Home / ٹیکنالوجی / مصنوعی ذہانت سے انسانوں کو درپیش خطرات

مصنوعی ذہانت سے انسانوں کو درپیش خطرات

کچھ قابل توجہ اور اہم لوگ جیسا کہ عظیم سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ اور ایلون مسک نے تجویز کیا کہ مصنوعی ذہانت ممکنہ طور پر بہت خطرناک ہو سکتی ہے حتی ٰ  کہ ایک دفعہ ایلون مسک نےمصنوعی ذہانت کےخطرات کو شمالی کوریا کےجابر حکمران کے ساتھ موازنہ کر دیا۔ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کا بھی ماننا ہے کہ اس سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے لیکن اگر برائی کا اچھی طرح سے سامنا کیا جائے تو اس پر غالب آیا جا سکتا ہے۔ چونکہ حالیہ ترقی انتہائی ذہین مشینیں بنا چکی ہے اور اب وقت  ہےکہ  یہ  جان  لیا جائے  کہ مصنوعی ذہانت کتنے خطرناک اثرات  رکھتی ہے۔

*اطلاقی اور معمولی مصنوعی ذہانت کیا ہے۔؟
اصل میں مصنوعی ذہانت ایسی مشینیں بنانا ہے جو نہ  صرف سوچ سکیں  بلکہ  ذہانت کا مظاہرہ کریں ا ور اسکے ساتھ ساتھ گوگل سرچ جیسے آلات پر مشتمل ہوں یا ایسی مشینیں جو خود کار گاڑیاں  بناسکیں۔ جدید ترین ایجادات کو انسانوں پر مثبت تاثر ڈالنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کوئی بھی طاقت ور آلہ اگر غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو اسکا منفی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آج ہم ایسی مصنوعی ذہانت کا اطلاق حاصل کر چکے ہیں جو کہ چہرے کی شناخت سے لے کرزبان کا ترجمہ و تحقیق جیسے کام کر سکتی ہے اور بلآخر اب اس محکمے کے ماہرین ایسی مصنوعی ذہانت کے لئے کام کر رہے ہیں جو کہ نہ صرف ذہین  انسانوں والے کام سنبھال    لیں گے بلکہ ذہانت میں انسانوں کو بھی پیچھےچھوڑ دیں۔

ایک سوال کےجواب میں ایلون مسک نے لکھا۔

“مصنوعی ذہانت  میں ترقی کی رفتار ناقابل یقین حد تک تیز ہے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ کتنی تیز۔ یہ ایک ناقابل یقین رفتار سے بڑھ رہی ہے اگلے پانچ یا زیادہ سے زیادہ دس سال تک کچھ انتہائی خطرناک ہونے کا  خدشہ ہے۔”

مصنوعی  ذہانت کے بہت سے ایسے آلات بھی ہیں جو ہماری روز مرہ  کی زندگی کو بہتر اور آسان بناتے ہیں۔ یہ ہماری  حفاظت کو یقینی بنانے میں ایک تنقیدی کردار ادا کرتی ہے  اسی وجہ سے مسک اور ہاکنگ سمیت دیگر سائنسدان  ٹیکنالوجی کے بارے میں اظہار کرتے ہوئےتشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہمارا سسٹم اور پاور سٹیشن مصنوعی ذہانت کی وجہ سے چلتا ہے تو ہمارا سب سے بڑا  ڈر یہی ہو گا کہ ہمارا سسٹم چلانے والا ہمارے خلاف نہ ہو جائےاور اگر کوئی دوسرا ہمارے سسٹم کو ہیک کر لے تو نا قابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کیسے خطرناک ہو سکتی ہے۔؟

اگرچہ ابھی تک ہم نے انتہائی ذہین مشینیں  حاصل نہیں کی لیکن قانونی ،سیاسی،معاشی اور مالی مسائل اتنے پیچیدہ ہیں   جن کو سلجھانے کی ضرورت ہے تاکہ وقت آنے پر ہم انہیں احتیاط سے استعمال کرنے کے لئے تیار ہو چکے ہیں۔ انتہائی ذہین مشینوں کے ساتھ مستقبل میں رہنے کی تیاری تو ایک طرف  ذہانت اپنی موجودہ حالت میں بھی انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے کچھ کلیدی خطرات یہ ہیں۔

*خود مختار ہتھیار۔
مصنوعی ذہانت  خطرناک کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس لیےخود مختار ہتھیاردوسروں کو مارنے کے لئے استعمال  بھی ہو سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے خطرہ ثابت ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے  اور توقع کی جا سکتی ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کی جگہ عالمی  قوتوں  میں خود مختار ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔

روس کے صدر پیوٹن کا کہنا ہے۔

“مصنوعی ذہانت صرف روس کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مستقبل ہے۔ یہ بہت سی سہولیات مہیا کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ بہت سے خطرات بھی ہیں جن کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہے اور جو کوئی بھی اس کام میں آگے رہےگا وہ پوری دنیا کا حاکم بنے گا۔”

یہ بیان ایک ملک کے صدر کا ہے جو کہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے سپر پاور ز میں شامل ہے۔ اس میں انہوں نے واضع طور پر کہا ہے کہ جو کوئی بھی مصنوعی ذہانت کا راہنما بنے گا وہ ہی پوری دنیا  پر حکومت کر سکے گا اور سپرپاورز ممالک اسی کام میں لگے ہوئے ہیں کہ کیسے دوسرے ممالک پر حکومت کی جا سکے  اس معاملے میں مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی  کافی حد تک اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس بات کے ڈرسے ہٹ کر کہ خود مختار ہتھیار اپنے ذہن کااستعمال کر سکتے ہیں تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ہتھیارکسی ایسے انسان یا حکومت کے ہاتھوں استعمال ہو سکتے ہیں جو انسانی زندگی کی قدر نہیں کرتی اگر ایک دفعہ ان کا استعمال شروع ہوا  تو ان سے لڑکر ان پر قابو پانا یا انہیں ختم کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔

*سماجی  ہیرا پھیری
سوشل میڈیا اپنے خودکار سسٹم کی وجہ سے ٹارگٹ مارکیٹنگ پر ایک گہرا اثر رکھتا ہے ویب والے جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں ہم کیا پسند کرتے ہیں اور یہ اندازہ لگانے میں کافی اچھے ہیں کہ ہم کیا سوچتے ہیں ۔

 ( Cambridge Analyticaکیمبریج اینالاٹیکا (

اور اس سے جڑے ہوئے دوسرے لوگ جنہوں نے 50 میلین فیس بک کا استعمال کرنے والوں کے ڈیٹا کو امریکی صدارتی انتخاب  اور انگلینڈ کے بریکسٹ ریفرینڈم  کو بدلنے کے لئے بھی استعمال کیا انکی غلطی جاننے کے لئے آج بھی تحقیقات جاری ہیں  لیکن اگر اندازے درست ہیں تو انہوں نے ایسی سماجی ہیرا پھیری کے لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔ لوگوں میں ذاتی معلومات سے لے کر سروے کے ذریعے ملنے والی معلومات سے پروپیگنڈا پھیلا کر مصنوعی ذہانت انکو نشانہ بنا سکتی ہے اورجو معلومات انکو پسند ہوں کسی بھی فارمیٹ میں انکو اس طرح سے پھیلا سکتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اثر انداز ہوں خواہ وہ سچ ہو یا جھوٹ۔

*ذاتی معلومات اور سماجی گریڈنگ پر حملہ۔
اب کسی انسان کے ہر عمل کا آن لائن پتہ لگانا چاہے وہ اپنے روز مرہ کے کاموں میں ہی مشغول ہو ممکن ہےکیونکہ  کیمرے تقریباء ہر جگہ موجود ہیں اور چہروں کی شناخت کرنے کی تکنیک جانتی ہے کہ آپ کون ہیں ۔ حقیقت میں یہ ہی وہ معلومات ہیں جو کہ چین کے سماجی کریڈٹ سسٹم کو اقتدار میں لے جا رہی ہیں جس میں یہ توقع کی گئی ہے کہ 1.4 بلین شہریوں میں سے ہر ایک کو ان کے رویئے کی بنیاد پر ایک ذاتی کوڈ دیا جائے گا جیسا کہ وہ لاپرواہی سے چلتے ہیں کیا وہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والی جگہوں پر سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور وہ ویڈیو گیمز کھیلنے پر کتنا وقت ضائع کرتے ہیں ۔ جب کوئی سپر پاورآپکو دیکھ رہی ہو اور وہ اس مشاہدے کی بنیاد پر فیصلے کرے تو یہ نہ صرف آپکی رازداری پر حملہ ہو گا بلکہ یہ جلد سماجی جبر کی صورت اختیار کر جائے گا۔

*آپکے اہداف اور مشینوں کے درمیان غلط تعلق۔
مصنوعی ذہانت کی مشینوں میں انسانی اقدار کا خیال انکی اعلی کارکردگی اور موثریت  ہے لیکن اگر ہم پر وہ اہداف واضع نہیں جو ہم نے مصنوعی ذہانت کی مشینوں کے لئے سوچے ہیں تو یہ خطرناک ہو سکتا ہے کہ اگر وہ مشین ان اہداف پر پورا  نہ  اترے تو خطرناک ہو گا مثال کے طور پر”مجھے جتنا جلدی ہو سکے ائیر پورٹ تک پہنچاو” اس کمانڈکے برے نتائج ہو سکتے ہیں۔

اس بات کو بغیر سمجھے کہ سڑک کے قوانین کا احترام کرنا چاہیئے کیونکہ ہم انسانی زندگی کو اہمیت دیتے ہیں ایک مشین آپکو جتنا جلدی ہو سکے ائیر پورٹ پر پہنچانے کے لئے اپنے ہدف کو جلد از جلد مکمل کرے گی لیکن

اپنے پیچھے حادثات کی ایک لمبی قطار چھوڑ جائے گی۔

*امتیازی سلوک۔
اگر مشینیں آپ کے بارے میں کچھ ٹریک کر سکتی ہیں آپکی معلومات اکٹھی کر سکتی ہیں اور آپ پر تجزیہ کر سکتی ہیں تو وہ اسکو آپکے خلاف بھی استعمال کر سکتی ہیں یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ ایک انشورنس کمپنی آپ کو بتا رہی ہو کہ آپ اس بنیاد پر انشورنس کے قابل نہیں کہ آپ کیمرے میں  کافی دفعہ فون پر بات کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں  یا کہ

ایک ملازم کو اسکی سماجی کریڈٹ سکور کی بنیاد پر ملازمت کی پیش کش کی جا رہی ہو۔

کسی بھی طاقت وار ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کو بہت سے اچھے کاموں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے جیسا کہ بیماریوں کی بہتر تشخیص کے لئے ، کینسر کے علاج  کے نئے طریقےڈھونڈنے کے لئےاور ہماری  گاڑیوں کی حفاظت کے لئے مگر بدقسمتی سے جیسے ہی ہماری مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں بڑھیں گی تو ہم دیکھیں گے کہ اسکو برے اور خطرناک مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جا رہا ہو گا۔ چونکہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کے تباہ کن اثرات کو کم کرنے اور اسکے مثبت اثر کو قائم رکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ اقدامات کریں۔

About سحر عندلیب

سحر عندلیب خود اپنی تلاش اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ایک طالب علم ہیں۔ شعبہ تعلیم سے تو وابستہ ہیں مگر سمجھتی ہیں کہ ابھی بھی علم کے سمندر کا ایک قطرہ بھی حاصل نہیں کر سکیں بہت کچھ سیکھنا باقی ہے اس بلاگ پر اور دیگر کئی ویب سائٹس اور فیس بک گروپس میں سحر عندلیب کے مضامین باقاعدگی سے پوسٹ ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *