Home / فلکیات / بلیک ہول ۔ تاریخی پسِ منظر

بلیک ہول ۔ تاریخی پسِ منظر

آج ہم سائینس کی تاریخ میں بلیک ہول کی دریافت کی تاریخ کیا ہے؟اس پر کچھ روشنی ڈالیں گے۔

 

جان میچل
اٹھارویں صدی عیسویں میں نیوٹن کے نظریات وضع ہوچُکے تھے اور ان کی ریاضیاتی تعبیر پر کام کرنا بڑا کام سمجھا جاتا تھا اس دور میں ایک نامعلوم انگریز سائینسدان جان میچل (1724-1793) نے نیوٹن کے اس تصور کو کہ روشنی دراصل ذرات پر مُشتمل ہے تو اس پر گریوٹی کا اثر ضرور ہوگا جس سے روشنی کی رفتار کم ہوگی اس نے اس بُنیاد پر ایک بہت ہی کمال خیال دیا کہ روشنی کی رفتار میں کمی کی بُنیاد پر ستارے کا ماس معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اسی اُدہیڑ بُن میں کی اس نے حساب لگایا کہ اگر کوئی ستارہ ایسا ہوکہ جس کی کثافت سورج کی کثافت سے کم نہ ہو لیکن اُس کا قُطر سورج سے پانچ سو گُنا زیادہ ہو تو ایسے ستارے کی گریوٹی سے فرار کی رفتار (اسکیپ ولاسٹی) روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ستارہ نظر ہی نہیں آئے گا۔ ایسے ستارے کو اُس نے “تاریک ستارہ” کہا اس تصور کو اکثر تاریخ دان “بلیک ھول” کی پیشین گوئی کہتے ہیں۔

اسی دور میں عظیم فرانسیسی ریاضی دان لاپلاس نے بھی اسکیپ ولاسٹی کی بُنیاد پر اس سے ملتی جُلتی تاریک ستارے کی بات کی۔

جان میچیل نے سب سے پہلے زلزلوں کی موجی خصوصیات پر بات کی، جو بعد ازاں درست ثابت ہوئی، جان میچیل وہ پہلا سائینسدان تھا جس نے شُماریاتی ریاضی کے استعمال سے یہ پیشین گوئی بھی کہ زیادہ تر ستارے دو یا دو سے زیادہ کے جوڑوں میں پائے جاتے ہیں۔

جان میچیل کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے ایسے تاریک ستاروں کی تلاش کا باقاعدہ طریقہ وضع کیا کہ اگر کوئی روشن ستارہ ہو جو اس تاریک ستارے کے گرد گردش کررہا ہو تو یوں لگے گا کہ گویا ایک ستارہ کسی خالی جگہ کے گرد گردش کررہا ہے۔ یورینیس کو دریافت کرنے والے ولیم ھرشل نے جان میچیل کے بتائے ہوئے طریقے سے ایسے تاریک ستارے ڈھونڈنے کی ناکام کوشش بھی کی۔

جان میچل ایک ناکامی اور گمنامی کی زندگی گزار کے اپریل 1793 میں اس دُنیا سے کوچ کر گئے۔

 

کارل شوارڑزشیلڈ (Schwarzschild)
یہ بھائی صاحب بڑے مزے کی شخصیت تھے، یہ پہلی جنگ عظیم میں آگے کے مورچوں میں ایک فوجی کے طور طعینات تھے اور ریاضی کے دلدادہ تھے جو فارغ وقت میں ابھی ابھی پیش ہونے والی جنرل اضافیت کی مُساواتیں حل کیا کرتے تھے لوگ مورچوں سے اپنے ہمسائے کی بیٹی کی یاد میں خون سے خط لکھا کرتے ہیں لیکن یہ قبلہ بیٹھ کے ریاضی کی ادق قسم کی مُساواتیں حل کیا کرتے تھے

اس شوق میں حل کرتے کرتے قبلہ نے آئین شٹائین کی مُساوات کا حل پیش کیا اور یہ معلوم کیا کہ کسی بھی ماس کے لئے اسپیس میں ایک ایسا ریڈئیس بنتا ہے جس میں اگر وہ سارا ماس فٹ کردیا جائے تو اس کی کثافت ایسی ہوگی کہ وہاں سے کوئی اطلاع بھی نہیں آسکے گی اس ریڈئیس کو “اُفق حوادث”
Event Horizon
کہتے ہیں اور اس میں موجود چیز کو سنگیولیرٹی کہتے ہیں یہ نام بعد میں جان ویلیر کے دئے ہوئے نام “بلیک ھول” سے جانا جانے لگا۔ یہ کام کارل نے 1916 میں کیا تھا اور اس ایونٹ ہورائیزن کا فارمولا نیچےتحریر ہے۔

اسپر البرٹ آئین شٹائین بہت حیران ہوا اور فوراً کارل کو خط میں لکھا:

“میں نے آپ کا پیپر بہت ہی دلچسپی سے پڑھا، مجھے یقین نہیں تھا کہ کوئی اسقدر آسانی سے ایک ایسا درست حل نکال بھی سکتا ہے آپ نے کمال کردیا ہے، میں اب جمعرات کو آپ کا یہ کام اکیڈمی میں اپنی طرف سے چند وضاحتوں کے ساتھ پیش کروں گا۔”

میری رائے میں بلیک ہول کا اُفق حوادث وہ مقام ہے جہاں سے علت و معلول کی حدیں کھنچ جاتی ہیں اس کو ایک بہت ہی ابتدائی طور پر اسکیپ ولاسٹی سے سمجھا تو جاسکتا ہے لیکن یہ اسکیپ ولاسٹی والا معاملہ ہے نہیں۔

 

جنرل اضافیت کے مطابق یوں ہے کہ آپ بلیک ہول سے فرار اس لئے نہیں کرسکتے کہ ایونٹ ہورائیزن سے آگے کے تمام واقعات کا مُستقبل بلیک ہول کے مرکز کی سمت واقع ہوتا ہے اور وہاں سے باہر آنے کا مطلب ہے کہ آپ ماضی میں جا رہے ہیں جو فزکس کے قوانین کے خلاف ہے۔ میری رائے میں یہ درست توجیہ سب سے پہلے کارل شوارڑزشیلڈ نے دی۔ اس لئے میں بلیک ہول کی اولین دریافت کا سہرا کارل شوارڑزشیلڈ کو پہناتا ہوں لیکن بعض سائینس کی تاریخ والے لوگ جان میچل اور لاپلاس کے سر یہ گُناہ بھی ڈالتے ہیں جس کی وجہ میں سمجھ سکتا ہوں لیکن جان میچیل کا زاویہ نگاہ بالکُل مُختلف تھا۔ حالانکہ لاپلاس اور میچیل کے طریقے سے جو آپ اسکیپ ولاسٹی نکالتے ہیں اُس سے جو قُطر آتا ہے وہ بھی عین وہی ہے جو کارل شوارڑزشیلڈ نے نکالا تھا لیکن اس میں فرق وہی ہے جو میاں محمد بخش نے اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے

کچ وی منکا، لعل وی منکا اِکو رنگ دوہاں دا
جد صرافاں اگے جاون فرق ہزار کوہاں دا

کانچ کابنا ہوا بھی موتی ہے اور لعل بھی موتی ہے رنگ بھی ایک سے ہیں
لیکن جب صراف کے ہاتھ جاتے ہیں تو پھر وہ ہزار میلوں کا ان میں فرق بتاتا ہے

 

محض اتفاق:
اس میں ایک حُسنِ اتفاق دیکھیں کہ شوارڑزشیلڈ (Schwarzschild) ایک جرمن نام ہے جس کا جرمن میں مطلب ہے “سیاہ رنگ کی ڈہال” اور ان صاحب نے بلیک ہول کے گرد ایک ایسے قُطر کی دریافت کی پیشین گوئی بھی کی جس سے آگے سب تاریک ہوتا ہے۔

 

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
1916 جنگ عظیم اول میں اگلے مورچوں میں لڑتے لڑتے اس سائینس کے ہیرے کو ایک آٹو امیون بیماری ہوئی اور جنگ کی وجہ سے علاج نہ ہوسکا اور یہ جنگ کا سفاک عفریت بغیر گولی چلائیے اس ہیرے کو نگل گیا اور یوں ترتالیس برس کی عمر میں کارل اس دُنیا کو بلیک ہول کا تصور دے کر مر گیا۔

تحقیق و تحریر
جرار جعفری

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *