شاعری

صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے (محسن نقوی)

صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے اب اہلِ جُنوں شہر سے باہر نہیں آتے وہ کال پڑا ہے تجارت گاہِ دل میں دستاریں تو میسر ہیں مگر سَر نہیں آتے وہ لوگ ہی قدموں سے زمیں چھین رہے ہیں جو لوگ میرے قد کے بھی برابر نہیں آتے اِک تم کہ تمہارے لیے میں بھی ؛ میری جان بھی اِک میں کہ مجھے تم بھی میسر نہیں آتے اِس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و …

Read More »

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (احمد فراز)

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ اک عمر سے ہوں لذت گریہ …

Read More »

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا (عدم)

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا ہم اس کے ہو گئے ہمیں جسکا بنا دیا تقدیر نے، فلک نے،محبت نے عشق نے جس نے بھی چاہا میرا تماشہ بنا دیا ویرانیاں سمیٹ کر سارے جہان کی جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا اب تم مرے بنو نہ بنو تم کو ہے اختیار تقدیر نے تو مجھ کو تماشہ بنا دیا ہوتا خدا کا عشق تو بن جاتا اور کچھ بندے کے عشق نے مجھے بندہ …

Read More »

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری (نصیر ترابی)

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری دن جو گزرا تو کسی یاد کی رَو میں گزرا شام آئی، تو کوئی خواب دکھا تے گزری اچھے وقتوں کی تمنا میں رہی عمرِ رواں وقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گزری زندگی جس کے مقدر میں ہو خوشیاں تیری اُس کو آتا ہے نبھانا، سو نبھاتے گزری زندگی نام اُدھر ہے، کسی سرشاری کا اور اِدھر دُور سے اک آس لگاتے …

Read More »

جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں (علی زریون)

جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں میں ایسے عشق پہ ایمان لانے والا نہیں میں پاؤں دھو کے پئیوں یار بن کے جو آئے منافقوں کو تو میں منہ لگا نے والا نہیں نزول کر مرے سینے پہ اے جمال ِ شدید تری قسم میں ترا خوف کھانے والا نہیں بس اِتنا جان لے اے پُر کشش کے دل تجھ سے بہل تو سکتا ہے پر تجھ پہ آنے والا نہیں یہ میری آنکھ میں بھڑکے تو …

Read More »

نثر

منیر نیازی ۔ کچھ یادیں کچھ باتیں

منیر نیازی 09 اپریل 1928ءکو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اردو کے 13 اور پنجابی کے 3 شعری مجموعے یادگار چھوڑے جن میں اس بے وفا کا شہر‘ تیز ہوا اور تنہا پھول‘ جنگل میں دھنک‘ دشمنوں کے درمیان شام‘ سفید دن کی ہوا‘آغاز زمستاں میں دوبارہ، سیاہ شب کا سمندر‘ ماہ منیر‘ چھ رنگین دروازے‘ ساعت سیار، پہلی بات ہی آخری تھی، ایک دعا جو میں بھول گیا تھا، محبت اب نہیں …

Read More »

رقیب سے . فیض احمد فیض

فیض احمد فیض کی نظم ‘ رقیب سے ‘ میں رقیب کی نشاندہی میرے مطالعہ میں سب سے پہلے سعادت حسن منٹو کے ایک خاکہ مین ملتی ہے ” محسن کی ایک بہن(ڈاکٹر رشید جہاں) نے تو ایسے پرپرزے نکالے تھے کہ حد ہی کردی تھی۔۔۔۔۔۔ میں ان دنوں ایم۔ اے۔او کالج، امرتسر میں پڑھتا تھا۔ اس میں ایک نئے پروفیسر صاحبزادہ محمود الظفر آئے۔ یہ ڈاکٹر رشید جہاں کے خاوند تھے۔ میں بہت پیچھے چلا گیا ہوں لیکن واقعات …

Read More »

اردو کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مصنف مستنصر حسین تارڑ آج 80 برس کے ہوگئے۔

مستنصر حسین تارڑ یکم مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ آبائی تعلق گجرات سے ہے. والد رحمت خان تارڑ گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے. مستنصر حسین تارڑ کا بچپن بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں گزرا جہاں سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ اُنھوں نے مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی ۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایف اے کے بعد …

Read More »

اُردُو زُبان کا خون کیسے ہوا ؟

اُردُو زُبان کا خون کیسے ہوا ؟ اور ذمہ دار کون ہے؟ یہ ہماری پیدائش سے کچھ ہی پہلے کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔۔ لیکن ابھی تک انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔ صرف انگریزی کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے، مثلا”: ہیڈ ماسٹر، فِیس، فیل، پاس وغیرہ “گنتی” ابھی “کونٹنگ” میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اور “پہاڑے” ابھی “ٹیبل” نہیں کہلائے تھے۔ 60 کی دھائی میں …

Read More »

حضرت جگر مرادآبادی کا ایک طوائف سے مقالمہ

حضرت جگر مرادآبادی مستی کے عالم میں کئی کئی مہینوں گھر سے باھر رھتے تھے۔ ایک دن جو بے قراری بڑھی تو اُن کے قدم ایک طوائف کے گھر پہنچ گئے ۔ اُس کا نام روشن فاطمہ تھا۔ حسین، شوخ، چنچل، کمسن۔ “حضور کی تعریف؟ ” اُس نے پوچھا۔ جگر آنکھیں جُھکائے اُس کے سامنے کھڑ ے تھے۔ شاید نگاہ بھر کے اُسے دیکھا تک نہیں تھا۔ جواب میں دو شعر پڑھ دئیے۔ سراپا آرزو ھوں ،،،، درد ھوں ،،،،، …

Read More »

افسانے

ذمہ داری اور احساس ذمہ داری

چند ہفتے پہلے ایک ٹریفک سگنل پر ایک بوڑھا شخص پلاسٹک کے لفافے میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بیچ رہا تھا، مجھے اس بوڑھے پر ترس آگیا اور 80 روپے کے دو لفافے خرید لئے جن میں ٹوٹل چار مچھلیاں تھیں۔ ساتھ میں ایک چھوٹا سا خوراک کا پیکٹ بھی لے لیا۔ پیکٹ خرید کر گاڑی میں رکھ لئے، ارادہ تھا کہ کسی چھپڑ وغیرہ میں ڈال دوں گا کیونکہ ایسی مچھلیاں بچپن میں جب بھی خریدیں، چند گھنٹوں کے اندر …

Read More »