Home / اردو ادب / شاعری / اک دیا دل میں جلانا بھی ، بجھا بھی دینا (محسن نقوی)

اک دیا دل میں جلانا بھی ، بجھا بھی دینا (محسن نقوی)

اک دیا دل میں جلانا بھی ، بجھا بھی دینا
یاد کرنا بھی اُسے روز ، بھلا بھی دینا

کیا کہوں یہ میری چاھت ھے ، کہ نفرت اُس کی؟
نام لکھنا بھی میرا ، لکھ کے مٹا بھی دینا

پھر نہ ملنے کو بچھڑتا تو ھُوں ، تجھ سے لیکن
مُڑ کے دیکھوں تو ، پلٹنے کی دعا بھی دینا

خط بھی لکھنا اُسے، مایوس بھی رھنا اُس سے
جرم کرنا بھی مگر ، خود کو سزا بھی دینا

مجھ کو رَسموں کا تکلف بھی گوارا لیکن
جی میں آئے تو یہ دیوار ، گرا بھی دینا

اُس سے منسوب بھی کر لینا پرانے قصے
اُس کے بالوں میں ، نیا پھول سجا بھی دینا

صورتِ نقشِ قدم ، دشت میں رھنا محسنؔ
اپنے ھونے سے ، نہ ھونے کا پتہ بھی دینا

محسن نقوی

About محمد سلیم

محمد سلیم ایک کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور ایک سافٹ وئیر ہاوس چلا رہے ہیں۔ سائنس خصوصا فلکیات پر پڑھنا اور لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کے مضامین یہاں کے علاوہ دیگر کئی ویب سائٹس پر بھی پبلش ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *