو ایک مائع محلول اور پروٹوجینیکس نے پاوڈر بھیجا تھا ۔

اس انوکھے سائنسدان کا خیال ہے کہ اس تجربے کے بعد اس کو انجیکشن کی جگہ پہ ہلکہ سی سوزش کے علاوہ کوئی بھی منفی اثرات دکھائی نہیں دئے اور اس نے یہ عجیب ترین تجربہ سائنس اور مذہب کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون پیدا کرنے کے لئے کیا ۔ مزید اس نے کہا کہ کسی مذہبی شخص کے لئے اس قسم کے انجیکشن نہایت کارآمد ہو سکتے ہیں جبکہ ڈی این اے ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا انوکھا ترین تجربہ ایک الرجی ری ایکشن کے علاوہ اور کسی فائدے کا نہیں ہو سکتا لیکن ابھی تک کوئی بھی ماہر اس کے اثرات کے بارے میں یقینی طور پہ کچھ کہنے سے قاصر ہے ۔

تین دسمبر کو اس لڑکے نے اپنا ذاتی تجربہ اوپن سائنس فریم ورک نامی ایک ویبسائٹ پہ لکھا جہاں پر نئے سائنسدان اپنی ریسرچ اپلوڈ کرتے ہیں تاکہ دوسرے لوگ پڑھ کے رائے دیں ۔
ایڈرین نے سب سے پہلے ٹیکسٹ کو اس نیوکلیئک ایسڈ میں تبدیل کیا جو ڈی این اے بناتا ہے ۔ بائبل کے لئے اس نے عبرانی زبان کے چوبیس ہجوں کو چار ممکنہ ایسڈز سایٹوسین ، تھیمائین ، جونائن اور ایڈونائن میں بدلا اور عربی زبان کے لئے اٹھائیس میں سے پانچ کو مختلف کیا جس میں سے بھی تین کو بالکل مختلف نیوکلئیک ایسڈ سے بنایا ‘ر’ اور ‘ص’ کے لئے ایک ہی ایسڈ تھیمائن استعمال کیا ۔ دونوں زبانوں میں وقفہ رموز اوقاف وغیرہ نہیں ڈالے گئے ۔ پھر اس نے مذکورہ کمپنیوں سے ڈی این کے آپس میں جڑے ہوئے ریشے خریدے جو کہ کسی نئے ڈی این اے کو خلیات میں داخل کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔

سری رام کوسوری یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ماہر بائیو کیمیسٹ نے بتایا کہ یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ یہ طریقہ کام کرے گا بھی یا نہیں اور یہ دیکھنے کا بھی کوئی طریقہ نہیں ہے کہ یہ سنتھیٹک ڈی این اے اس لڑکے کے خلیات میں مکمل طور پر پہنچ پایا یا نہیں ۔ لیکن اس نو عمر سائنسدان کے کام نے یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ ڈی این اے اندر کوئی بھی معلومات محفوظ کرنا آسان ہے اور یہ ایک انتہائی غیر معمولی طریقہ ہے یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اس پہ کام کر رہے ہیں کہ لامحدود معلومات کو کسی طرح ڈی این اے اندر محفوظ کیا جا سکے مگر یہ انتہائی مہنگا طریقہ ہے اور بائیو ٹیکنیکل کمپنیاں اس کو سستا اور معیاری کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔

اس ریسرچ میں اگر ایڈرین کے خلیات میں نیا مصنوعی ڈی این اے مکمل طور پر شامل ہو گیا تو اس نے اپنا کام شروع کر لیا تو وہ خود کو جینیٹیکلی ایڈٹ کرنے میں کامیاب ٹھہرے گا جو کہ غالبا فی الحال ممکن نہیں ہو پایا ۔ اگر مصنوعی ڈی این اے محفوظ ہو بھی گیا تو یہ ترجمہ اتنا پیچیدہ ہے کہ اصل زبان کے الفاظ کی صورت میں اس کو ڈھالنا کافی مشکل ہو گا ۔ ایڈرین نے مذہبی لوگوں کے لئے اس کو فائدہ مند تو قرار دیا تاہم اس نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس کو یہ خیال کیسے آیا اور نہ ہی یہ سامنے آیا ہے کہ وہ خود کس مذہب کا پیروکار ہے

About سحر عندلیب

سحر عندلیب خود اپنی تلاش اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ایک طالب علم ہیں۔ شعبہ تعلیم سے تو وابستہ ہیں مگر سمجھتی ہیں کہ ابھی بھی علم کے سمندر کا ایک قطرہ بھی حاصل نہیں کر سکیں بہت کچھ سیکھنا باقی ہے اس بلاگ پر اور دیگر کئی ویب سائٹس اور فیس بک گروپس میں سحر عندلیب کے مضامین باقاعدگی سے پوسٹ ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *