Home / سائنس / انسانی آنکھ کیسے کام کرتی ہے

انسانی آنکھ کیسے کام کرتی ہے

انسانی آنکھوں کو اردو ادب میں بھی موضوع سخن بنایا گیا کسی نے اپنے محبوب کی آنکھوں کو سمندر سے تشبہ دی تو کسی نے اپنی آنکھوں کو برسات کا منبع قرار دیا کوئی تو اپنے محبوب کی آنکھوں میں اتر کر عشق کی گہرائیوں تک پہنچنا چاہتا تھا تو کوئی محبوب کی آنکھوں میں ڈوبنا چاہتا تھا ۔ بقول عدیم ہاشمی :-
؎ کیا خبر تھی تری آنکھوں میں بھی دل ڈوبے گا
میں تو سمجھا تھا کہ پڑتے ہیں بھنور پانی میں

 

اب دیکھتے ہیں ہیں آنکھوں کو سائنس کی نظر سے
سب سے پہلے میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ ہماری آنکھیں نہیں دیکھتی یہ تو صرف دیکھنے کا ذریعہ ہیں دوسرے الفاظ میں روشنی گزرنے کا رستہ ہیں- ایک مثال سے وضاحت کرتا ہوں ایک مکان کی چھت پر پانی کی ٹینکی یا ڈرم پڑا ہے ایک آدمی ٹوٹی کے ذریعے اس میں سے پانی نکال رہا ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ ٹوٹی سے پانی آ رہا ہے یہ جملہ بظاہر تو سہی لگتا ہے مگر پانی کا اصل سورس تو چھت پر پڑی ٹینکی ہے نہ کہ ٹوٹی – ٹوٹی تو پانی نکلنے میں مدد کر رہی ہے اسی طرح دیکھنےاور امیجنگ کا اصل کام فوربرین کے حصے سیریبرم کے لوب آکسی پیٹل میں ہوتا ہے
آنکھیں انسان میں ریسپٹرز کا کام سرانجام دیتی ہیں [ ایسے آرگنز جو مخصوص سٹیمولائی (stimuli) کو معلوم کرنے کے لیے مخصوس ہوں سینس آرگنز یا ریسیپٹرز کہلاتے ہیں ] ہماری آنکھیں کھوپڑی کے چھوٹے حصوں میں موجود ہیں جنہیں آربٹس کہتے ہیں – آنکھ کی ساخت کو تین بڑی تہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے

آنکھ کی سب سے بیرونی تہہ سکلیرا (sclera )اور کورنیا (cornea)پر مشتمل ہوتی ہے سکلیرا آنکھ کو سفید رنگ دیتی ہے یہ موٹے کنیکٹو ٹشو کی بنی ہوتی ہے ( جیسا کہ نام سے ظاہر ہے تعلق پیدا کرنے کا کام سر انجام دینے والے ٹشوز کو کنیکٹو ٹشوز کہتے ہیں یہ دوسرے ٹشوز کو سہارا دیتے ہیں اور انہیں جوڑتے ہیں ) اور آنکھ کے اندرونی حصوں کی حفاظت کرتی ہے اور ان کی شکل برقرار رکھتی ہے سامنے کی طرف سکلیرا کورنیا بناتی ہے – کورنیا روشنی کو اندر جانے کی اجازت دیتا ہے اور روشنی کی شعاعوں کو اس طرح مورتا ہے کہ فوکس پر آ جائیں

آنکھ کی درمیانی تہہ کورائڈ ( choroid ) کہلاتی ہے اس میں بلڈ ویسلز ہوتی ہیں اور زیادہ تر انسانوں میں سیاہ رنگ میں پائی جاتی ہے ( آنکھوں کے رنگ کا تعین جینز کرتے ہیں اور یہ ایک براون رنگ کے پگمنٹ میلنن کی مقدار میں تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے اس پر تفصیلی بات آنے والی کسی پوسٹ میں ہو گی کہ ایسا کیسے ہوتا ہے ) اس گہرے رنگوں یا سیاہ رنگ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ آنکھ کے اندر روشنی کی ریفلیکشنز کو بے ترتیب نہیں ہونے دیتا – کورنیا کے پیچھے کورائڈ اندر کی جانب مڑی ہوتی ہے اور ایک مسکولر دائرہ بناتی ہے جسے آئرس (iris) کہا جاتا ہے آئرس کے مرکز میں گول سوراخ ہوتا ہے جسے پیوپل کہا جاتا ہے کورنیا سے ٹکرانے کے بعد روشنی پیوپل سے گزرتی ہے آئرس میں دو قسم کے مسلز پائے جاتے ہیں
١ – ریڈیئل مسلز ٢ – سرکولر مسلز
تیز روشنی میں آئرس کے سرکولر مسلز سکڑتے ہیں اور پیوپل تنگ ہو جاتا ہے اسی طرح دھیمی روشنی میں ریڈیئل مسلز سکڑ جاتے ہیں اور پیوپل پھیل جاتا ہے [ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ آنکھ میں بہت زیادہ روشنی جانے سے ریٹینا کو نقصان ہو سکتا ہےتو پیوپل سکڑ کر اس نقصان سے بچاتا ہے اور اگر روشنی کم ہو تو دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے تو پیوپل پھیل جاتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ روشنی آنکھ میں جاتی ہے اور دیکھنے میں آسانی ہو جاتی ہے ] آئرس کے پیچھے ایک کنویکس لینز ہوتا ہے جو روشنی کو ریٹینا پر فوکس کرتا ہے زیادہ فاصلے پر موجود چیزوں کو دیکھنے کے لیے سیلیئری مسلز ریلیکس ہوتے ہیں اور لینز کم کنویکس ہو جاتا ہے – کم فاصلے پر موجود چیزوں کو دیکھنے کے لیے سیلیئری مسلز سکڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے لینز مزید کنویکس ہو جاتا ہے ( سیلیئری مسلز وہ مسلز ہوتے ہیں جن سے لینز دائرہ نما سسپنری لگامنٹ کی مدد سے جڑا ہوتا ہے)

آنکھ کی اندرونی تہہ سینسری ہے اور اسے ریٹینا کہتے ہیں اس میں روشنی کے لیے حساس سیلز راڈز اور کونز اور ان سے منسلک کونز ہوتے ہیں
راڈز : دھیمی روشنی کے لیے حساس ہوتے ہیں
کونز : تیز روشنی کے لیے حساس ہوتے ہیں اور رنگوں کی پہچان کرتے ہیں
انسان کی ایک آنکھ میں تقریباً 125 لاکھ راڈز سیلز اور 7 لاکھ کونز سیلز ہوتے ہیں

ریٹینا پر دو اہم مقام ہوتے ہیں
١ – فوویا : یہ ریٹینا کے بلکل مخالف ایک گہرائی ہوتی ہے اس میں کون سیلز کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے یہ مقام رنگوں کی شناخت کا ذمہ دار ہے
٢ – آپٹک ڈسک : یہ وہ مقام ہے جہاں آپٹک نرو ریٹینا میں داخل ہوتی ہے اس مقام پر راڈز اور کونز نہیں پائے جاتے اسے بلائنڈ سپاٹ بھی کہتے ہیں

اب کچھ بات ہو جائے آنکھ کے خانوں ( چیمبرز ) کی
آئرس کی وجہ سے آنکھ کی کیویٹی ( cavity ) دو خانوں میں تقسیم ہے –
١ – اگلا چیمبر آئرس کے سامنے ہے یعنی کورنیا اور آئرس کے
٢ – پچھلا چیمبر آئرس اور ریٹینا کے درمیان
اگلے چیمبر میں ایک میں صاف فلوئڈ ہوتا ہے جسے ایکوئس ہیومر کہتے ہیں ( Aqueous Humour ) اور پچھلے چیمبر میں جیلی کی طرح کا فلوئڈ ہوتا ہے جسے وٹرس ہیومر ( vitreous humour) کہتے ہیں یہ آنکھ کی شکل برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے اور نازک لینز کو ساکت رکھتا ہے
جب کسی چیز سے ٹکڑا کر آنے والی روشنی آنکھ میں داخل ہوتی ہے تو کورنیا ، پیوپل ، ایکوئس ہیومر ، لینز اور وٹرس ہیومر سے گزرتی ہے لینز اس روشنی کو ریٹینا پر فوکس بھی کرتا ہے اس کے نتیجے میں ریٹینا پر امیج بنتا ہے – راڈز اور کونز آپٹک نرو میں نرو امپلسز پیدا کرتے ہیں ان امپلسز کو دماغ کے حصے فور برین، فوربرین کے حصے سریبرم، سریبرم کے حصے ہیمی سفیرز ، ہیمی سفیر کی بالائی تہہ سیریبرل کارٹیکس کے لوب آکسی پیٹل تک پہنچایا جاتا ہے جہاں پہلے سے موجود تصویروں سے اور معلومات سے اس کا موازنہ کیا جاتا ہے اور دیکھنے کا احساس پیدا ہوتا ہے اس سارے کام کو انجام دینے میں صرف اور صرف تقریباً آدھے سیکنڈ کا وقت درکار ہوتا ہے مطلب جو الفاظ میری تحریر کے آپ پڑھ رہے ہیں ان الفاظ سے منعکس ہونے والی روشنی آپ کی آنکھ میں آدھے سیکنڈ پہلے داخل ہوئی تھی مگر اس کی امیج آدھے سیکنڈ بعد بنی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنکھ کے نقائص :- 
آنکھ کی گولائی یعنی آئی بال (eyeball) کی شکل میں تبدیلی آجانے کی وجہ سے آنکھ کے فعل پر اثر پڑتا ہے اسی وجہ سے دور یا نزدیک کی نظر خراب ہوتی ہے
مائے اوپیا( Myopia ) : 
آئی بال کے لمبا ہو جانے سے یہ نقص پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے دور کی چیزوں کا امیج ریٹینا پر نہیں بنتا بلکہ اس سے آگے بنتا ہے ایسے لوگ دور کی چیزوں کو صاف نہیں دیکھ سکتے- کنکیو لینز استعمال کر کے اس نقص کو دور کیا جاتا ہے
ہائپر میٹروپیا ( Hyper metropia) : 
آئی بال کی لمبائی کم ہو جانے سے یہ نقص پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے نزدیک کی چیزوں کا امیج ریٹینا پر بننے کی بجائے ریٹینا سے پہلے ہی بن جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ نزدیک کی چیزوں کو صاف نہیں دیکھ سکتے – کنویکس لینز کو استعمال کر کے اس نقص کو درست کیا جاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ :
*کنکیو لینز : کناروں سے موٹے اور درمیان سے پتلے لینز کو کنکیو لینز کہتے ہیں
*کنویکس لینز : درمیان سے موٹے اور کناروں سے موٹے لینز کو کنویکس لینز کہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

رات کا اندھا پن (Night blindness) : 
اس بیماری کے حامل شخص کو رات میں ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتا اسی وجہ سے اس بیماری کو رات کا اندھا پن کہتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے آیئے اس کی وضاحت کی کوشش کرتا ہوں
جب میں نے آنکھ کی اندرونی تہہ (ریٹینا) کا ذکر کیا تھا تو یہ بتایا تھا کہ اس میں راڈز اور کونز سیلز بھی پائے جاتے ہیں
راڈز کے اندر ایک پگمنٹ پايا جاتا ہے جسے روڈوپسن (rhodopsin)کہتے ہیں جب روڈپسن پر روشنی پڑتی ہے تو نروامپلس پیدا کرنے کے لیے یہ ٹوٹ جاتا ہے روشنی کی غیر موجودگی میں روڈوپسن کے ٹوٹے ہوئے پراڈکٹس پھر مل کر روڈوپسن بنا دیتے ہیں – ہمارا جسم وٹامن A سے روڈوپسن بناتا ہے اگر جسم میں وٹامن اے کی کمی ہو جائے تو روڈوپسن کی کم مقدار بنے گی اور اسطرح راڈز کے اندر روڈوپسن پگمنٹ کی کمی ہو جائی گی ہمیں پتا ہے کہ راڈز دھیمی(کم) روشنی کے لیے حساس ہوتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں یہ دھیمی روشنی میں دیکھنے میں مدد دیتے ہیں اور رات کو روشنی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس شخص کو جس میں وٹامن A کی مقدار کم ہو گئی ہے دیکھنے میں دقت ہو گی – اسے شب کوری یعنی رات کا اندھا پن کہتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کلر بلائنڈنس (colour blindness) :
جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ راڈز میں پگمنٹ روڈوپسن پایا جاتا ہے اسی طرح کونز میں بھی ایک پگمنٹ موجود ہوتا ہے جسے آئیوڈوپسن ( iodopsin ) کہا جاتا ہے ۔ کونز کی تین بڑی اقسام ہوتی ہیں اور ہر قسم میں ایک خاص آئیوڈوپسن پایا جاتا ہے کونز کی ہر ایک قسم تین بنیادی رنگوں یعنی آسمانی ، سبز اور سرخ میں سے ایک کی پہچان کرتی ہے

*[ہم جانتے ہیں کہ آسمانی ، سرخ اور سبز ہی بنیادی رنگ ہیں
کوئی بھی دوسرا رنگ بنانے کے لیے روشنی کے استعمال ہونے والے رنگ بنیادی رنگ ( Primary colours )کہلاتے ہیں باقی سارے رنگ انہی تین رنگوں سے مل کر بنتے ہیں مثلا
سرخ + سبز = پیلا
سرخ + آسمانی = نیلا
آسمانی + سبز = قرمزی یا جامنی
اور اسی طرح باقی رنگ – ان رنگوں سے بننے والے رنگ ثانوی رنگ (Secondary colours )کہلاتے ہیں مثلا پیلا ، نیلا وغیرہ]

اگر کونز کی اقسام میں سے کوئی ایک قسم ٹھیک کام نہیں کرتی تو رنگ پہچاننے میں مشکل ہوتی ہے ایسا شخص مختلف رنگوں میں تمیز کرنے کے قابل نہیں ہوتا
بیماری کو رنگ کوری یعنی کلر بلائنڈنس کہتے ہیں ۔اور یہ جنیٹک بیماری ہے –

About رضوان سلیم

رضوان سلیم پنجاب کے تاریخی شہر بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابھی سٹوڈنٹ ہیں مگر وسیع مطالعہ کے حامل ہیں۔ سائنس سےگہری دلچسپی ہے اور سائنسی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ ان کے لکھے گئیے مضامین ان کی فیس بک وال پر بھی شئیر ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *