Home / فلکیات / اسپائیرل کہکشاں (D-100) کی لمبوتری دُم

اسپائیرل کہکشاں (D-100) کی لمبوتری دُم

اس کہکشاں کے ساتھ یہ سُرخ رنگت والی ایک دُم کیا ہے؟


یہ سُرخ رنگ کی دُم نُما چیز زیادہ تر اُس کے دہکتی ہوئی ہائڈروجن کے بادلوں سے بنی ہے جو اس کہکشاں کے ایک جھرمٹ کے بیچ میں موجود وسیع و عریض اور گرم گیس کے بادلوں میں سے گُزرتے ہوئے الگ ہوگئے تھے۔

یہ اسپائیرل کہکشاں “D-100” ہے اور یہ کہکشاؤں کا جھرمٹ کوما کلسٹر ہے۔ یہ سُرخ شاہراہ سی جو ہے یہ اس کہکشاں کے مرکز سے جا کر ملتی ہے کیونکہ کہکشاں کے باہر والی ھائیڈروجن گیس نسبتاً کم گریوٹی کی وجہ سے پہلے سے ہی ریم پریشئیر کی وجہ سے کہکشاں سے جُدا ہوگئی تھی۔

یہ گیس کی سُرخ سی دم کم و بیش دو لاکھ نوری برس لمبی ہے اور اس میں ہمارے سورج کے ماس سے چار لاکھ گُنا زیادہ ماس موجود ہے اس میں ستارہ سازی کا عمل جاری و ساری ہے۔

 

D-99
ایک اور کہکشاں ہے جو قدرے سُرخی مائیل (نارنجی سی) ہے اور یہ D-100 کے نیچے بائیں طرف ہے یہ پُرانے سُرخ ستاروں کی روشنی سے دہک رہی ہے۔ اس میں نئے اور نیلے رنگ کے ستارے اب نہیں بن سکتے کیونکہ ۹۹ اپنی تمام ستارہ ساز گیس کھو چُکی ہے۔

یہ تصویر ھبل دوربین اور زمین پر سُوبارو دوربین کی تصاویر کو ڈجیٹل طور پر ملا کر بنائی گئی ہے اس میں رنگ حقیقی نہیں ہیں۔

اس قسم کے حسین و جمیل سسٹمز کے مُطالعے سے ہمیں کہکشاؤں کے ارتقاء کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

 

ریم پریئشیر (Ram Pressure)کیا ہوتا ہے ؟
جب آپ کسی میڈئیم (جیسا کہ ہوا وغیرہ) میں سے گزر رہے ہوتے ہیں تو اس کی کچھ کثافت ہونے کی وجہ سے آپ جتنا تیز ہوں گے اُتنے ہی زیادہ ذرات سے ٹکرائے گے اس سے ایک پریئشیر بنتا ہے اس کو ریم پریٗشیر کہتے ہیں۔ اس کا فارمولا یوں ہوتا ہے

P= D x V^2
P= Ram pressure
D= Density of the medium
V= Velocity of galaxy relative to the medium

جیمز گن اور رچرڈ گاٹ نے ۱۹۷۲ میں ایک پیپر لکھا جس میں انہوں نے پہلی بار بتایا کہ بعض کہکشاؤں کے جھرمٹوں کے مراکز میں اسپائیرل کہکشاؤں کے نہ ہونے کی وجہ یہ ریم پریئشر ہوتا ہے۔

کہکشائیں ایک فورس سے گیس کو اپنے ساتھ رکھتی ہیں جیمز گن اور رچرڈ گاٹ نے یہ معلوم کیا کہ کہکشائیں جب جھرمٹ میں حرکت کرتی ہیں تو یہ ایک گرم گیس کے اندر حرکت کرنے کی وجہ سے ریم پریئشیر پیدا کرتی ہیں جو اس فورس سے بڑھ جاتا ھے جس سے یہ گیسز کہکشاں کے ساتھ بندھی ہوتی ہیں۔ ان کا یہ تصور مُشاہدات سے مطابقت رکھتا تھا اس سے پہلے تصور کیا جاتا تھا ایسے جھرمٹوں میں اسپائیرل کہکشاؤں کا نہ ہونا کہکشاؤں کے باہمی ٹکراؤ کی وجہ سے ہے، لیکن ایک حقیقت یہ بھی تھی کہ عموماً جھرمٹوں میں اتنی کہکشائیں نہیں ہوتیں کہ یہ ٹکراؤ ممکن ہو سکیں، اس لئے کم از کم اس کوما کلسٹر میں اس کی وجہ ریم پریئشیر کو سمجھا جاتا ہے۔

تحریر: جرار جعفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ پوسٹ ناسا کی ویب سائیٹ کے اس آرٹیکل پر بُنیاد ہے

https://apod.nasa.gov/apod/ap190128.html
———-
The Long Gas Tail of Spiral Galaxy D100
Image Credit & Copyright: NASA, ESA, Hubble, Subaru Telescope, W. Cramer (Yale) et al., M. Yagi, J. DePasquale

Authors & editors: Robert Nemiroff (MTU) & Jerry Bonnell (UMCP)
NASA Official: Phillip Newman Specific rights apply.
NASA Web Privacy Policy and Important Notices
A service of: ASD at NASA / GSFC
& Michigan Tech. U.

About جرار جعفری

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *