Home / عمومی / آئس نشہ اور پاکستانی تعلیمی اداروں میں خوفناک حد تک ان کے استعمال میں اضافہ

آئس نشہ اور پاکستانی تعلیمی اداروں میں خوفناک حد تک ان کے استعمال میں اضافہ

آئس نشہ یا کرسٹل میتھ مخصوص وقت کیلئے جسم کو جگانے والی ایک کیمیکل ہے یعنی چائے یا کافی کی طاقت کو 1000 میں ضرب دیا جائے تو آئس نشہ کہلا سکتے ہیں
آئس نشہ کیا ہے؟
آئس نشہ ایک میتھ ایمفٹامین یا ایفیڈرین نامی کیمیکل سے تیار کی جاتی ہے ایفیڈرین پناڈول، پیراسٹامول،ویکس اور نزلہ زکام کی ادوایات میں استعمال کی جاتی ہے
ایک تو براہ راست ایفیڈرین یا میتھ ایمفٹامین حاصل کرنا اور آئس یا کرسٹل میتھ کیلئے استعمال کرنا
دوسرا طریقہ مارکیٹ سے زائد المعیاد ادوایات پناڈول ،پیراسٹامول،ویکس، نزلہ زکام کی ادوایات لینا اور ان سے ایفیڈرین اور ڈی ایکس ایم نکال کر ان سے آئس نشہ تیار کی جاتی ہے

یہ باریک شیشے عموما بلب کی شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے جو سونگھنے اور سانس کے ذریعے لی جاتی ہے
انجکشن کی صورت میں بھی لگائی جاتی ہے

یہ چونکہ ایک کیمیکل سے تیار کی جانے والی ڈرگ ہے جو باآسانی کہیں بھی تیار کی جاسکتی ہے جوکہ پیروئین،افیون ،چرس وغیرہ جو کاشت سے لیکر اسمگلنگ تک مشکل اور دشوار مراحل سے گزر کر استعمال کرنے والے تک پہنچتی ہیں
آئس نشہ شروع میں 8ہزار سے 9 ہزار تک فی گرام دستیاب ہوتی جن کا استعمال ایلیڈ کلاس میں زیادہ تھی
اب چونکہ مختلف کیمیکلز کے استعمال سے مارکیٹ میں 1500 سے 3000 روپے فی گرام دستیاب ہے
جو کہ عام عوام کی پہنچ سے دور نہیں

ڈساکسن ایک برانڈ نام ہے (میتھم فیٹامین ہائڈروکلورائیڈ) کو قانونی طور سے بنایا جاتا ہے اور اس کو طبی طور سے توجہ مرکوز نہ کر پانے کی بیماری ADHD (Attention Deficit Hyperactivity Disorder) میں استعمال کروایا جاتا ہے اور اس کا شکار عموماً بچے ہیں جس کو پوری دنیا میں ایک قانونی حیثیت حاصل ہے بطور علاج

آئی این سی بی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2013 سے 2017 تک ایفیڈرین کی مانگ پر تشویش کا اظہار کیا ہے پاکستانی میڈیسن کمپنیاں سالانہ تقریبا 50 ٹن ایفیڈرین درآمد کر رہی ہے آئی این بی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیسن کمپنیاں ایفیڈرین کی درآمد اور استعمال پر کنٹرول کرے
اس سلسلے میں 2006 میں سپریم کورٹ کے احکامات بھی شامل ہیں کہ 15دن کے اندر اندر زائد ایکسپائر شدہ میڈیسن کو تلف کیا جائے جن پر تاحال عمل نہ ہوسکا

 

استعمال کا مقصد :-
اعصابی نظام سنٹرل نروس سسٹم کو کچھ وقت کیلئے محرک کر دیتا ہے جس کی بدولت 24 سے 48 گھنٹے تک استعال کرنے والا جاگ سکتا ہے اس دوران نیند بالکل نہیں آتی اور کچھ وقت کیلئے انسانی دماغ زیادہ تیزی سے کام کرنا شروع کردیتا ہے
زیادہ دیر تک کچھ نہ کھانا ،بہت زیادہ پرامید رہنا،تیزی سے بولنا

 

انسانی جسم پر منفی اثرات:-
1- اعصابی نظام میں موجود پیغام رساں ایجنٹ نیورون کا خاتمہ یا ان کی تعداد خطرناک حد تک کم کرنا
2- The Hippocampus damage
پرانی باتوں یا چیزوں کی یاداشت ختم اور نئی چیزوں کو سیکھنے کے عمل کو متاثر کرنا
3- The Ctriatum damage
جسمانی حرکات کے جاننے کے عمل کو تباہ کرنا
4- Prefrontal cortex damage
حساس حصہ ہے جو پیچیدہ مسائل حل کرنے اور توجہ حاصل کرنا اس کا کام ہے کی تباہی

 

دیرپا علامات:-
وہم کرنا ، بات کو بار بار دہرانا
توجہ نہ دینا ، حافظہ تباہ ہونا اور صحیح فیصلہ نہ کرنا
وزن میں بہت زیادہ کمی ، خود اور دوسروں پر تشدد کرنا

 

پاکستان کے اندر اس لعنت میں تقریبا 20 سے 25 فیصد یونیورسٹیوں کالجز اور سکولز کے طلباء و طالبات مبتلا ہیں جن میں لڑکیوں کی خاصی تعداد شامل ہیں
صرف پشاور کے اندر تقریبا 10 ہزار لوگ آئس نشے میں مبتلا ہوچکے ہیں
آئس نشے کے کاروبار میں ایک پورا مافیا ملوث ہے جو کچھ مقدار افغانستان اور ایران سے اسمگل کر رہے ہیں جو زیادہ تر ایکسپائر شدہ ڈرگز کی صورت میں ہے جبکہ باقی یہاں مقامی طور پر تیار کی جاتی ہے
ان کا ٹارگٹ زیادہ تر یونیوسٹیز اور کالجز کے طلباء و طالبات ہیں

حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ میں کرسٹل میتھ کی شکل میں 7ہزار گولیاں پکڑی گئی جو پاکستان میں تیار کی گئی تھی
یعنی پاکستان کے تھرو دوسرے ممالک میں بھی اسمگل کی جارہی ہے

پاکستان کے اندر 2005 سے لیکر 2016 تک نشے سے متاثرہ افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے اور بین سطح پر بھی
اقوام متحدہ کے رپورٹ کے مطابق 2003 میں منشیات کی اسمگلنگ سے 320 ارب کا بزنس کیا گیا جبکہ 2016 میں 500 ارب ڈالر تک بڑھ گیا
پوری دنیا میں ایک ڈرگ مافیا لعنت کو پھیلانے میں ملوث ہے جو اربوں ڈالر کما رہے ہیں

پاکستان کے تعلیمی اداروں کے اندر نشےکی بڑھتی ہوئی شرح کے بدولت حکومت نے تعلیمی اداروں کے اندر بچوں کا آئس یا ڈرگز ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس ادارے کے بچے اس لعنت میں پائے گئے ان کو بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا
اللہ کرے حکومت اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور ہمارے اور آپ کے بچے اس لعنت سے بچ سکے اسد وزیر

#Copied

About محمد علی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *