Home / فلکیات / سورج گرہن کی قدیم توجیہات

سورج گرہن کی قدیم توجیہات

سورج گرہن کی قدیم توجیہات
ملیسا پٹروزیلو
(ترجمہ: رضوان عطا)

گرہن کے دوران سورج یا چاند کا تاریک ہو جانا بہت حیران کن ہوا کرتا تھا کیونکہ دورِ قدیم میں اس کی کوئی سائنسی توجیہہ موجود نہیں تھی۔ انسانی تاریخ میں، گرہن سے یہی مراد لی جاتی کہ نظامِ قدرت میں خلل پڑ گیا ہے۔ بہت سے سماج یا گروہ اسے برا شگون خیال کرتے۔ دور قدیم کے لوگوں میں اس کی غیر حقیقی توجیہات پیش کی جاتی تھیں اور نہ سمجھ آنے والے مظہر کی وضاحت کی سعی کی جاتی تھی۔ آئیے دنیا کی مختلف تہذیبوں میں پیش کردہ ان توجیہات اور وضاحتوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ چین قدیم چین میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سورج گرہن کا سبب آسمانی ڈریگن کا حملہ ہے اور وہ سورج کا ٹکڑا کھا جاتا ہے۔ دنیا میں سورج گرہن کے قدیم ترین دستاویزی ثبوتوں میں سے بعض چین سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ چار ہزار برس سے زائد قدیم ہیں۔ ان میں سے ایک میں لکھا ہے ’’سورج کو کھایا جا چکا ہے۔‘‘ ڈریگن کو بھگانے اور سورج کو بچانے کے لیے لوگ سورج گرہن کے دوران ڈھول پیٹتے اور بہت شور مچاتے۔ چونکہ سورج اس شور و غوغے کے بعد مکمل ہو جاتا تھا اس لیے اس عمل پر یقین پختہ ہوتا گیا اور یہ روایت زور پکڑ گئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ قدیم چینیوں کو چاند گرہن سے کوئی قابلِ ذکر پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ 90 قبل مسیح کی ایک چینی تحریر میں اسے ’’عام سی بات‘‘ کہا گیا ہے۔

بھارت ہندو دیومالائی کہانیوں میں سورج گرہن کی ہولناک توجیہہ پیش کی گئی ہے۔ اس کی روایت کے مطابق چالاک راہو نامی ایک دیو، دیوتاؤں کا رس پینا چاہتا تھا تاکہ حیاتِ جاوداں پا سکے۔ وہ عورت کے روپ میں دیوتاؤں کی ضیافت میں آیا لیکن وِشنو نے اسے پہچان لیا۔ سزا کے طور پر دیو کا سر فوراً تن سے جدا کر دیا گیا۔ اس توجیہہ کے مطابق یہ آسمانوں میں راہو کا اڑتا ہوا سر ہے جو گرہن کے دوران سورج کو تاریک کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ایک اور ہندو روایت کے مطابق راہو دراصل تھوڑا سا رس پینے میں کامیاب ہو گیا لیکن اس سے پہلے کہ اس کا اثر جسم تک پہنچتا، اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔ اس کا پائیدار سر سورج کا پیچھا کرتا رہتا ہے اور کبھی کبھار پہنچ کر ہڑپ کر لیتا ہے، لیکن سورج جلد دوبارہ ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ راہو کا گلا تو کٹ چکا ہے۔

اِنکا جنوبی امریکا کے قدیم باشندوں کی تہذیب ’’اِنکا‘‘ میں طاقت ور ترین سورج دیوتا ’’اِنٹی‘‘ کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہاں رائج داستان کے مطابق ’’اِنٹی‘‘ زیادہ تر خیراندیش رہتا ہے، البتہ سورج گرہن اس کے غضب اور ناراضی کی علامت ہیں۔ جب گرہن ہوتا تو پروہت دیوتا کی ناراضی کا سبب معلوم کرنے کی کوشش کرتے اور یہ طے کرتے کہ کون سی قربانی دی جائے۔ ’’اِنکا‘‘ کبھی کبھار ہی انسانوں کی قربانیاں دیتے تھے لیکن سورج گرہن کو اتنا سنجیدہ مسئلہ سمجھا جاتا تھا کہ انسانی قربانی دے دی جاتی۔ دیوتا کو راضی کرنے کے لیے وہ عموماً فاقہ کشی بھی کرتے۔ سورج گرہن کے دوران بادشاہ رعایا سے متعلق فرائض سے ہاتھ کھینچ لیتا۔

مقامی امریکی شمالی امریکی قدیم باشندوں کے قبیلے ’’چوکٹا‘‘ کے مطابق ایک شر پسند سیاہ گلہری کے سورج کو کترنے سے گرہن ہوتا ہے۔ چینی ڈریگن کی طرح گلہری کو شورو غوغے سے بھگایا جاتاتھا۔

’’اوجیبا‘‘ اور ’’کری‘‘ قبائل میں ایک اور کہانی رائج تھی۔ کہا جاتا کہ ایک لڑکا (بعض روایات کے مطابق ایک دیو) جس کا نام ٹسیکابس تھا، سورج سے بدلہ لینا چاہتا تھا کیونکہ سورج نے اسے جلا دیا تھا۔ اپنی بہن کے احتجاج کے باوجود اس نے سورج کو رسی سے پکڑ لیا، جو گرہن کا سبب بنا۔ اس کے شکنجے سے چھڑانے کے لیے مختلف جانوروں نے کوششیں کیں، لیکن صرف ایک عاجز سے چوہے نے رسی کو کتر دیا اور سورج پھر سے اپنے راستے پر چل پڑا۔

مغربی افریقہ ’’تاٹامالیبا‘‘ شمالی ٹوگو اور بینین کے رہنے والے قدیم باشندے ہیں۔ ان کی دیومالائی کہانی کے مطابق انسانی غصہ اور لڑائی سورج اور چاند تک جا پہنچے اور وہ ایک دوسرے سے لڑنا شروع ہو گئے جس کے نتیجے میں گرہن ہوا۔ ان کے مطابق دو اولین ماؤں ’’پوکا پوکا‘‘ اور ’’کوئیکوک‘‘ نے دیہاتیوں کے مابین امن قائم کر کے سورج اور چاند کو دکھایا تاکہ وہ لڑائی بند کر دیں۔ سورج گرہن کے دوران ’’تاٹامالیبا‘‘ لوگ پرانی دشمنیاں ختم کر دیتے ہیں اور پرامن طور پر رہنے لگتے تاکہ آسمان میں موجود دو اجسام یعنی سورج اور چاند پرامن ہونے کی جانب مائل ہوں۔

مصر حیران کن طور پر قدیم مصریوں نے سورج گرہن کا تفصیلی ریکارڈ نہیں چھوڑا، تاہم سورج دیوتا کی پوجا کرنے والے ان قدیم باشندوں میں اسے بہت اہمیت حاصل تھی۔ کچھ سکالرز کا خیال ہے کہ شاید گرہن سے وہ بہت زیادہ کوفت کا شکار ہوتے ، اس لیے انہوں نے اسے دستاویزی شکل ہی نہ دی تاکہ اس کی کوئی نشانی باقی نہ رہے۔ وہ ڈرتے تھے کہ کہیں ان کا سورج دیوتا ’’ری‘‘ ناراض نہ ہو جائے۔ ایک ماہرِ مصریات کا کہنا ہے کہ استعاراتی طور پر سورج گرہن کی تاریخوں کے ساتھ اندھے پن کو جوڑتے ہوئے جو حوالے ملے ہیں وہ سورج گرہن کا ریکارڈ ہو سکتے ہیں۔ یا پھر سورج گرہن کے واقعات کا ریکارڈ جو پائپرس پر تھا، غالباً ضائع ہو گیا۔

 

منقول

About مصعب

مصعب ابھی طالب علم ہیں۔زیادہ تر ادب اور تاریخ پر لکھتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں گہری سوچ کے مالک ہیں۔ان کی تحریریں انسان کی سوچ کو ایک الگ سمت دیکھاتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *