Home / فلکیات / سٹیفان کا پنجگانہ کہکشاؤں کا گروپ

سٹیفان کا پنجگانہ کہکشاؤں کا گروپ

ایک فرانسیسی ماہرِ فلکیات تھے ایدوارد سٹیفان
Édouard Stephan
جن کا دور بنتا ہے 1837 سے 1923 تک، ان صاحب نے سب سے پہلے کسی ستارے کے انگیولر سائیز سے اس کا اصل سائیز معلوم کرنے کا طریقہ وضع کیا انہوں نے مشہور کہکشائیں این۔جی۔سی 5 اور این۔جی۔سی 6027 بھی دریافت کیں۔ لیکن ان کی اہم ترین دریافت آج کی اس تصویر کا موضوع ہے اور یہ دریافت ان بھائی صاحب کے ہی نام سے جانی جاتی ہیں جس کو سٹیفان کا پنجگانہ یا انگریزی میں
Stephan’s Quintet
کہتے ہیں۔

 

کہکشاؤں کا کومپیکٹ گروپ
(compact galaxy group)
چند کہکشاؤں کا ایسا گروپ جس میں تھوڑی سی کہکشائیں (چار یا پانچ تک) ایک تھوڑے سے فاصلے میں ٹھنسی ہوئی ہوں اور باقی کی کہکشاؤں سے یہ نسبتاً الگ تھلگ ہوں کو کہکشاؤں کا کومپیکٹ گروپ کہتے ہیں۔ اس کو سب سے پہلے سیٹفان نے 1877 میں دریافت کیا تھا۔ آج تک ہم کم و بیش ایک سو اس طرح کے گروپ دریافت کر چُکے ہیں اور ان کی باقاعدہ اپنی گروہ بندی کی جاتی ہے اور ان کی ایک الگ سے فہرست ہوتی ہے جس کو ہیکسن کی کومپیکٹ کہکشاؤں کی فہرست کہتے ہیں۔

 

ٹینگو رقص
مغربی ممالک میں ڈانس کی ایک قسم ہوتی ہے ٹینگو جس میں دو ساتھی مل کے مسحور کُن انداز میں محو رقصاں ہوتے ہیں اس طرح کہ ایک ساتھی رقص کرتا دور جاتا ہے تو دوسرا اس کو کھینچ کے پھر قریب کرلیتا ہے. جیسے اُردو یا پنجابی کا مُحاورہ ہے ”تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے“ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ کسی قضئیے میں دونوں افراد کا کوئی نہ کوئی قصور ضرور ہوتا ہے ایسے ہی انگریزی میں کہتے ہیں:
it takes two to tango
یعنی ٹینگو کا رقص کرنے کو دو بندے چاہئے ہوتے ہیں۔ اس تصویر میں کہکشاؤں کے رقص کو ٹینگو سے تشبیح دی گئی ہے۔

 

 

آج کی تصویر کی تفصیل
یہ تصویر سٹیفان کے پنجگانہ گروپ کی ہے۔ جس میں ایک سامنے والی نیلگوں کہکشاں اور پیچھے پسِ منظر میں نارنجی رنگ کی چار اور کہکشائیں شامل ہیں۔

ان بڑی بڑی کہکشاؤں نے یہ حسین تجاذبی رقص کب شروع کیا؟ حقیقت میں سٹیفان کے پنجگانہ گروپ میں سے صرف چار کہکشائیں ہی بار بار دُہرائے جانے والے اس کائیناتی ٹینگو رقص میں کم و بیش تیس کروڑ نوری برس کی دوری پر مشغول ہیں۔ ہبل دوربین سے لی گئی اس تصویر میں وہ انوکھی کہکشاں جو اس کائیناتی رقص کا حصہ نہیں ہے وہ خاصی واضح ہے، جو کہکشائیں شریکِ رقص ہیں اُن میں پیلے رنگ کے گرد و غبار کے بادل زیادہ واضح ہیں اور ان کے نام بائیں سے دائیں طرف سے یوں ہیں:

NGC 7319, NGC 7318B, NGC7318A, NGC7317

اور ان کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی دائیروی اشکال قدرے بگڑی ہوئی ہیں اور لمبی لمبی گرد اور گیس کی دمیں بھی ہوتی ہیں جو تب بنتی ہیں جب یہ عظیم الشان عفریت گریوٹی کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہوئے دور ہوجاتے ہیں۔

سامنے والی زیادہ تر نیلی سی نظر آنے والی کہکشاں این۔جی۔سی 7320 ہے جو ہم سے کوئی چالیس ملین نوری سال کی دوری پر ہے یعنی کہ یوں سمجھیں کہ ہمارے پچھواڑے میں ہے۔ اوریہ کہکشاں اس تجاذبی کائیناتی رقص کا حصہ بالکُل ہے ہی نہیں۔

ڈیٹا اور ماڈلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ 7318B (یعنی اوپر سے بائیں سمت سے دوسری کہکشاں) نے نسبتاً کم وقت پہلے ہی اس رقص میں آکر مداخلت شروع کی۔ اس گروپ میں کچھ عرصہ پہلے سٹیفان کے پنجگانہ گروپ کے گرد ایک سُرخی مائیل پُرانے ستاروں کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ان کہکشاؤں میں سے کم از کم چند ایک نے کوئی دس کروڑ سال پہلے اس رقص کے لئے ایک دوسرے کے ہاتھ تھامنے شروع کردئے تھے۔

سٹیفان کا پنجگانہ کہکشاؤں کا گروپ ایک درمیانی سی دوربین سے پیگیسس کی سمت میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

ترجمہ، تحریر اور تحقیق
جرار جعفری
۴، جون ۲۰۱۹
——————
یہ تحریر ناسا کی ویب کی اس پوسٹ کا ترجمہ ہے
https://apod.nasa.gov/apod/ap190603.html

حوالہ جات۔
https://en.wikipedia.org/wiki/Hickson_Compact_Group

http://cfht.hawaii.edu/en/news/StephansQuintetLSB

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *