Home / اردو ادب / نثر / رقیب سے . فیض احمد فیض

رقیب سے . فیض احمد فیض

فیض احمد فیض کی نظم ‘ رقیب سے ‘ میں رقیب کی نشاندہی میرے مطالعہ میں سب سے پہلے سعادت حسن منٹو کے ایک خاکہ مین ملتی ہے
” محسن کی ایک بہن(ڈاکٹر رشید جہاں) نے تو ایسے پرپرزے نکالے تھے کہ حد ہی کردی تھی۔۔۔۔۔۔ میں ان دنوں ایم۔ اے۔او کالج، امرتسر میں پڑھتا تھا۔ اس میں ایک نئے پروفیسر صاحبزادہ محمود الظفر آئے۔ یہ ڈاکٹر رشید جہاں کے خاوند تھے۔
میں بہت پیچھے چلا گیا ہوں لیکن واقعات کیونکہ اچانک میرے دماغ میں آرہے ہیں اس لیے میں مجبور ہوں کہ اس مضمون کا تسلسل قائم نہیں رہ سکے گا بہر حال آپ پڑھیں تو آپ کڑیاں ملا سکیں گے۔

پروفیسر صاحبزادہ محمود الظفر بڑے خوش شکل نوجوان تھے۔ ان کے خیالات اشتراکی تھے۔ اسی کالج میں فیض احمد فیض صاحب جو بڑے افیمی قسم کے آدمی تھے، پڑھایا کرتے تھے، ان سے میرے بڑے اچھے مراسم تھے۔
ایک ہفتے کی شام کو انہوں نے مجھ سے کہا وہ ڈیرہ دون جارہے ہیں۔ چند چیزیں انہوں نے مجھے بتائیں کہ میں خرید کرلے آؤں، میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی، اس کے بعد ہر ہفتے ان کے حکم کی تعمیل کرنا میرا معمول بن گیا۔
وہ دراصل دیرہ دون میں ڈاکٹررشید جہاں سے ملنے جاتے تھے۔ ان سے غالباً ان کو عشق کی قسم کا لگاؤ تھا۔ معلوم نہیں اس لگاؤ کا کیا حشر ہوا مگر فیض صاحب ان دنوں اپنی افیمگی کے باعث بڑی خوب صورت غزلیں لکھیں۔
پراسرار نینا سعادت حسن منٹو مشمولہ لاؤڈ اسپیکر

منٹو نے اپنے اس خاکہ میں فیض سے تعلقات کا جو ذکر کیا ہے اس کی تصدیق فیض کی اس تحریر سے ہوتی ہے
” سعادت حسن منٹو جو بعد میں اردو زبان کے بہت اہم افسانہ نگار بنے قریب قریب ہم عمر ہونے کے باوجود ان دنوں کالج میں رسمی طور پر میرے شاگرد تھے ۔ رسمی طور پر اس لۓ کہ وہ کلاس میں تو شاید ہی کبھی نظر آۓ ہوں لیکن کالج بند ہونے کے بعدہر دوسرے چوتھے دن وہ کسی نہ کسی روسی ادیب کی کتاب اور اپنا ترجمہ اٹھاۓ میرے یہاں بحث یا اپنے ترجمے کی ترمیم و تصحیح کے لۓ آیا کرتے تھے ۔
مہ و سال آشنائ فیض
اس موضوع پر سب سے اہم اور مستند تحریر ہمیں فاخر حسین کے ایک مضمون میں ملتی ہے
” محمود الظفر 1935ء میں انگلینڈ سے واپس آۓ اور ایم او اے کالج امرتسر میں نائب پرنسپل مقرر ہوۓ آپکی بیگم ڈاکٹر رشید جہاں نے اپنا خانگی مطب شروع کیا۔ ڈاکٹر محمد دین تاثیر جو فیض کے ہمزلف بنے پرنسپل تھے ۔ فیض احمد فیض انگریزی کے اور محب الحسین صاحب تاریخ کے شعبہ میں تھے ۔
ایک بار محب الحسین صاحب نے مجھ سےفرمایا کہ فیض کی نظم ‘رقیب سے ‘ کا خطاب محمود الظفر سے تھا۔ ”
دو روشن شخصیتیں فاخر حسین
‘آجکل ‘ دہلی جون 1997ء
‘ رقیب سے ‘ کے مخاطب اگر واقعی محمود الظفر ہیں تو اس نظم دوسرا حصہ’ عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی
اپنے میں معنویت رکھتا ہے ورنہ بقول ساقی فاروقی اس نظم کا اختتام اسی شعر
جز ترے اور کو سمجھاؤن تو سمجھا نہ سکوں
پر ہوجاتا ہے ۔

اردو ویب سائٹ ‘ ریختہ ‘ پر اس نظم کے ساتھ ایک خصوصی نوٹ بھی شامل ہے ۔
” سیالکوٹ کے جس مکان میں فیض صاحب رہتے تھے اس کے سامنے ایک لڑکی رہتی تھی ۔ فیض اس کے عشق میں بھی مبتلا تھے ، لیکن ایک دن کالج سے جب واپس گئے تو وہ لڑکی وہاں نہیں تھی۔ آغا ناصر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سیالکوٹ کے جس مکان میں فیض صاحب رہتے تھے اس کے سامنے ایک لڑکی رہتی تھی ۔ فیض اس کے عشق میں بھی مبتلا تھے ، لیکن ایک دن کالج سے جب واپس گئے تو وہ لڑکی وہاں نہیں تھی۔ آغا ناصر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بہت سال بعد جب فیض ، مشہور ہو گئے اور واپس اپنے شہر آئے تو وہ لڑکی بھی کہیں سے آئی ہوئی تھی ،اس کا شوہر بھی فیض سے ملنے کا مشتاق تھا ۔ ،فیض کہتے ہیں کہ میں ان سے ملا، تو لڑکی مجھ سے کہتی ہے ‘مرا شوہر کتنا خوبصورت ہے’ ۔اس موقع پر یہ نظم لکھی گئی تھی۔ ”
اردو ویب سائٹ ‘ ریختہ’

فیض کے قریبی ساتھی اور دوست شیر محمد حمید نے فیض کے عشق پر کافی روشنی ڈالی ہے گو کہ بہت سی باتیں ظاہر نہیں کی ہیں ۔
” میں سمجھتا ہوں یہ میرے صبر اور خلوص کی فتح تھی کہ فیض نے آخر کار اپنے رازوں میں مجھے شریک کرلیا اور میں ان کی خاموشی کا بھید اور ان کے دکھ درد کے سر بستہ اسرار سے واقف ہوا ۔
یہ راز ایک ہم عمر خاتون سے فیض کے جذباتی لگاؤ سے وابستہ تھا ۔ دونوں کے آغازِ بلوغت کی سحر تھی ۔ ادہر حسن کی دیوی ہزار در ہزار رعنائیاں جلو میں لۓ گل و یاسمن بکھیرتے پھر رہی تھی ، ادہر عشق کا دیوتا لڑکپن کے معصوم کھیلوں سے گزر کر شعور کی اولین انگڑائیاں لے رہا تھا ۔ بیداری کے پہلے ہی مرحلہ میںایسا بھر پور تیر کھایا کہ دل و جگر کو برماتا رگِ جاں میں ترازو ہو گیا ۔ زخم اتنا کاری تھا کہ رگ رگ سے لہو ٹپکا درد کی کسک اتنی شیریںاور لذیذ تھی کہ شہیدِ لذت نے اس کو سرمایۂ حیات بنالیا لیکن افسونِ جمال نے اس درجہ مسحور کر دیا کہ نظر بھر کر محبوب کا چہرہ تکنے کی ہمت نہ ہوسکی ۔ لب و رخسار و چشم و ابرو کی بناوٹ تک سے بے خبر رہا ۔ کمر و سینہ کے نشیب و فراز اور جسم کے دلآویز خطوط پر نگاہ ٹک نہ سکی ۔ محبوب کا سراپا بیان کرنے بیٹھتا ہے تو رنگ و بو کے طوفان اور نور و نکہت کے سیلاب میں راستہ بھول جاتا ہے گلاب کے پھولوں کی رنگینی ، یاسمین کی نکہت ، ریشم و مخمل کی نرمی ، مر مر و صندل کی سپیدی، بجلی کی بے قرار چمک اور سیماب کا اضطراب کچھ ایسے ہی تاثرات کا دلآویز جادو ہے جو فیض کے حواس پر چھایا ہوا ہے ۔ اس کے تصور میں حسن کی کائنات اس بہشتِ رنگ و بو کا نام ہے ۔ محبوب کا پیکر اسی فردوس سے عبارت ہے ۔ یہی وہ مرغوب اور دلپسند فضا ہے جس میں فیض کھویا رہنا چاہتا ہے اسی کا ذکر محبوب کا ذکر ہے ۔

اپنے افکار کی اشعار کی دنیا ہے یہی
جانِ مضمون ہی یہی شاہدِ معنیٰ ہے یہی

فیض کے اس معاشقہ کی عمر نو دس برس ہے ۔ — آرزوؤں کے شیش محل تعمیر کۓ تو امیدوں کے چراغ بھی جلاۓ اور حسرتوں کا دھواں بھی اٹھا محبوب کے عنبرین زلفوں سے کھیلے ہیں تو فراق کی جانکاہیاں بھی جھیلی ہیں۔ کمالِ وضعداری یہ ہے کہ سرود و نشاط کے نشہ میں آپے سے باہر کبھی نہیں ہوۓ اور کرب اور غم کی حالت میں فریاد و فغاں کبھی نہیں کی ۔ انتہائ دکھ درد کے دنوں میں زیادہ سے زیادہ یہ کیفیت رہی
رنگینئ دنیا سے مایوس سا ہوجانا
دکھتا ہوا دل لیکر تنہائ میں کھوجانا
ترسی ہوئ نظروں کو حسرت سے جھکالینا
فریاد کے تکڑوں کو آہوں میں چھپالینا
راتوں کی خموشی میں چھپ کر کبھی رو لینا
مجبور جوانی کے ملبوس کو دھولینا

قدرے آسودگی کے لمحات میسر ہوۓ تو فیض کے دل کی گہرائیوں میں دبی ہوئ کسک پھر کروٹیں لینے لگی دوبارہ دیارِ یار کا رخ کیا آنکھوں میں محرومی کے اشک چھلکاۓواپس امرتسر آگۓ ۔ کئ مہینے سوگوار رہے ۔ — اس دلگداز دور کا خاتمہ اس وقت ہوا جب فیض نے ‘ مرگِ سوزِ محبت ‘لکھ کر داستانِ عشقکے ختم ہوجانے کی خبر مجھے لکھ بھیجی ۔
ریختہ کے نوٹ کی تردید خود اس نظم کا آخری حصہ
عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے
اس بات کی داخلی شہادت دے رہا ہے کہ اس نظم کے مخاطب محمود الظفر ہی ہیں کیونکہ جس محبوبہ کے شوہر سے فیض صرف ایک بار ملے ہوں اس کو مخاطب کر کے یہ کہنا کہ
عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی
کسی بھی طرح کی معنویت نہیں رکھت ہے کیونکہ نہ محبوبہ کے افکار اس قسم کے تھے نہ اس کے شوہر کو ان سے کوئ واسطہ تھا ۔
—————————-
اس موضوع پر احباب کے پاس اور کچھ موجود ہو تو مطلع کریں ۔ نوازش ہوگی ۔

About سید وسیم اللہ

سید وسیم اللہ کا تعلق نظام آباد دکن سے ہے۔ آپ نے میکانیکل انجینرنگ میں ڈپلوما کے ساتھ ساتھ ایم اے اردوکیا ہے۔ باغبانی کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ بقول اُن کے ’’پڑھے فارسی اور بیچا تیل’’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *