Home / فلکیات / این جی سی (NGC) کیٹلاگ

این جی سی (NGC) کیٹلاگ

آپ نے اکثرفلکیاتی اجسام کے ناموں کے ساتھ NGCاور ایک نمبر لکھا دیکھا ہوگا۔ جیسے کہ انڈرومیڈا گلیکسی کے ساتھ NGC224 لکھا نظر آتا ہے۔ یہ این جی سی کیا ہے؟ NGCایک کیٹلاگ ہے جس کا پورا نام The New General Catalogue of Nebulae and Clusters of Starsہے۔ اس کیٹلا گ کو ’’جان لوئس ایمیل ڈریر‘‘ نے1888میں بنایا تھا۔ ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے John Louis Emil Dreyerنے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ آئرلینڈ میں گذارا اور وہی پر یہ کیٹلاگ مرتب کی۔

 

ایمیل ڈریر نے اپنی کیٹلاگ کی بنیاد  ’’سر ولیم ہرسیل‘‘کی کیٹلاگ Catalogue of Nebulae and Clusters of Stars پر رکھی۔ سر ولیم نے اپنی کیٹلاگ تین حصوں میں پبلش کی تھی۔ انہوں نے 1786میں اپنی بہن کی مدد سے ایک ہزار فلکیاتی اجسام کی کیٹلاگ جاری کی،1789میں اس کیٹلاگ میں مزید ایک ہزار ابجیکٹس  کا اضافہ کیا گیا اور اسی طرح 1802میں مزید پانچ سو فلکیاتی اجسام کے اضافہ کے ساتھ سر ولیم کی کیٹلاگ 2500فلکیاتی اجسام کے ساتھ اُس وقت کی سب سے بڑی کیٹلاگ کا درجہ رکھتی تھی۔

سر ولیم کے بیٹے  ’’سر جان ہرسل’’ نے اپنے باپ کے کام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے 1864میں کیٹلاگ کو اپ ڈیٹ کیا اور اس میں مزید فلکیاتی اجسام کا اضافہ کیا ۔ سر جان ہرسل کی بدولت اس کیٹلاگ میں فلکیاتی اجسام کی کل تعداد 5,079ہوگئی۔

 

جان لوئس ایمیل ڈریر نے ہرسل باپ بیٹے کے کام کو مزید آگے بڑھایا اور مزید فلکیاتی اجسام کوکیٹلاگ میں شامل کرتا گیا ، ایمیل ڈریر نے اپنی کیٹلاگ کا نام The New General Catalogue of Nebulae and Clusters of Stars رکھا جس کو آج ہم NGCکے نام سے جانتے ہیں۔ NGCمیں شامل فلکیاتی اجسام کی تعداد 7840ہے اور ابھی تک پوری دنیا کے فلکیات دان اس کا استعمال کرتے ہیں۔ NGCکے بعد ایمیل ڈریر نے 1895میں انڈیکس کیٹلاگ (IC)کے نام سے ایک انڈیکس بھی شائع کیا جس میں 1520ابجیکٹس شامل تھے اس کے بعد 1908میں مزید 3866ابجیکٹس کی شمولیت کے بعد آئی سی کی تعداد 5386ہو گئی۔

 

جس دور میں NGC مرتب کی گئی تھی تب کائنات کے بارے میں ہمارا علم آج کے دور جتنا وسیع نہیں تھانہ ہی ہمارے پاس آج کے دور جیسی طاقتور ٹیلی سکوپس تھی، حتکہ ملکی وے گلیکسی کو ہی پوری کائنات تصورکیا جاتا تھا۔ NGCکے کافی عرصہ بعد ہبل نے دریافت کیا کہ ملکی وے کی طرح کی اور بھی گلیکسیز ہیں ۔  دوسری بات یہ کہ جان لوئس ایمیل ڈریراکیلے اتنی بڑی کیٹلاگ نہیں بنا سکتا تھا اس لئے اُسے کئی لوگوں کی مدد بھی لینی پڑی جس بنا پر NGC میں کئی ایک خامیاں بھی موجود ہیں، جیسا کہ بہت سی گلیکسیز کی صحیح لوکیشن کا مسئلہ ہے۔ بعد میں کئی دفعہ NGCمیں موجود خامیوں کو دور کرکے نئے سرے سے مرتب کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سلسلے کی آخری کوشش 1996میں کی گئی اور نئی کیٹلاگ کا نام The Revised New General Catalogue and Index Catalogue (Revised NGC/IC)رکھا گیا۔

یاد رہے کہ جب یہ کیٹلاگ مرتب کی گئی تھی تو کئی ایک چیزوں کی واضح تصویر ہمیں نظر نہیں آتی تھی بلکہ ایک دھندلا ساخاکہ  ہی نظر آتا تھا، اس بنا پر اس کیٹلاگ میں ہر طرح کے ابجیکٹس جیسے کے نیبولا، گلیکسیز، سٹار کلسٹرز وغیرہ شامل ہیں۔ ڈیپ سکائی کی یہ اب تک کی سب سے بڑی کیٹلاگ ہے۔

 

NGCکے علاوہ بھی کافی ساری کیٹلاگ مرتب کی گئی ہیں جن پر پھر کسی مضون میں لکھنے کی کوشش کرونگا۔

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *