Home / اردو ادب / شاعری / صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے (محسن نقوی)

صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے (محسن نقوی)

صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے
اب اہلِ جُنوں شہر سے باہر نہیں آتے

وہ کال پڑا ہے تجارت گاہِ دل میں
دستاریں تو میسر ہیں مگر سَر نہیں آتے

وہ لوگ ہی قدموں سے زمیں چھین رہے ہیں
جو لوگ میرے قد کے بھی برابر نہیں آتے

اِک تم کہ تمہارے لیے میں بھی ؛ میری جان بھی
اِک میں کہ مجھے تم بھی میسر نہیں آتے

اِس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جان ہم
اِس طَور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے

کوئی تو خبر لے میرے دشمنِ جان کی
کچھ دن سے میرے صحن میں پتھر نہیں آتے

دل بھی کوئی آسیب کی نگری ہے کہ محسن
جو اِس سے نکل جاتے ہیں مُڑ کر نہیں آتے

 

محسن نقوی

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *