Home / فلکیات / کائناتی بارشیں

کائناتی بارشیں

پچھلے سال یہ تصویر ہزاروں بار سوشل میڈیا پر شئیر کی گئ تھی، آج کل ایک بار پھر اس کو میں مختلف گروپس میں دیکھ رہا ہوں۔

کیا واقعی ہی مختلف دنیاوں میں ایسی بارشیں ہوتی ہیں؟ کیا نیپچون پر ہیروں کی بارش ہوتی ہے یا وینس پر تیزاب کی؟ ان سوالوں کے جوابات کیلئے آپ کو پوری پوسٹ پڑھنی ہوگی۔

 

تیزاب کی بارش:

زمین پر بارش کا تصور بہت خوبصورت ہے، ایک انجانی خوشی کا احساس اور مٹی کی بھینی بھینی خوشبو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ مگر وینس پر بارش کا احساس کچھ زیادہ خوش کن نہیں ہے۔ وینس نظام شمسی کا دوسرا سیارہ ہے اور اس کو صحیح معنوں میں ایک جہنم کہا جا سکتا ہے۔ وینس پر کبھی زمین کی طرح کا ماحول تھا، یہاں پر گہرے سمندر تھے مگر پھر زمین کے جڑواں کہلائے جانے والے وینس کے حالات بدلنے شروع ہو گئے اور یہ ایک جہنم میں تبدیل ہو تا گیا اب اس کا درجہ حرارت دن کے وقت 462   ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا گیاہے۔

وینس کا کرہ ہوائی 96.5% کاربن ڈائی آکسائڈ اور باقی 3.5%نائٹروجن گیس پر مشتمل ہے۔ اس کا کرہ ہوائی زمین کی نسبت 93گنا زیادہ گھنا ہے ۔ وینس کی سطح سے 50سے 70کلو میٹر تک گھنے بادل ہیں جس کی وجہ سے ہم خلا سے اس کی سطح کو نہیں دیکھ پاتے۔ 50کلو میٹر سے نیچے 30کلو میٹر تک ہلکی دھند ہے اور اس سے نیچے ہوا صاف ہے۔ کرہ ہوائی کی بلندی پر یعنی کاربن ڈائی آکسائڈ کے بادلوں کے اوپر ایک بالکل ہلکی گیسی پرت سلفر ڈائی آکسائڈ کی ہے۔ یہ سلفر ڈائی آکسائڈ وینس کے آتش فشاں پہاڑوں کی بدولت ہے ۔

وینس کے کرہ ہوائی کی اوپری سطح پر سلفیورک ایسڈ کی تیزابی بارش ہوتی ہے مگر یہ بارش کبھی سطح تک نہیں پہنچی اور سطح سے 25کلو میٹر پہلے ہی گیس میں بدل جاتی ہے۔

 

ہیروں کی بارش:

نیپچون نظام شمسی کا آٹھواں سیارہ ہے ۔ نیپچون کا کرہ ہوائی زیادہ تر ہائیڈروجن(80%) ، ہیلم (10%)اور متھین (1%)پر مشتمل ہے مگر تھوڑی مقدار میں ہائیڈروکاربن اور نائٹروجن بھی شامل ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ پانی اور میتھین کی  برف بھی شامل ہے۔ نیپچون پر بہت تیز طوفان چلتے رہتے ہیں جن کی رفتار 2160کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے۔

ایسا سمجھا جاتا ہے  کے نیپچون کی متھین بہت زیادہ پریشر کی بدولت ہیروں میں بدل جاتی ہے۔ مگر مطلوبہ پریشر کیلئے ہمیں نیپچون کی کرہ ہوائی میں 7000کلو میٹر نیچے تک جانا ہو گا جہاں پر بہت زیادہ پریشر اور شدید طوفانی حالات کا سامنا کرنا ہو گا۔

اس تھیوری کو کچھ لیب کے تجربات سے ثابت بھی کیا جاتا ہے۔ ان تجربات کے بارے میں آپ مزید اس لنک سے پڑھ سکتے ہیں۔

http://www.spacedaily.com/news/carbon-99d.html

 

متھین کی بارش:

نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل  کے سب سے بڑے چاند کا نام ٹائٹن ہے۔ ٹائٹن پورے سولر سسٹم کے چاندوں میں ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ یہ واحد چاند ہے جس کا ایک گھنا کرہ ہوائی ہے۔ ٹائٹن زمین کے بعد واحد فلکیاتی جسم ہے جس کی ٹھوس سطح پرکسی مائع کی بارش ہوتی ہے اور یہ مائع متھین ہے۔

 

شیشے کی بارش:

کیا 63نوری سال کے فاصلے پر موجود ستارےHD189733 کے سیارے HD189733bپر شیشے کی بارش ہوتی ہے؟  HD189733bکو 2005میں ڈسکور کیا گیا۔ یہ جیوپٹر سے ماس میں 13گنا بڑا ہے۔ یہ اپنے ستارے کے قریب واقع ہے اور تیزی سے اس کے گردگھوم رہا ہے۔ یہ زمینی سوا  دو  دن میں اپنے ستارے کے گرد ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ یہ ایک گیسی جائنٹ ہےجس  پر بہت تیز طوفان چلتے رہے ہیں جن کی رفتار7000کلو میٹر فی گھنٹہ تک ہے اور اس کی سطح کا درجہ حرارت 1000سینٹی گریڈ تک ہے۔

یہ سیارہ نیلی روشنی میں گلو کرتا ہے مگر یہ نیلی روشنی کسی سمندر یا پانی کا ریفلیکشن نہیں بلکہ یہ Silicate Particles  ہیں جس کو شیشہ تصور کیا جاتا ہے۔

 ہم اس بارے میں ابھی گارنٹی سے کچھ نہیں کہہ سکتے مگر ایسا فرض کیا جاتا ہے کہ ان Particles کی موجودی میں HD189733bپر شیشے کی بارش ہوتی ہے اور تیز طوفان کی وجہ سے یہ بارش اوپر سے نیچے نہیں بلکہ سائیڈ سے چلتی ہے۔

 

لوہے کی بارش:

اس تصویر میں موجود تمام سیاروں میں سے جس کے بارے میں ہم سب سے کم جانتے ہیں وہ  OGLE-TR-56b ہے۔ یہ سیارہ 2003  میں ڈسکور کیا گیا۔  اس کی سطح کا درجہ حرارت 2000سینٹی گریڈ ہے جو کہ لوہےکے ایٹمز کو بخارات میں بدلنے کیلئے ایک دم صحیح ہے۔ اس بارے میں ابھی کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہاں لوہے کی ذرات کی بارش ہوتی ہے یا نہیں ۔بس یہ ایک تھیوری ہی ہے ، ہو سکتا ہے اس سیارے پر کرہ ہوائی سرے سے موجود ہی نہ ہو۔

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *