Home / عمومی / ایک دلچسپ شرط

ایک دلچسپ شرط

ستمبر 2018ء میں رک الاٹی اور روری ینگ کے مابین گفتگو اس وقت ایک نہایت دلچسپ موڑ پہ پہنچ گئ جب ینگ نے الاٹی سے پوچھا کہ وہ ایک تنگ و تاریک کمرے میں تنہا کتنا وقت جی سکتا ہے الاٹی کے ایک ماہ کہہ دینے پہ ان دونوں کے بیچ یہ شرط لگ گئی کہ اگر الاٹی نے ایک تنگ و تاریک کمرے میں کسی انسانی رابطے کے بنا ایک مہینہ گزار لیا تو وہ ایک لاکھ ڈالر کا حقدار ٹھہرے گا۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو ینگ شرط جیت جائے گا اور الاٹی پھر اسکو مقررہ رقم ادا کرے گا۔

21 نومبر 2018ء کو الاٹی ایک باتھ روم جس کو بیڈ روم کی شکل دی گئی تھی میں داخل ہوا اور ایک ماہ کی بجائے بیس دن گزرنے پر 10 دسمبر کو وہ اس کمرے سے باہر آیا اور ایک لاکھ ڈالر کی بجائے ان کے بیچ باسٹھ ہزار چار سو ڈالر کی رقم واجب الادا ٹھہری۔ 

اس اندھیرے کمرے سے باہر آنے کے بعد الاٹی نے کسی سے کوئی بات نہیں کی اور اس واقعے کے چھے ہفتے بعد وہ ایکشن نیٹ ورک سے اپنے تجربے کے بارے میں بات کرنے کے قابل ہو سکا۔ اپنے انٹر ویو کے دوران اس نے بتایا کہ جب وہ اس کمرے میں داخل ہوا تو وہ بالکل تاریک تھا یہانتک کہ فریج میں بھی کوئی روشنی میسر نہیں تھی۔ الاٹی کا کہنا ہے کہ اسکی یاداشت اچھی ہونے کی وجہ سے اس کو چیزوں کی جگہ یاد ہو گئی اس نے کمرے میں اپنے کپڑے ایک جگہ پر اور خوراک کی اشیاء دوسری پہ رکھ لیں اس طرح اس کو مینج کرنا آسان ہو گیا۔ اس نے بتایا کہ شروع کے کچھ دن اس کا سر چکراتا رہا اور وہ چلنے کی بجائے اس کمرے میں رینگتا رہا لیکن کچھ وقت بعد وہ سر چکرانے والی کیفیت پہ قابو پانے میں کامیاب ہو گیا اس کمرے میں الاٹی پہ نظر رکھنے کے لئے پانچ کیمرے نصب تھے ایک اور اہم بات الاٹی نے یہ بتائی کہ اندھیرے کمرے میں مسلسل رہنے کی وجہ سے اس کو وہمے ہونے لگے اسے سفید روشنی کے گولے سے محسوس ہوتے اور وہ زیادہ تر فریب نظر کا شکار رہنے لگا تو بیس دن کے بعد اس نے اپنے حریف سے گفت و شنید کے بعد مقررہ رقم سے کچھ کم پہ اس شرط کو طے کردہ وقت سے پہلے ختم کیا۔ جب وہ اس کمرے سے باہر آیا تو اس نے سن گلاسز لگا رکھے تھے کیونکہ اس کی انکھیں روشنی سے مانوس نہیں رہی تھیں اور اس کو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کی موجودگی کا احساس بہت خوش کن لگا خصوصا اپنی بہن کی آواز سن کر اور جب اس کو فون پکڑایاگیا تو اس کو خوشگوار سی حیرت ہوئی الاٹی کا کہنا تھا کہ وہ تو ڈیجیٹل دنیا سے دور ہو کر جیسے فون کا استعمال ہی بھول گیا تھا۔ وہ اپنے سامنے لاتعداد آپشنز کو دیکھ کر اور دنیا کی رنگینیوں کو دیکھ کر ایک طرح کے کلچر شاک سے متاثر نظر آیا۔

الاٹی کا کہنا ہے کہ اس کو یہ سوچ کے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اس کی اس چیلنجنگ سٹوری سے لوگوں میں یقینا برداشت اور حوصلہ پیدا ہو گا اور انھیں روشنی اور آزادی جیسی نعمتوں کی قدر ہوگی۔

دوسری طرف رقم ادا کرنے والے شخص نے بھی کہا کہ اگرچہ اس کو اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کرنی پڑی مگر پھر بھی وہ اپنے اور الاٹی کے مابین اس عجیب و غریب معاہدے اور الاٹی کی مضبوط قوت ارادی اور حوصلے سے مثاثر اور خوش ہوا ہے۔

یہ واقعہ یقینا آپ کے لئے دلچسپ ہو گا مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا آپ لوگ بھی اس منفرد اور باہمت نوجوان کی طرح ایسا کوئی چیلنج لینے اور اس کو پورا کرنے کی اہلیت خود میں پاتے ہیں اور خصوصا جب بات سوشل میڈیا سے دوری کی ہو تو کتنے لوگ ہیں جو ٹیکنالوجی کے بغیر ایک ایسے کمرے میں جہاں موبائل فون اور انٹر نیٹ کی سہولت نہ ہو وہاں ایک ماہ تو کیا ایک دن بھی گزارنا پسند کریں گے ؟؟؟

 

About سحر عندلیب

سحر عندلیب خود اپنی تلاش اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ایک طالب علم ہیں۔ شعبہ تعلیم سے تو وابستہ ہیں مگر سمجھتی ہیں کہ ابھی بھی علم کے سمندر کا ایک قطرہ بھی حاصل نہیں کر سکیں بہت کچھ سیکھنا باقی ہے اس بلاگ پر اور دیگر کئی ویب سائٹس اور فیس بک گروپس میں سحر عندلیب کے مضامین باقاعدگی سے پوسٹ ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *