شاعری پیج پر حالیہ مضامین

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا ۔ جون ایلیا

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا ذات در ذات ہم سفر رہ کر اجنبی، اجنبی کو بھول گیا صبح تک وجہِ جانکنی تھی جو بات میں اسے شام ہی کو بھول گیا عہدِ وابستگی گزار کے میں وجہ وابستگی کو بھول گیا سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی، اسی کو بھول گیا کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر ایک میں، ہر کسی کو بھول گیا سب …

Read More »

میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے ۔ کامل چاند پوری

میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے یہ زہر میرے لہو میں اتر گیا کیسے کچھ اس کے دل میں لگاوٹ ضرور تھی ورنہ وہ میرا ہاتھ دبا کر گزر گیا کیسے ضرور اس کی توجہ کے رہبری ہو گی نشے میں تھا تو میں اپنے ہی گھر گیا کیسے جسے بھلائے کئی سال ہو گئے کامل میں آج اس کی گلی سے گزر گیا کیسے کامل چاند پوری

Read More »

شام غم کی سحر نہیں ہوتی (ابن انشا)

شام غم کی سحر نہیں ہوتی یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی ہم نے سب دکھ جہاں کے دیکھے ہیں بیکلی اس قدر نہیں ہوتی نالہ یوں نارسا نہیں رہتا آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی چاند ہے کہکشاں ہے تارے ہیں کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی ایک جاں سوز و نامراد خلش اس طرف ہے ادھر نہیں ہوتی دوستو عشق ہے خطا لیکن کیا خطا درگزر نہیں ہوتی رات آ کر گزر بھی جاتی ہے اک ہماری سحر …

Read More »

اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا (جون ایلیا)

اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا اُس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا تُو آج میرے گھر میں جو مہماں ہے، عید ہے تُو گھر کا میزبان نہ ہوا، کچھ نہیں ہوا کھولی تو ہے زبان مگر اس کی کیا بساط میں زہر کی دکاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کیا ایک کاروبار تھا وہ ربطِ جسم و جاں کوئی بھی رائیگاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کتنا جلا ہوا ہوں بس اب کیا …

Read More »

صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے (محسن نقوی)

صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے اب اہلِ جُنوں شہر سے باہر نہیں آتے وہ کال پڑا ہے تجارت گاہِ دل میں دستاریں تو میسر ہیں مگر سَر نہیں آتے وہ لوگ ہی قدموں سے زمیں چھین رہے ہیں جو لوگ میرے قد کے بھی برابر نہیں آتے اِک تم کہ تمہارے لیے میں بھی ؛ میری جان بھی اِک میں کہ مجھے تم بھی میسر نہیں آتے اِس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و …

Read More »

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (احمد فراز)

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ اک عمر سے ہوں لذت گریہ …

Read More »

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا (عدم)

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا ہم اس کے ہو گئے ہمیں جسکا بنا دیا تقدیر نے، فلک نے،محبت نے عشق نے جس نے بھی چاہا میرا تماشہ بنا دیا ویرانیاں سمیٹ کر سارے جہان کی جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا اب تم مرے بنو نہ بنو تم کو ہے اختیار تقدیر نے تو مجھ کو تماشہ بنا دیا ہوتا خدا کا عشق تو بن جاتا اور کچھ بندے کے عشق نے مجھے بندہ …

Read More »

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری (نصیر ترابی)

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری دن جو گزرا تو کسی یاد کی رَو میں گزرا شام آئی، تو کوئی خواب دکھا تے گزری اچھے وقتوں کی تمنا میں رہی عمرِ رواں وقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گزری زندگی جس کے مقدر میں ہو خوشیاں تیری اُس کو آتا ہے نبھانا، سو نبھاتے گزری زندگی نام اُدھر ہے، کسی سرشاری کا اور اِدھر دُور سے اک آس لگاتے …

Read More »

جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں (علی زریون)

جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں میں ایسے عشق پہ ایمان لانے والا نہیں میں پاؤں دھو کے پئیوں یار بن کے جو آئے منافقوں کو تو میں منہ لگا نے والا نہیں نزول کر مرے سینے پہ اے جمال ِ شدید تری قسم میں ترا خوف کھانے والا نہیں بس اِتنا جان لے اے پُر کشش کے دل تجھ سے بہل تو سکتا ہے پر تجھ پہ آنے والا نہیں یہ میری آنکھ میں بھڑکے تو …

Read More »

بچھڑنا ہے تو خوشی سے بچھڑو سوال کیسے،جواب چھوڑو (محسن نقوی)

بچھڑنا ہے تو خوشی سے بچھڑو سوال کیسے،جواب چھوڑو ملی ہیں کس کوجہاں کی خوشیاں ملے ہیں کس کو عذاب چھوڑو نئے سفر پہ جو چل پڑے ہو مجھے خبر ہے کہ خوش بڑے ہو ہے کون اجڑا تمہارے پیچھے یا کس کے ٹوٹے ہیں خواب چھوڑو محبتوں کے تمام وعدے نبھائے کس نے بھللاٰئے کس نے تمہیں پشیمانی ہو گی جاناں جو میری مانو حساب چھوڑو ملے ہو مدت کے بعد جاناں تو کیسا شکوہ گلا بھی کیسا تمہیں …

Read More »