Home / سائنس / آئین سٹائن کا دماغ

آئین سٹائن کا دماغ

اس صدی کے سب سے معروف سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے 17 اپریل 1955ء کو نیو جرسی کے پریسٹن ہسپتال میں وفات پائی۔ اپنی موت سے پہلے آئن سٹائن کی واضح ہدایات تھیں کہ اس کے دماغ اور جسم کو ریسرچ کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔ وہ اپنی آخری تدفین تو چاہتا تھا مگر وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ لوگ اس کو پوجنے لگیں  اس لئے اس نے کہا کہ اس کی راکھ کو خاموشی سے بہا دیا جائے۔

آئن سٹائن کی وفات سترہ اپریل کی صبح کو ہوئی اور اگر اسے پتہ چل جاتا کہ اس کے دماغ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے تو وہ اس سے قبل ہی زندہ درگور ہو جاتا ۔ ڈاکٹر تھامس ہاروی نامی پیتھالوجسٹ جو کہ اس رات ہسپتال میں ڈیوٹی پر تھا ، نے عظیم سائنسدان کا دماغ چرا لیا ۔ ڈاکٹر ہاروی کا کہنا تھا کہ وہ جانتا تھا کہ انھیں آٹوپسی کی اجازت تھی اور اس کا خیال تھا کہ دماغ کو بعد میں ریسرچ کے لئے استعمال کیا جائے گا لیکن بعد میں  جب رپورٹر زنے معاملے کی تحقیق کی تو انہیں پتہ چلاکہ ڈاکٹر ہاروی کو آٹوپسی کرنے اور آئن سٹائن کا دماغ نکالنے کی اجازت کسی نے نہیں دی۔ کچھ دنوں بعد جب یہ راز فاش ہوا تو ہاروی نے آئن سٹائن کے بیٹے ہانس البرٹ سے التجا کی کہ دماغ پر کی جانے والی سٹڈی مکمل طور پر سائنس کی خدمت کے لئے ہو گی لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ ڈاکٹر ہاروی نے دنیا کا عظیم دماغ چرانے پر ہی بس نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سائنسدان کی آنکھیں بھی نکال لیں۔ جو اس نے بعد میں آئن سٹائن کے ڈاکٹر ہنری ابرامز کو دے دیں ۔ جو کہ تاحال نیو یارک شہر میں ایک محفوظ ڈبے میں پڑی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ نیلامی کرنے کے لئے انھیں زہر آلود کیا جاتا ہے ۔ابرامز کا کہنا ہے کہ ‘پروفیسر کی آنکھیں رکھنے کا مطلب ہے کہ اس کی زندگی ابھی تک ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا ایک حصہ میرے ساتھ موجود رہتا ہے’۔ اس کو بھی ہاروی کی طرح آنکھیں اپنے پاس رکھنے کے لئے قانونی اجازت نہیں تھی۔

ڈاکٹر ہاروی نے دماغ واپس کرنے سے انکار کر دیا اور اسے پرسٹن ہسپتال کی نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ہاروی نے آئن سٹائن کا دماغ کیوں چرایا؟اس کے مختلف جوابات ہیں۔

ایک خیال تو یہ ہے کہ وہ آئن سٹائن کے غیر معمولی دماغ کے بارے میں جان کر سائنس کے میدان میں کوئی عظیم سائنسی دریافت کرنا چاہتا تھا ۔ اس کا یہ خواب پورا  نہ ہو سکا کیونکہ وہ کوئی دماغ کا اسپیشلسٹ نہیں تھا۔

ایک خیال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ہاروی نے آئن سٹائن کے پرسنل ڈاکٹر ہیری زمرمین کے کہنے پر چوری کیا لیکن وہ دماغ کو اپنے گھر لے گیا اور اس کے دو سو چالیس ٹکڑے کر کے سیلولوز کے محلول میں محفوظ کر کے تہہ خانے میں چھپا دیا۔برائن پرل نے اپنی کتاب  ‘پوسٹ کارڈز فرام دی برین میوزیم’  میں لکھا کہ جب ہاروی کی بیوی نے اس کو دماغ گرا کر ضائع کر دینے کی دھمکی دی تو وہ اس کو لے کر مغرب کی طرف چلا گیا۔ جہاں کینساس میں اس نے ایک بیالوجیکل لیب میں میڈیکل سپروائزر کی نوکری کر لی تھی۔ اس نے دماغ کو وہاں بیئر کولر کےنیچے ایک ڈبے میں چھپا کر رکھ دیا۔وہاں سے وہ میسوری چلا گیااو اپنے فارغ وقت میں دماغ کی سٹڈی کرتا رہا ۔وہاں ایک تین روزہ امتحان میں ناکام ہونے کے بعد 1988ء میں اس کا میڈیکل لائسنس ضبط کر لیا گیا۔ وہ دوبارہ کینساس لوٹ آیااور پلاسٹک کی ایک فیکٹری میں ملازمت شروع کر دی۔جہاں وہ اپنے دوست ولیم بروز کو دماغ کے بارے میں کہانیاں بنا بنا کر سنایا کرتا تھاکہ وہ دماغ کے حصے کر کے دنیا بھر میں ریسرچرز کو بھیجتا ہے۔ بروز نے لوگوں کے سامنے شیخی بگھارنا شروع کر دی کہ وہ جب چاہے آئن سٹائن کے دماغ کا ٹکڑا حاصل کر سکتا ہے۔

1988ء میں امریکی صحافی اسٹیون لیوی نے آئن سٹائن کا دماغ  دوبارہ ڈھونڈ نکالا۔ اس نے کینساس میں پیتھالوجسٹ کا پیچھا کیا اور ایک آرٹیکل میں لکھا کہ اس نے آئن سٹائن کا دماغ ڈھونڈ لیا ہے۔ اس نے ڈاکٹر ہاروی سے کہا کہ وہ آئن سٹائن کے دماغ کے بارے میں ایک کہانی لکھنا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر نے پہلے تو اس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا بعد میں اس نے بڑے فخر سے بتایا کہ وہ دماغ پر ایک عظیم اسٹڈی کر رہا ہے۔ لیکن یہ ایک جھوٹ تھا کیونکہ پچیس سال بعد بھی ایسی کوئی چیز منظر عام پر نہیں آئی تھی۔ جب صحافی نے ہاروی کو دماغ کی کچھ تصویریں دکھانے کو کہا تواس نے کمرے کے کونے میں موجود بئیر کولر کے نیچے رکھے لکڑی کے ڈبے کو نکالااور اس میں دنیا کا ذہین ترین دماغ تھا۔

2005ء میں آئن سٹائن کی پچاسویں برسی کے موقعے پر بانوے سالہ ہاروی نے ایک انٹرویو کے دوران دماغ کے بارے میں تفصیل بتائی۔ ہاروی 5 اپریل 2007ء کو یونیورسٹی میڈیکل سنٹر پرسٹن میں وفات پا گیا۔ 2010ء میں ہاروی کے ورثا نے اس کی تمام چیزیں جن میں آئن سٹائن کا دماغ بھی شامل تھا واشنگٹن کے نزدیک میری لینڈ میں نیشنل میوزیم آف ہیلتھ اینڈ میڈیسن کو دے دیا جس میں مکمل دماغ کی لی گئی چودہ تصویریں بھی تھیں۔ اب فیلیڈیلفیا میں مٹر میوزیم کے پاس آئن سٹائن کے دماغ کے چھیالیس چھوٹے ٹکڑے ہیں۔ دنیا میں صرف دو جگہیں ہیں جہاں آئن سٹائن کے دماغ کے ٹکڑے دیکھے جا سکتے ہیں جن میں سے ایک مٹر میوزیم ہے۔ مین میوزیم گیلری میں شیشے کی سلائیڈز میں دماغ کے ٹکڑوں کو رکھا گیا ہے۔

البرٹ آئن سٹائن کو یہ شک تھا کہ اس کی مرضی کے بغیراس کے دماغ کا مشاہدہ کیا جائے گااور اس کو یہ بھی پتہ تھا کہ سائنسدانوں کو ایسا کچھ نہیں ملے گا جو دنیا میں ان کے کسی کام آ سکے اور وہ کبھی اس کی غیر معمولی ذہانت کے بارے میں نہیں جان سکیں گے۔ غالبا اسی وجہ سے آئن سٹائن نے کہا تھا کہ

“ہر وہ چیز جس کی گنتی ہے ،گنی نہیں جا سکتی اور ہر وہ چیز جو گنی جا سکتی ہے، اسکی گنتی نہیں ہے۔”

About سحر عندلیب

سحر عندلیب خود اپنی تلاش اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ایک طالب علم ہیں۔ شعبہ تعلیم سے تو وابستہ ہیں مگر سمجھتی ہیں کہ ابھی بھی علم کے سمندر کا ایک قطرہ بھی حاصل نہیں کر سکیں بہت کچھ سیکھنا باقی ہے اس بلاگ پر اور دیگر کئی ویب سائٹس اور فیس بک گروپس میں سحر عندلیب کے مضامین باقاعدگی سے پوسٹ ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *